ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تقریب ختم ہو چکی تھی۔ پرنس اندرے رسٹوف خاندان کے گھر میں داخل ہوئے۔ کمرہ عام سا تھا، لیکن اس میں ایک عجیب سی گرمی اور زندگی کی چمک بھری ہوئی تھی۔ ناتاشا ایک سادہ نیلی پوشاک میں، ہنستی مسکراتی، سب سے بات کر رہی تھی۔
پرنس اندرے نے اُسے دیکھا — اور کچھ لمحے کے لیے وقت تھم سا گیا۔ وہ کوئی حسین شہزادی کی طرح سجی نہیں تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک روشنی، ایک معصوم چمک تھی جو دل میں اترتی چلی جاتی تھی۔
کھانے کے بعد ناتاشا نے پیانو کے قریب جا کر نرمی سے گانا شروع کیا۔ پرنس اندرے کھڑکی کے پاس کھڑے، خاموشی سے سنتے رہے۔ اس کی آواز میں ایسا خلوص اور نرمی تھی کہ پرنس کے دل میں ایک ہلکی سی کپکپاہٹ دوڑ گئی۔ یہ وہی شخص تھا جس کے دل کو جنگ نے سخت کر دیا تھا، مگر آج… آج وہ خود کو اس کے سامنے نرم اور بے بس محسوس کر رہا تھا۔
گانا ختم ہوا تو ناتاشا نے ہلکی سی شرمیلی ہنسی کے ساتھ کہا:
“کیا آپ کو میرا گانا پسند آیا؟”
پرنس اندرے نے مسکرا کر جواب دیا:
“مجھے آپ کا گانا ویسا ہی پسند آیا… جیسا مجھے آپ کی ہر بات پسند آتی ہے۔”
اس رات پرنس اندرے کو نیند نہ آئی۔ شمع کی روشنی میں جاگتے ہوئے، انہیں لگا جیسے وہ کسی بند کمرے سے نکل کر کھلی، تازہ ہوا میں سانس لے رہے ہوں۔ وہ محبت میں گرفتار نہیں تھے، مگر ناتاشا کے چہرے، اس کی ہنسی اور اس کی آواز کا تصور انہیں زندگی کی ایک نئی صبح کا یقین دلا رہا تھا۔
لیو ٹالسٹائی کے ناول “امن اور جنگ” سے اقتباس