لندن کی فضاؤں سے۔۔۔
تحریر۔۔۔فیضان عارف
جہاں پہ لوگ ہی ظلمت پرست ہو جائیں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔لندن کی فضاؤں سے۔۔۔تحریر۔۔۔فیضان عارف)بر صغیر اور خاص طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شخصیت پرستی کارجحان اس قدر شدید ہے کہ جو فرد بھی اس خبط میں مبتلا ہو جاتا ہے اُسے سمجھانا اگر نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہوتا ہے، مذہبی اور سیاسی رہنماؤں بلکہ نام نہاد رہنماؤں کے پیروکار اُن کی ایسی اندھی تقلید کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔جس ملک اور معاشرے میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شخصیت پرستی میں اضافہ ہو رہا ہو وہاں کسی مثبت تبدیلی کی امید لگائے رکھنا یا ترقی اور خوشحالی کی خواہش کرنا خود کو فریب دینے کے مترادف ہے یعنی
جہاں پہ لوگ ہی ظلمت پرست ہو جائیں
وہاں پہ پھر کوئی سورج نکلنے والا نہیں
پاکستانی دنیا کے کسی بھی ملک اور خطے میں جاکر آباد ہو جائیں اُن میں سے اکثر لوگوں کی عادتیں،خصلتیں اورنفسیات نہیں بدلتی۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ یونائیٹڈ کنگڈم میں آباد اوور سیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے جھنڈے اٹھائے پھرتی ہے اور آصف زرداری، نواز شریف اور عمران خان کو نجات دہندہ سمجھتی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ِان تمام نام نہاد قائدین اور اُن کی جماعتوں نے پاکستان کے عوام کو مسائل سے نجات دلانے کی بجائے اُن کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ – اگر محب وطن پاکستانی صرف اس حقیقت پر غور کر لیں کہ یہ تمام سیاستدان کن کن مراحل سے گزرنے کے بعد جمہوریت کے چیمپئن بنے ہیں ان کی سیاست کی ابتدا کہاں سے ہوئی اور یہ لوگ کون سی سیڑھی استعمال کرکے اقتدار کی بلندی تک پہنچے تو اُن کے بہت سے مخالطے دور ہو سکتے ہیں لیکن کیا کیا جائے کہ شخصیت پرستی انسان کوغور کرنے اور حقیقت کوپرکھنے کی اہلیت سے محروم کر دیتی ہے۔
برطانیہ میں آباد وہ اوور سیز پاکستانی جو تحریک انصاف کے حامی اور سپورٹر ہیں اُن کی اکثریت شخصیت پرستی کے خبط میں اس شدت کے ساتھ مبتلا ہے کہ وہ عمران خان کے بارے میں کسی قسم کی تنقید سننے کے متحمل اور روادار نہیں ہوتے۔ میں نے تو پہلے بھی لکھا تھا کہ کاش ہمارے ارباب اختیار عمران خان کو ڈیڑھ برس اور حکومت کرنے دیتے اقتدار کے پانچ برس کا مکمل ہونے پر پاکستان کے عوام پر یہ حقیقت واضح ہو جاتی کہ ملک میں ترقی اور خوشحالی کا کون کون سا خواب شرمندہ تعبیر ہوا، کتنے لاکھ نئے گھر تعمیر ہوئے، کتنے کروڑ لوگوں کو نوکریاں میسر آئیں، پی آئی اے، پاکستان ریلویز، سٹیل ملز اور دیگر ادارے خسارے کی دلدل سے نکلے،کتنے گورنرہاؤس یو نیور سٹیزمیں تبدیل ہوئے، کتنے ڈیمز تعمیر ہوئے اور ملک سے توانائی کے بحران کا خاتمہ ہوا۔ کاش عمران خان کو اقتدار کے پانچ سال مکمل کرنے دیئے جاتے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا۔ اقتدار کی مدت پوری ہونے سے پہلے کسی بھی سیاستدان کو حکومت سے محروم کرنے کے نتیجے میں وہ مظلوم جاتا ہے اور بے وقوف عوام کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اگر اُن کے رہنما اور سیاسی جماعت کو پانچ برس اقتدارکی مدت پوری کرنے کی مہلت مل جاتی تو ملک میں انقلاب آ جاتا۔ چالاک سیاستدان دوبارہ اقتدار کے حصول تک مسلسل یہ گردان پڑھ کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی جستجو کرتے رہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟
ہماری سٹیبلشمنٹ یعنی ار باب اختیار بلکہ صاف کہنا چاہیئے کہ ہماری فوج نے عمران خان کے حوالے سے پہلی غلطی یہ کی کہ انہیں اقتدار کے پانچ سال مکمل نہیں کرنے دیئے گئے جس کے نتیجے میں وہ عوام اورپی ٹی آئی کے حامیوں کے لئے ایک مظلوم رہنما بن گئے جو اپنے دور حکومت میں بہت کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں وقت سے پہلے گھر بھیج دیا گیا۔ معلوم نہیں وہ کون سا انقلاب تھا جوساڑھے تین سال میں نہ لا سکے اور مزید ڈیڑھ سال میں لا سکتے تھے۔ دوسری غلطی ہماری فوج نے یہ کی کہ 5دسمبر کو ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے ذریعے عمران خان کے خلاف ایک بھر پور پریس کا نفرنس کااہتمام کیا گیا جس کی بازگشت ابھی تک برطانیہ اور باقی پوری دنیا میں آباد ایک کروڑ پاکستانی تارکین وطن میں سنائی دے رہی ہے۔
میرا خیال تھا کہ ہماری فوج کے ارباب اختیار ایجنسیاں اور اس کا تعلقات عامہ کا شعبہ(انٹر سرو سزپبلک ریلیشنز) بہت دوراندیش ہیں جو کوئی بھی فیصلہ کرنے یا حکمت عملی بنانے سے پہلے اس کے نتائج کے بارے میں ضرور غور کرتے ہوں گے۔ یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ ان فیصلوں کے نتیجے میں پاک فوج کی ساکھ کس حد تک متاثر ہوگی؟ اور عوامی ردعمل کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
چند برس پہلے میں نے پاک فوج کے حق میں ایک کالم لکھا تھا اس کالم کا محرک پوپی کا وہ علامتی پھول تھا جو لاکھوں انگریز اور برطانوی شہری اپنے کوٹ، سینے اور کالر پر سجائے اور اپنی گاڑیوں میں لگائے پھرتے ہیں۔ اس پھول کا بیج اورسٹکر برطانوی فوجیوں سے اظہار یک جہتی کی علامت ہوتا ہے جس سے فوجیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والے ادارے کو ایک خطیر رقم حاصل ہوتی ہے۔ میرے اس کالم کی اشاعت کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے اپنے جن تاثرات اور ردعمل کا اظہار کیا اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ اوور سیز پاکستانیوں کے علاوہ وطن عزیز میں بسنے والے پاکستانی پاک فوج کے بارے میں کیا سوچتے اور فوجی ارباب اختیارات سے کیا توقع رکھتے ہیں۔
میرا تجزیہ ہے کہ عمران خان بھی پاکستان کے دیگر سیاستدانوں یا سیاسی رہنماؤں سے مختلف نہیں۔اُن کی ترجیحات میں بھی محض اقتدار کا حصول ہی پہلی ترجیح ہے۔ ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح وبہبود اُن کی ترجیحات میں شامل نہیں اورنہ ہی اس سلسلے میں اُن کے پاس کوئی حکمت عملی اور منصوبہ بندی ہے۔ اقتدار میں آکر انہوں نے بھی آئی ایم ایف سے اسی طرح رجوع کیا تھا جس طرح اُن سے پہلے کے حکمران کرتے رہے تھے۔ جس طرح عمران خان خود کو عقل کل سمجھنے کے خبط اور خوش فہمی بلکہ غلط فہمی میں مبتلاہیں۔ اسی طرح ہمارے فوجی ارباب اختیاربھی خود کو عقل کل سمجھنے کے مخالطے کا شکار ہیں۔ سیاسی لیڈر ہوں یا فوج کے ترجمان انہیں بہت سوچ سمجھ کر بولنا چاہیئے کیونکہ یہ سوشل میڈیا کا دو ر ہے جس کی وجہ سے ہر کہی ہوئی بات محفوظ ہو رہی ہے۔کوئی بھی دعویٰ اور وعدہ کرنے سے پہلے یا کسی کو کوئی دھمکی دینے یا خبردار کرنے سے پیشتر یہ ضرور غور کر لینا چاہیئے کہ بعض اوقات ہاتھوں سے لگائی جانے والی گرہوں کو دانتوں سے کھولنا پڑتا ہے۔
ہم بچپن سے یہ سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ پاکستانی فوج دنیا بھر میں بہترین پروفیشنل فوج اور آئی ایس آئی ایک بے مثال ایجنسی ہے جس نے ا سلامی جمہوریہ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنارکھا ہے۔ ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان پر کسی نے جنگ یا جارحیت مسلط کی تو پوری قوم فوج کے شانہ بہ شانہ کھڑی رہی اور اپنے وطن کے سجیلے جوانوں کی ہمت بڑھانے کے لئے اُن کی شان میں نغمے گانے لگی مگر گذشتہ نصف صدی کے دوران ہماری افواج نے جس طرح اپنی ترجیحات کا رخ بدلا اس کی ہر حقیقت اورہر تفصیل سے پوری قوم آگاہ اور باخبر ہو چکی ہے۔ اِن حالات میں جو کسر باقی رہ گئی ہے اُسے آئی ایس پی آر کے ڈی جی احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس نے پورا کر دیا ہے۔ کسی قدر تلخ حقیقت ہے کہ فوج نے اپنی ساکھ کو بالائے طاق رکھ دیا ہے اور وہ عمران خان کی مخالفت میں اس انتہا تک چلی گئی ہے کہ اس نے اپنے رہے سہے وقار کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 5دسمبر کی آئی ایس پی آر والی پریس کانفرنس کا فوج کو نقصان اور عمران خان کو فائدہ ہوا ہے لیکن اب تیر کمان سے نکل چکاہے۔وہ روشن خیال پاکستانی جو افواج پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے انہوں نے بھی فوجی جرنیلوں کی ترجیحات پر سوال اٹھانا شروع کر دیئے ہیں یہ لوگ عاصمہ جہانگیر اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی وہ ویڈیو کلپس دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں جن میں اِن دانشور خواتین نے فوجی ارباب اختیار کی ترجیحات کے بارے میں اپنے تجزیئے اور تاثرات کا اظہار کیا ہے۔
جس طرح عمران خان خود پر تنقید برداشت نہیں کرتے اور اپنی سوچ اور فیصلوں کو سب سے مقدم سمجھتے اور کسی دوسرے کی رائے کو خاطر میں نہیں لاتے چاہے اس کانتیجہ کچھ بھی نکلے…… فوجی ارباب اختیار کو اس طرح کے طرز عمل سے گریز کرنا بلکہ باز رہنا چاہئیے۔ میری یہ تحریر پاکستانی تارکین وطن کی اس سوچ کی آئینہ دار ہے جو یہ سمجھتے ہیں ہماری فوج آج بھی ملک کے دفاع کی ضامن ہے لیکن اُسے سیاست کی کھکیڑ میں پڑنے کی بجائے آئین پاکستان کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہیں اسی میں ملک و قوم اور فوج کی بھلائی ہے۔ پاکستان کے استحکام سے ہی فوج کی بقا بلکہ ہم سب کی بقا وابستہ ہے۔ خدارا اس ملک کو کمزور نہ ہونے دیں۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ محض لفظی دعویٰ نہیں ہونا چاہئیے۔ ہمیں اپنے عمل اور ترجیحات سے اس نعرے کا ثبوت دنیا ہوگا وگرنہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کا خواب محض خواب ہی رہے گا۔ اوور سیز پاکستانی اپنے وطن کے حالات کے بارے میں اس لئے بھی زیادہ تشویش میں مبتلا رہتے ہیں کہ اُن کی پہچان اور شناخت کا سب سے بڑا حوالہ آج بھی پاکستان ہی ہے۔ پاکستان کے حالات کو بگاڑنے یا سنوارنے میں اُن کا کوئی عمل دخل نہیں ہے (زر مبادلہ بھی وہ اپنی مجبوری کی وجہ سے بھیجتے ہیں) لیکن اس کے باوجود جب پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی سانحہ ہوتا ہے یا انسانی حقوق پامال کئے جاتے اور سیاستدانوں پر جھوٹے مقد ہے بنا کر انہیں جیل میں رکھا جاتا ہے تو اجنبی ملکوں میں آبا د پاکستانیوں کو مقامی لوگوں کی سوالیہ نظروں اور ذرائع ابلاغ کی خبروں اور تنقید کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ عمران خان کا دورِ حکومت آنے پر ہم اوور سیز پاکستانی خوش تھے کہ وطن عزیز میں جا کر نوکریاں اور کاروبار کریں گے لیکن اُن کا یہ خواب بھی اور بہت سے خوابوں کی طرح شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اُن کی ہر حسرت، ہر تمنا، ہر اُمید، ہر خواہش،ہر آرزو،ہر اُمنگ اورہر توقع وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دم توڑرہی ہے۔ روشن صبح کی اُمید میں بچے جوانی اور جوان بڑھاپے کی دہلیز تک پہنچ گئے، وطن واپس جاکر پر سکون زندگی گزارنے کی حسرت بھی پوری نہ ہو سکی۔ پہلے تو اوور سیز پاکستانی وصیت کرتے تھے کہ مرنے کے بعد اُن کے جسد خاکی کی تدفین اپنے وطن کی مٹی میں کی جائے لیکن اب تو وہاں کے قبرستان بھی محفوظ نہیں رہے۔ کاش ہم اپنی زندگی میں پاکستان میں خوشحالی اور ترقی کا سورج طلوع ہوتے دیکھ سکیں
؎ جس کے ماتھے پہ نئی صبح کا جھومر ہو گا
ہم نے اس وقت کی دلہن کو بہت یاد کیا
٭٭٭
![]()

