قطر کے اہم صنعتی شہر راس لفان انڈسٹریل سٹی میں واقع ایل این جی پلانٹ میں دھماکے سے پاکستانی اور بھارتی شہریوں سمیت 13 افراد جاں بحق جب کہ 66 افراد زخمی ہوگئے۔ دوسری طرف ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ واقعے میں 3 پاکستانیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن تصدیق کے لیے قطری حکومت سے رابطہ کیا ہے۔
پیر کو سرکاری توانائی کمپنی قطر انرجی نے بتایا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ کے قریب واقع راس لفان انڈسٹریل سٹی میں دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پلانٹس میں سے ایک میں ہونے والے زوردار دھماکے سے خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔
خبر رساں ادارے گلف نیوز کے مطابق دھماکا بارزان گیس سپلائی مرکز میں اس وقت ہوا جب ایران جنگ میں پلانٹ کی بندش کے بعد دوبارہ آپریشن شروع کرنے کا عمل جاری تھا۔
قطری حکام کا کہنا ہے کہ دھماکا ایک تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا جس کے بعد پلانٹ میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جو تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔ واقعے کے ابتدائی گھنٹوں میں 18 افراد لاپتہ اور 54 زخمی رپورٹ ہوئے تھے۔
سول ڈیفنس اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جب کہ دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 13 تک پہنچ گئی ہے، جن میں پاکستانی اور بھارتی شہری شامل ہیں۔
دھماکے میں مجموعی طور پر 66 افراد بھی زخمی ہوئے، جن میں قطری، تنزانیہ، بھارت، پاکستان، گنی، نیپال، بنگلہ دیش، کینیا اور نائیجیریا کے شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق کسی بھی زخمی کی حالت تشویشناک نہیں۔
قطر انرجی کا کہنا تھا کہ دھماکے اور آگ لگنے کے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جب کہ دھماکے سے ملک کی ایل این جی برآمدات، گیس کی تنصیبات یا راس لفان بندرگاہ کے آپریشنز متاثر نہیں ہوئے اور تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
قطر انرجی کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دھماکے کی اصل وجہ اور جاں بحق افراد کی مکمل شناخت سے متعلق مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
قطر انرجی نے عالمی منڈیوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اس حادثے کے باوجود قطر کی ایل این جی برآمدات، گیس پروسیسنگ کی سرگرمیاں اور راس لفان بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
زخمیوں کی تصدیق کیلئے قطر سے رابطے میں ہیں: دفتر خارجہ
دوسری جانب قطر میں گیس پروسسنگ پلانٹ میں میں دھماکے کے بعد آتشزدگی کے واقعے میں پاکستانی شہریوں کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آنے پر ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں 3 پاکستانیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن تصدیق کے لیے قطری حکومت سے رابطہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق واقعے سے متعلق حتمی صورت حال مصدقہ معلومات موصول ہونے کے بعد ہی بتائی جا سکے گی۔
واضح رہے کہ راس لفان انڈسٹریل سٹی دنیا کے اہم ترین توانائی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں ایل این جی کی پیداوار، پروسیسنگ اور برآمدات کے بڑے منصوبے قائم ہیں۔
راس لفان کا صنعتی علاقہ حالیہ برسوں میں خطے میں کشیدگی اور توانائی تنصیبات پر حملوں کے باعث بھی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ قطر دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس برآمد کنندگان میں شامل ہے اس لیے اس مرکز میں پیش آنے والے اس بڑے حادثے نے عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورت حال پیدا کردی ہے۔
اس سے قبل مارچ میں بھی راس لفان انڈسٹریل سٹی میں ایرانی میزائل حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے بعد گیس کی پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی تھی۔
![]()
