قران میں اللہ کی بہت سی صفات ہیں کچھ مرکب ہیں اور کچھ مفرد معاملہ اسے صرف رب کہنے سے بھی سمجھا جاسکتا تھا مگر العلمین کا لفظ لگانے کی ضرروت محسوس کی گئی تاکہ ربوبیت کا احاطہ طے ہوسکے کہ کہاں کہاں تک اس کی ربوبیت ہے کس کس صدی میں کس کس جگہ پر اسی لئے عالم کا لفظ جگہ کے لئے بھی اور وقت کے لئے بھی اور کیفیت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے تاکہ وضاحت ہوسکے اللہ کی ایک صفت واحد ہونا ہے واحد ہونا احد سے اس طرح مختلف ہے کے واحد ہونا ایک ہونے کے قریب ہے اور احد ہونا بے مثال ہونے کے قریب ہے ویسے یہ دونوں واحد اور احد ہم معانی نظرآتے ہیں ، خدا ایک ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی چڑیا کا بھی اتنا ہی خدا ہے جتنا وہ کسی انسان کا وہ کسی عیسائی کا بھی اتنا ہی خدا ہے جتنا وہ کسی مسلم کا اور کا وہ کسی امیر کا بھی اتنا ہی خدا ہے جتنا کسی غریب کا یہ اس کی واحدنیت کا تقاضہ ہے کہ وہ مخلوق کا خدا ہونے میں واحد رہے اور اس کی یہ صفت ہے کہ وہ اپنی واحدانیت کی خوب حفاظت کرنے والا ہے جو کائنات کی ہر ہر شے کا محافظ ہو وہ اپنی صفات کی کتنی حفاظت کرتا ہوگ. مسلسل محبت اور مسلسل لحاظ اور مسلسل درگزر انسان کی عادتیں خراب کردیتا ہے ۔۔ جو بھی قرآن سے زرا سی بھی دلچسپی رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ 9 ویں سورت یعنی صورت ایسی ہے کہ اللہ رحمان اور رحیم نہیں ہے ۔۔ رحمان اور رحیم نہ ہونے کا مطلب ہے کہ نہ تو وہ سب کے لئے رحم رکھتا ہے اور نہ انفرادی طور پر رحم رکھتا ہے ۔۔ کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں خدا اس جگہ بہت مختلف ہوجاتا ہے ایک مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ پانی بھی دن کے وقت حرام کردیتا ہے ، یہ جو اللہ کا یکدم مختلف ہونا ہوتا ہے یہ بے وجہ نہیں ہوتا ایک بہت بڑی زیادتی اور کی گئی ہے کہ لوگوں نے اللہ کے 99 ناموں میں اللہ کا نام اکبر شامل نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے اس بات کا نوٹس لیا حالانکہ بڑے بڑے امام ان ناموں کے اندراج میں شامل تھے اماموں کے نام گنوانا شروع کروں گا تو اہل بیت کے امام بھی آئیں گے اور حدیث کے بھی بڑے بڑے امام آئیں گے اور ازان اکبر کے نام کے بغیر دی نہیں جاسکتی رکوع میں اس نام کے بغیر جایا نہیں جاسکتا سجدے سے اٹھنے کے لئے یہ نام درکار ہے حلال جانور حلال کرنے کے لئے یہ نام درکار ہے اور 99 ناموں سے یہ نام غائب ہے کا ش آپ یہ تحقیق کرنے کے قابل ہوں کہ 99 نام پورے کرنے میں اللہ کے ناموں کو شامل کرنے میں کون کون لوگ شامل تھے اور کس کس نے کون کون سا نام داخل کیا ۔۔ ۔۔ اکبر کے نام کو چھوڑ دینا کیا یہ غلطی چھوٹی غلطی ہے یہ غلطی کیوں ہوئی اس کے پیچھے ایک داستان ہے اللہ کے نام 99 سے زیادہ ہیں مگر ہم مجبور ہیں کہ ہم کہیں کہ اللہ کے 99 نام ہیں کیونکہ جس کی زبان سے یہ 99 کا عدد نکلا ہے اس کے ہونٹ خدا نے اپنے بولنے کے لئے لے رکھے تھے چاہے گنتی سیکنڑوں تک چلی جائے ہم کہیں گے کہ اللہ کے 99 نام ہیں قرآن گواہ ہے کہ اللہ نام 99 سے زیادہ ہیں مگر ہم رسول کی بات مانیں گے ۔۔۔ کیونکہ قرآن نے گنتی نہیں کی رسول نے گنتی کرکے بتایا ہےیاد رہے کہ سورت توبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بغیر پڑھی جاتی ہے ۔۔ سب سے پہلے 99 کے عدد کو سمجھنا ضروری ہے ۔۔ اس عدد میں نوکا عدد دو مرتبہ ہے 9 ایک مرتبہ اور پھر 9 اک مرتبہ یعنی جہاں کہیں بھی 9 کا عدد دو مرتبہ ہو اور قریب قریب ہو تو سمجھ لو رب اپنی نشانی چھوڑنا ضروری سمجھ رہا ہے تاکہ اس تک پہنچا جاسکتے یہ معاملہ ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی کام کرے اور پھر اپنے شناختی کارڈ کی کاپی وہاں چھوڑ کر چلا جائے کہ اگر کوئی سوچے کہ ہی کس نے کیا تو مشکل پیش نہ آئے کون آیا تھا ٓٓ رب العلمین کے مطلب ہے کہ اللہ ہی رب تھا جب باپ چاہا رہا تھا کہ بیٹا میرے ہاتھوں ذبح ہوجائے نہیں ہوا اللہ ہی رب تھا جب 313 ہزار سے لڑرہے تھے اور اللہ ہی رب تھا جب کربلا جاری تھی تو ان میں کیا عوامل تھے کہ نتائچ الگ الگ ہیں .
![]()

