لندن کی فضاؤں سے۔۔۔تحریر۔۔۔فیضان عارف
سبز پاسپورٹ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔لندن کی فضاؤں سے۔۔۔تحریر۔۔۔فیضان عارف) یہ دسمبر 1993 کی ایک یخ بستہ شام تھی جب پی آئی اے کا طیارہ ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر اُترا۔ میں سبز پاسپورٹ تھامے امیگریشن کاونٹر پر پہنچا تو میرے ذہن میں طرح طرح کے خدشات تھے۔ پہلا خدشہ تو یہ تھاکہ پاکستانی پاسپورٹ والے مسافروں کے لندن پہنچنے پر اُن کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، انہیں امیگریشن کاونٹر پر روک کر ویزے اور دستاویزات کی خوب چھان پھٹک کی جاتی ہے، ہر طرح کی تسلی اور پڑتال کے بعد پاسپورٹ پر ایگزٹ کی مہر لگا کر انہیں ائر پورٹ سے باہر جانے دیا جاتا ہے۔ امیگریشن افسرنے تین چار سوالات کے بعد میرے پاسپورٹ پر ایگزٹ کی مہر لگا کر مسکراتے ہوئے لندن آمد پر خوش آمدید کہا تو میں حیران رہ گیا اور پاکستانی پاسپورٹ کے بارے میں میرے تمام منفی خدشات دور ہو گئے۔ برطانیہ آکر میں نے پاکستانی پاسپورٹ پر امریکہ اور کینیڈا سمیت(18) ممالک کے سفر کئے۔ خوش قسمتی سے مجھے کسی بھی ملک میں پاکستانی پاسپورٹ کی وجہ سے روک کر غیر ضروری جانچ پڑتال نہیں کی گئی اور نہ کبھی کسی امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔1998 میں ایک بار میں ڈنمارک گیا۔ کوپن ہیگن سے سڑک کے راستے (بائی روڈ) سٹاک ہوم جاتے ہوئے معلوم ہوا کہ سویڈن جانے کے لئے سکینڈے نیویا کے کسی ایک ملک کا ویزا کافی نہیں ہے، میرے پاکستانی پاسپورٹ پر صرف ڈنمارک کا ویزا لگا ہوا تھا۔ میں جب سویڈن کے بارڈ رپر پہنچا تو امیگریشن افسر نے مجھے واپس بھیجنے کی بجائے میرے پاکستانی پاسپورٹ پر تین دن کے لئے سویڈن میں داخلے کی مہر لگادی۔ مشین ریڈایبل یا ڈیجیٹل پاسپورٹ اور ویزوں کے اجرا سے پہلے جن پاکستانیوں کو مختلف ممالک کے ہوائی اڈوں پر روک کر اُن کے پاسپورٹ کی پڑتال کی جاتی تھی اُن میں سے کئی مسافروں کے پاسپورٹ پر جعل سازی سے تصویر تبدیل کی گئی ہوتی تھی یا ان پر ویزوں کے سٹکر اور مہریں نقلی ہوتی تھیں۔ ہم پاکستانیوں نے اپنے ملک کے سبز پاسپورٹ کو بد نام اور بے تو قیر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جعل سازی کا کون سا ایسا حربہ ہے جوہم نے اپنی اس سفری دستاویز کو مشکوک بنانے کے لئے نہیں آزمایا۔ یہ توبھلا ہو جدید ٹیکنا لوجی اور امیگریشن کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور ضابطوں کا جن کی وجہ سے جعل سازی کے بہت سے حربوں کا انسداد ہو چکا ہے۔
گذشتہ دنوں ہینلی گلوبل نامی ایک ادارے نے دنیا بھر کے 195 ممالک کے پاسپورٹس کا ایک انڈکس جاری کیا ہے۔اس انڈکس کو مختلف ملکوں اورا قوام کی کریڑیبلٹی کا جائیزہ لے کر تیار کیا گیا ہے۔اس وقت پوری دنیا میں بہت سی تجارتی کمپنیز اور ہر ملک کے سفارت خانے سیاسی،معاشی، سماجی اور خارجہ معاملات (فارن افیئرز) کے حوالے سے حالات کا جائیزہ لے کر رپورٹس اورانڈکس تیار کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان، انڈیا، افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور بہت سے افریقی ممالک کے لوگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا ہماری کارستانیوں اورچالبازیوں سے واقف نہیں ہے تو یہ محض ایک خوش فہمی بلکہ غلط فہمی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے جو سفارت خانے مذکورہ ملکوں میں قائم ہیں انہیں اس حقیقت کا پوری طرح اندازہ ہے کہ پاسپورٹس اور سفری دستاویزات کے علاوہ تعلیمی اسناد، ڈرائیونگ لائسنس،بنک اکاؤنٹس اور ٹیکس کے گوشواروں میں ہیرا پھیری اور دونمبری کرنے میں کون ساملک کس درجے پر ہے۔ہینلی گلوبل نے پاسپورٹس کی عالمی درجہ بندی کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں سنگا پور کا پاسپورٹ پہلے اور جاپانی پاسپورٹ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس انڈکس میں یونائیٹڈ کنگڈم کا پاسپورٹ ساتویں درجے پر ہے۔ دنیا کے کمزور اور بے توقیر پاسپورٹس میں سب سے نچلے درجے پر افغانستان اور اس کے بعد بتدریج شام، عراق اور پاکستان کا نمبر آتا ہے۔ ویسے تو پاسپورٹ کسی بھی ملک کے شہریوں کے لئے ایک سفری دستاویز ہوتی ہے لیکن چند صفحات کی اس ڈاکیومنٹ سے ملکوں اور قوموں کا وقار، ساکھ اور اعتبار وابستہ ہوتا ہے۔ جس قوم کے باشندے اس دستاویز کاناجائیز اور غیر قانونی استعمال کرتے ہیں وہ دراصل اپنے وطن کی توقیر کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا کی (4) بد ترین سفری دستاویز کی فہرست تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ ہم کے لئے سوچنے اور غور کے علاوہ فکر کرنے کا مقام بھی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ پاکستانی پاسپورٹ کا حصول ایک مشکل اور کٹھن مرحلہ تھا لیکن اُس وقت اس سفری دستاویز پر درجنوں ممالک کا سفر بغیر کسی ویزے کے کیا جا سکتا تھا اب جبکہ پاکستانی پاسپورٹ بنوانا نسبتاً آسان ہو گیا ہے مگر اس پر کسی بھی خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کا ویزا لگوانا بہت دشوارہو چکا ہے۔
حضرت آدم کے زمین پر اُتارے جانے کے بعد سے انسان مسلسل سفر اور ہجرت کے مرحلوں سے گزرتا آیا ہے۔ ابتدا میں اُسے کسی ایک خطے سے دوسرے علاقے یا ملک اور سلطنت تک جانے کے لئے کسی قسم کی سفری دستاویز یا اجازت نامہ درکار نہیں ہوتا تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ اس کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔پہلے پہل ایک سلطنت سے کسی دوسری سلطنت یار یاست تک پہنچنے والے مسافروں کے نام اور دیگر ضروری معلومات کا اندراج کیا جانے لگا اور پھر اس رجسٹریشن کوا جازت نامے کی شکل دی گئی۔ 1920ء میں دنیا کے نقشے پر موجود تقریباً (48)ممالک(جن میں لیگ آف نیشنزکے 42 ملک بھی شامل تھے)نے فیصلہ کیا کہ ہر ملک کے شہری کو کسی دوسرے ملک تک سفر کے لئے پاسپورٹ جاری کیا جانا چاہیئے۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ ایک صدی پہلے تک ہماری یہ دنیا جسے ہم کرہئ ارض بھی کہتے ہیں یہاں صرف 84ممالک تھے جو گذشتہ ایک سو سال کے دوران تقسیم ہو کر195 تک جا پہنچے ہیں۔ ایک صدی قبل اس دنیا میں صرف (10) مسلمان ممالک تھے اور اب ان کی تعداد تقریباً 57 تک جاپہنچی ہے۔ یورپی یونین میں شامل7 2 ملکوں کے باشندے بغیر پاسپورٹ کے کسی بھی ملک میں آ جا سکتے ہیں جبکہ مسلمان ممالک کے شہری پاسپورٹ کے بغیر کسی دوسرے مسلمان ملک میں داخل نہیں ہو سکتے۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایسے ڈیجیٹل اور بائیو میٹرک پاسپورٹس بنائے جانے لگے ہیں جن میں بہت سی ایسی خفیہ معلومات محفوظ ہوتی ہیں جوامیگریشن کا ؤنٹرز پر لگی خاص مشینوں کے ذریعے پڑھی جا سکتی ہیں۔نکارا گویا کے پاسپورٹ پر (89) ایسے سیکورٹی فیچرزمحفوظ کئے جاتے ہیں جن کی وجہ سے اسے دنیا کا سب سے محفوظ ترین پاسپورٹ قرار دیا جاتا ہے۔ برطانوی پاسپورٹ پر دنیاکے (191) ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کیا جاسکتا ہے جبکہ امریکی پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو 160ممالک میں ویزے کے بغیرسفر کی سہولت حاصل ہے۔ برطانوی کنگ چارلس کو کسی دوسرے ملک میں جانے کے لئے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ میکسکو کے پاسپورٹ کو دنیا کی مہنگی ترین سفری دستاویز شمار کیا جاتا ہے جس کو بنوانے کے لئے اس ملک کے شہریوں کو 350 امریکی ڈالرز کے برا برفیس ادا کر ناپڑتی ہے۔صرف انسانوں کو ہی نہیں بلکہ جانوروں کو بھی ایک ملک سے دوسرے ملک تک لے جانے کے لئے پاسپورٹ کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ خاص طور پر گھوڑوں کے پاسپورٹ پر اُن کی تصویر کے علاوہ رنگ، نسل،وزن اور دیگر معلومات بھی درج کی جاتی ہیں۔
برطانوی پاسپورٹ کو اس کے سرخ رنگ کی وجہ سے ریڈ بک بھی کہاجاتا تھا۔ بریگزٹ یعنی یورپی یونین سے نکلنے کے بعد اب جو نئے برطانوی پاسپورٹ بنائے جارہے ہیں ان کاکور نیلے رنگ کا ہے۔ یوئیٹڈ کنگڈم میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جنہوں نے آج تک یو کے سے باہر جانے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی انہوں نے اب تک برٹش پا سپورٹ بنوایا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں پاکستانی پاسپورٹ پر ویزے لگوا کر مختلف ملکوں کی سیاحت اور سیر سپاٹے کے لئے جاتا تھا تو میرے ایک دوست جو ایسٹ لندن میں رہتے ہیں کہا کرتے تھے کہ جب مجھے برٹش پاسپورٹ مل جائے گا تو میں دنیاگھومنے کیلئے نکلوں گا، مجھے تمہاری طرح ہر ملک کے سفارت خانے جاکر ویزے لگوا نے کے لئے خوار ہونے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ میرے اس دوست کو برٹش پاسپورٹ حاصل کئے ہوئے تقریبا25 برس ہو چکے ہیں مگر وہ آج تک پاکستان جانے کے علاوہ کسی اور ملک کی سیر دسیاحت کے لئے لندن سے باہر نہیں گئے۔
یوکے اور پاکستان کے درمیان پی آئی اے کی پروازوں کی بندش کے دوران اوور سیز پاکستانیوں کی اکثریت ایمریٹس، قطر،گلف یا اتحاد ایئر لائن کی پروازوں سے سفر کرتی تھی۔ جب یہ پاکستانی مسافر ٹرانزٹ کے لئے دوبئی، دوحہ، ابوظہبی یا مشرق وسطیٰ کے کسی اور ہوائی اڈے پر اترتے اور امیگریشن کا ونٹر پر جاتے تو وہاں ہمارے عرب مسلمان امیگریشن آفیسر یہ دیکھ کر حیران ہوتے رہتے تھے کہ انگریزوں کے ملک میں رہنے والے پاکستانیوں کو برٹش پاسپورٹ کیوں مل جاتے ہیں؟ جبکہ مڈل ایسٹ میں کوئی غیر عربی ساری زندگی بھی گزار دے تووہاں کی حکومت اُسے پاسپورٹ یا شہریت کی سہولت فراہم نہیں کرتی۔برطانیہ میں پاسپورٹس کے اجرا کا سلسلہ 1414 میں شروع ہوا تھا، 1915 میں پہلی بار برطانوی پاسپورٹ پر تصویر لگانے اور دستخط کرنے کا آغاز ہوا، 1988 میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ بنائے جانے گئے، 2006 میں بائیو میٹرک اور 2008 میں ای پاسپورٹ متعارف کرائے گئے۔ برطانیہ میں دوہری شہریت کی سہولت کے باعث بہت سے تارکین وطن اور انگریزوں کے پاس یونائیٹڈ گنگڈم کے علاوہ بھی دوسرے کسی ملک کی شہریت اور پاسپورٹ موجود ہیں جبکہ ہمارے بہت سے پاکستانی دانشور دوہری شہرت کو دوہری ولدیت قراردے کر اوور سیز پاکستانیوں سے ”اپنائیت“کا اظہار کرتے ہیں۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر پاکستانی پاسپورٹ پر میرے ہم وطنوں کو دنیا کے تمام ملکوں میں ویزے کے بغیر سفر کرنے کی سہولت حاصل ہو جائے تو وہ کن کن ملکوں کا رخ کریں گے؟ اور کیا وہ کسی خوشحال ملک میں پہنچ کر واپس پاکستان آنے کو ترجیح دیں گے؟
٭٭٭
![]()

