Daily Roshni News

لفظ متکبر کا ترجمہ ؛۔۔۔تحریر ۔۔۔۔۔۔ سید اسلم شاہ

جو لوگ اللہ کو قریب سےجانتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ وہ بہت ہی زیادہ متکبر ہے اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے ۔ متکبر کے لفظ کا ترجمہ کیسے ہوگا کیا ہوگا ۔۔۔ فقیر کہتے ہیں کہ متکبر کا ترجمہ نہ کیا کرؤ بس متکبر کے کام کرنے کا طریقہ دیکھ لیا کرؤ مطلب خود سمجھ آجائے گا ۔۔۔۔ چلیں فقیروں کی بات مان لیتے ہیں ۔۔۔ متکبر کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرکے مارتا ہے مارتا کم ہے ۔۔۔ رسوا زیادہ کرتا ہے ۔۔۔ ایک آخری بات رہ گئی اس ساری اوپر والی تحریر میں کہ رسوا کیسے کرتا ہے ۔۔۔ اگر آپ اس بات کو سمجھ گئے کہ وہ رسوا کیسے کرتا ہے تو یہ سمجھ آجائے گی کہ متکبر کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کا یہ کہنا ہے کہ میرا دشمن جتنا بڑا ہوگا میں اس کو اتنے ہی چھوٹے دوست کے ہاتھ سے مرواؤں گا ۔۔۔۔ اس کائنات کے رب نے ابو جہل کو علی ابو بکر عثمان کے ہاتھ سے نہیں مروایا بلکہ دو چھوٹے بچوں سے مروایا ہے جنہوں نے کبی کسی کو تھپڑ بھی نہیں مارا تھا حدیث کی کتابیں اٹھا لو ابوجہل کے مرنے کا قصہ لکھا ہوا ہے ۔۔۔ وہ آخری سانس تک صرف یہ کہہ رہا تھا کہ مجھ سے بڑا سردار اس دن کوئی نہیں مرا اور مجھے کسی بڑے شخص نے نہیں مرا یہ دکھ لے کر وہ زندگی سے چلا گیا اور یہ رب کی شان ہے اس کی بے نیازی ہے ۔ ابرہہ یہ کہتا ہوا مرا تھا کہ میرے ہاتھیوں کو مارنے والا تو کوئی بھی نہیں تھا ایک چھوٹے پرندے نے مجھے رسوا کیا ہے ۔۔۔ افغانستان اور نیٹو اور ناجانے کتنے ممالک آج تک سوچ رہے ہیں کہ ہم نے شکست کھائی ضرور ہے مگر اتنے لاچار لوگوں سے اتنے لاچار لوگوں سے جن کے پاس دو وقت کی روٹی بھی نہ تھی چار چار دن کے فاقے کرنے والے کیسے ہمیں رسوا کرسکتے ہیں رسوائی معلوم ہے کیا ہے کہ رات کے اندھیرے میں یہ لوگ بھاگے ہیں رات کے اندھیرے میں بھاگنا کوئی بڑی بات نہیں ہے غلطی ان سے یہ ہوئی ہے کہ جو آخری فوجی کی تصویر انہوں نے پوری دنیا کو خود پیش کی وہ رات کو کام کرنے والے کیمرے کی تھی یعنی ساری دنیا کو قیامت تک کے لئے بتادیا خود بتا دیا کہ ہم رات کو ڈرتے ہوئے بھاگے ہیں اگر ہم فلش چلا کر تصویر اتارتے تو گولی چل سکتی تھی ۔۔۔۔ متکبرکی یہ پہچان ہے وہ مارتا کم ہے رسوا زیادہ کرتا ہے لیکن وہ سارے کام کرتے ہوئے ایک بات کا خیال ضرور رکھتا ہے کہ اگر کوئی سیانا اگر کوئی سمجھدار ان ساری باتوں کو سمجھنے کے لئے آئے تو اسے کوئی نہ کوئی نشانی میرے ضرور مل جائے ۔۔۔ تاکہ وہ لوگوں کو بتائے کہ اصل معاملہ کیا ہے ۔۔۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ قرآن میں ہر شے لکھی ہویئ ہے وہ اپنا انتقام لیتے ہوئے دو باتوں کا خیال رکھتا ہے بڑا سخت خیال رکھتا ہے وہ یہ کہ میرے نام پر کسی طرح کا حرف نہ آئے ۔۔۔۔۔ اب غور سے سنو ۔۔ اس کا نام اللہ ہے اور اللہ الف سے ہے ۔۔۔ وہ کبھی ابلیس کو سزا نہیں دے گا پہلے اس کا نام شیطان رکھے گا ٓپھر اسے دھتکارے گا ۔۔۔امریکہ کے نام میں ایک الف آتا ہے اس لئے اسے کوئی ایک الف والا نہیں مارے گا وہ تین الف والاڈھونڈ کر لائے گا ۔۔۔۔ یہ اس کا تکبر ہے ابرہہ کے ایک الف کو وہ ابابیل کے دو الف سے مرواتا ہے ۔۔۔ ابو جہل کے ایک الف کو انصاری اطفال کے الفوں سے مرواتا ہے ۔۔۔ اس کے تکبر کا اندازہ کرؤ ۔۔ فقیر معلوم ہے کیا کہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی بندہ قرآن سمجھ نہیں سکتا جب تک کہ وہ یہ حدیث نہ سمجھ لے ۔۔۔۔۔۔مسلم کی حدیث نمبر 1899۔۔ ‏‏‏‏ عبدالرحمٰن (فرزند عبدالقاری کے) نے کہا سنا میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہ کہتے تھے: میں نے ایک دن سیدنا ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو سورۂ فرقان پڑھتے سنا کہ اور لوگوں کے خلاف پڑھتے تھے اور یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو پڑھا چکے تھے سو میں قریب تھا ان کو جلد پکڑ لوں مگر میں نے انہیں مہلت دی یہاں تک کہ پڑھ چکے پھر میں نے ان کی چادر ان کے گلے میں ڈال کر کھینچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک لایا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے ان سے سورۂ فرقان سنی۔ خلاف اس کے جیسے کہ آپ نے مجھے پڑھائی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا ان کو چھوڑ دو اور ان سے کہا پڑھو۔“ پھر انہوں نے ویسا ہی پڑھا جیسا میں نے ان سے پہلے سنا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ہی اتری ہے۔“ پھر مجھ سے کہا: ”پڑھو۔“ میں نے بھی پڑھی (یعنی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پڑھائی تھی) تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی ہی اتری ہے۔“ اور فرمایا: ”بات یہ ہے کہ قرآن سات حرفوں میں اترا ہے اس میں سے جو تم کو آسان ہو اس طرح پڑھو۔“ اب ہم گڑ بڑ اس حدیث میں یہ کرتے ہیں کہ حرفوں کی جگہ قرآت لگا کر مطلب کچھ اور کردیتے ہیں ۔۔۔ حدیث کے عربی اور اردو دونوں متن میں ۔۔۔۔ سات حرفوں کی بات ہے ۔۔۔ سات حرفوں کی ۔۔۔۔ یہ حدیث اس لئے بیان کرنی پڑ گئی کیونکہ ۔۔۔ الف کے حرف کا ایک اور قرات سے پڑھنا ہے تاکہ معاملہ مزید کھل سکے کیونکہ بہت سے لوگ اس چکر میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ شاہ اونگی بونگی مارے گا تو اس الو کے پٹھے کو ٹآنگ دیںگے ۔۔ یہ خواب وہ اپنی قبر تک لے کر جائیں گے کیونکہ کچھ کلمات ایسے بھی ہیں وہ اگر اپ پڑھتے رہو آپ اپنے دشمنوں کی سوچ تک بھی جان سکتے ہو۔۔۔ اب اگے چلتے ہیں صرف ایک حدیث نہیں ہے اس معاملے کو بتانے کے لئے اور بھی بہت کچھ ہے الف کے حرف کو زبان سے ادا کرؤ تو اس حرف کی آواز میں ایک لفظ اور چھپا ہوتا ہے وہ ہے ۔۔۔ لف ۔۔۔۔ یعنی منسلک کائنات کا رب اپنے نام کے پہلے حرف سے منسلک رہیتا ہے چاہے وہ کہیں چلا جائے ۔۔۔ کاش یہ تحریر سمجھ آجائے ۔۔ نہ بھی آئے تو قرآن بیان کرتے ہوئے اگر کوئی آپ کو دیوانہ نہ کہے تو سمجھ لو آپ قرآن بیان نہیں کررہے گرائمر پڑھا رہے ہو ۔۔۔

Loading