ماریہ کی کہانی
اردوناول کہانیاں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ اکتوبر کا شروع تھا اور آج ماریہ کا آخری پیپر تھا۔حسبِ معمول رات کو جب سب گھر والے سو گئے ۔۔ماریہ نے رفیق صاحب کا موبائل اٹھایا اور جواد کو میسج کیا اور بتایا کہ آج میرا آخری پیپر تھا ۔۔اب جان چھوٹ گئی!!! جواد بھی یہ سن کر بہت خوش ہوا ۔۔۔وہ شاید اسی دن کے انتظار میں تھا کہ ماریہ کے پیپر ختم ہوں اور وہ اپنی خالہ کو ماریہ کے گھر رشتے کیلئے بھیج سکے۔۔
جواد نے ماریہ سے کہا۔۔ کہ وہ اپنی امی سے میرے متعلق بات کرے اور اپنی ماں کو سب سچ سچ بتا دے ۔۔تا کہ جلد از جلد ھماری شادی ہو سکے ۔۔۔
ماریہ یہ سب سنتے ہی پریشان ہو گئ کیونکہ وہ اپنی ماں اور بھائیوں کی فطرت سے واقف تھی ۔۔وہ سب اسکو جان سے مار دیں گے۔۔
ماریہ نے یہ خدشہ جواد سے ظاہر کیا تو وہ بے فکری سے بولا ،پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر گھر والے نہ مانے تو ھم عدالت میں جا کر نکاح کر لیں گے۔ کیونکہ میں اب تم سے دور نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔
یہ سب سن کر ماریہ پر سکون ہو گئی اور اس نے جواد خان سے وعدہ کیا کہ وہ کل ہی اپنی ماں سے اس بارےمیں میں بات کرے گی۔۔
جواد کی باتوں سے اسکی کافی حد تک حوصلہ افزائی ہوئی ۔۔وہ ساری رات اپنی اور جواد کی شادی کے بارے میں سوچ سوچ کر خوش ہوتی رہی ۔۔
انہی سوچوں کے درمیان ہی اسکی آنکھ لگ گئی ۔۔۔
صبح جب ماریہ کی آنکھ کھلی تو دن کے گیارہ بج رہے تھے ۔۔وہ اٹھی ہاتھ منہ دھو کر ناشتہ کیا اور نسیم بیگم کے پاس جا بیٹھی۔۔۔
ہمت جمع کر کے بولی امی۔۔۔
مجھے آپکو کچھ بتانا ہے!!!!
نسیم بیگم کو بیٹی کے لہجے سے کچھ شک پڑا ۔۔لیکن وہ نظر انداز کر کے بولی ہاں بتاؤ کیا بات ہے ؟؟؟؟
ماریہ نے ساری کہانی نسیم بیگم کے گوش گزار دی۔۔
یہ سنتے ہی نسیم بیگم سکتے میں آگیں کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر اس بات کی زرا سی بھنک بھی اس کے بھائیوں تک گئی وہ اسکو قتل کر دیں گے ۔۔۔
آخر وہ ماں تھیں بیٹی کا دکھ نہیں دیکھ سکتیں تھیں ۔۔
نسیم بیگم نے ماریہ سے کہا کہ وہ رات کو رفیق صاحب سے اس حوالے سے بات کر کے کوئی حتمی فیصلہ کریں گی کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔
رات کو جب رفیق صاحب گھر آئے تو نسیم بیگم نے کھانے کے بعد انکو ساری بات بتائی!!
پہلے تو وہ غصے سے آگ بگولہ ہوگئے ،کہنے لگے۔۔کالج میں پڑھائی ک نام پر یہ گل کھلاتی رہی ہے ۔۔منہ کالا کر کے آگئ ،اس سے بہتر تھا کہ جاہل رہ جاتی ۔۔۔ایسی اولاد کو تو پیدا ہوتے ہی مر جانا چاہیے تھا ۔۔۔!!!
کافی دیر غصہ کرنے کے بعد جب انکا غصہ ٹھنڈا ہوا تو نسیم بیگم نے انکو سمجھایا کی ماریہ سے پہلے بھی تین بیٹیاں کنواری بیٹھی ہوئی ہیں ۔۔آج تک انکا کوئی مناسب رشتہ نہیں آیا
اور اگر کوئی رشتہ آتا بھی ہے تو دیکھ کر چلے جاتے ہیں کوئی جواب نہیں دیتے ۔۔۔
آج کل ویسے بھی اچھے رشتے ملنا نا ممکن ہے!!!!
اور لوگوں کو کیا پتہ کہ یہ شادی لڑکا لڑکی کی پسند سے ہو رہی ہے ؟؟
ہم اس کو ارینج میرج کی طرح کور کر لیتے ہیں ۔۔۔۔
ویسے بھی اکیلا لڑکا ہے ،نہ ماں باپ اور نہ بہن بھائی!!! ہماری بیٹی کو ساس نندوں کی کوئی پریشانی نہیں ہوگی!! اکیلی گھر میں راج کرے گی راج،نسیم بیگم نے آنکھوں میں چمک لیے مطمئن انداز میں کہا ۔۔
نسیم بیگم کی باتوں کا رفیق صاحب پر کافی مثبت اثر ہوا اور وہ کافی دیر سوچ بچار کے بعد ماریہ اور جواد کے رشتے کیلئے مان گئے ۔۔۔۔۔
البتہ فاروق ،سنی اور علی کو رشتہ پکا ہونے تک اس بات سے دور رکھا ۔۔۔۔۔
اگلے دن نسیم بیگم نے ماریہ سے کہا کہ وہ جواد سے کہ دے کہ وہ اسی اتوار ہی اپنے گھر والوں کو ہمارے گھر بھیج دے۔۔۔۔
ماریہ یہ سنتے ہی خوشی سے پاگل ہوگئ کیونکہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کے گھر والے اتنی آسانی سے مان جائیں گے ۔۔۔اسکو زندگی میں پہلی بار اپنی ماں پر ڈھیر سارا پیار آیا۔۔۔
شام ہوتے ہی جیسے ہی رفیق صاحب گھر آۓ ماریہ نے موقع پاتے ہی انکا موبائل اٹھایا اور جواد کو کال کر کے خوشخبری سنائی !!!! اور کہا کہ وہ اسی اتوار ہی اپنی خالہ کو میرے گھر بھیج دے۔۔۔
جواد بھی یہ سن کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ میں آج ہی اپنی خالہ سے بات کرتا ہوں ۔۔انشاءاللہ بہت جلد ہم دونوں ایک ہو جائیں گے ۔۔۔
ادھر جواد نے اپنی اکلوتی خالہ ذکیہ جو کہ اسلام آباد میں رہتی تھی ۔۔۔ سے اس رشتے کی بات کی تو وہ۔۔۔۔!!!! سخت ناراض ہو گئیں… کیونکہ وہ اپنے اکلوتے بھانجے کا کسی اچھے خاندان میں رشتہ کرنا چاہتیں تھیں نا کہ کسی مڈل کلاس جاہل لوگوں میں۔۔۔۔!!!!
حالا نکہ ماریہ اور جواد کا کوئی جوڑ بھی نہیں بنتا تھا!!!
کہاں اٹھارہ سالہ گوری چٹی،درمیانے قد کی رکھ رکھاؤ والی ماریہ… اور کہاں وہ اٹھائیس سالہ گندمی رنگت،چھوٹا قد،آدھے سر سے گنجا ،بھدے جسم کا مالک ،ایک پرائیویٹ کالج میں معمولی تنخواہ پر نوکری کرنے والا جواد ۔۔۔
حور اور لنگور کا جوڑ تھا ۔۔۔
لیکن جواد ذد پر اڑ گیا کہ مجھے شادی کرنی ہے تو صرف ماریہ سے ورنہ نہیں
۔۔آخر کار خالہ کو جواد کی زد کے آگے ہار ماننی پڑی اور انہوں نے ماریہ کے گھر جانے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔۔جواد یہ سنتے ہی خوشی سے پاگل ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
اتوار کی صبح رفیق صاحب کے گھر شادی والا شور تھا!!!
ماریہ کرن زارہ حسینہ گھر کا کونا کونا صاف کرنے میں لگی ہوئی تھیں ۔۔۔کیونکہ آج رشتے والوں نے آنا تھا ۔۔
ماریہ کے بھائیوں کو یہ بتایا گیا کہ رشتے والی ماسی نوراں نے ہی کوئی رشتہ ڈھونڈہ ہے۔۔۔
گھر کی صفائی کرنے کے بعد جب کچن میں دیکھا تو چاۓ کے کپ پورے نہ تھے ،ایک کپ لال پھول والا تھا تو دوسرا جامنی پھولوں والا ۔۔۔
علی کو ساتھ والی ہمسائ کے گھر بھیج کر ایک ہی سیٹ کے کپ ادھار منگوائے گئے ۔!!! پورے محلے کو پتہ تھا کہ آج نسیم بیگم کے گھر رشتے والے مہمان آرہے ہیں۔۔۔
خیر گیارہ بجے۔۔ اور نسیم بیگم کے گھر کے باہر ایک سفید رنگ کی ہنڈا سوک آرکی۔۔
اس محلے کے لوگوں نے اپنی زندگی اور اس محلے میں پہلی بار اتنی بڑی گاڑی دیکھی۔۔
یہ ایک بدنام اور غلیظ محلہ تھا ۔
ماریہ کے گھر کی دیوار با دیوار جو گھر تھا وہاں ایک مشہور زمانہ سکینہ مائ اور اسکی بہو نے گھر کو ہی چکلہ بنایا ہوا تھا ۔۔وہاں ساری رات مردوں کا رش لگا رہتا۔۔
دوسری سائیڈ والا گھر کسی خسرے نے کراۓ پر لیا ہوا تھا اور وہ اپنی باقی ٹیم کو ساتھ وہاں رہ رہا تھا۔۔۔
سامنے والا گھر رضیہ سلطانہ کا تھا ۔۔جس نے گھر میں ہی گائے ،بھینس اور بکریاں پال رکھی تھیں!!!! محلے میں ہر وقت گوبر اور کھلے گٹروں کی بد بو پھیلی رہتی تھی!!!!
شروع میں اس محلے کا نام محلہ قصاب تھا کیونکہ ادھر زیادہ تر گھر قصائیوں کے تھے، لیکن جیسے ہی اس محلے میی خسرے آکر رہنے لگے ۔۔اس محلے کا نام خسرہ محلہ رکھ دیا گیا ۔۔۔۔
جواد کی خالہ جب کار سے باہر نکلیں تو گوبر اور گٹروں کی ملی جلی بد بو کے بھبھکے انکی ناک سے آ ٹکرائے ۔۔وہ شدید بد دل ہوئی انکا دل کیا کہ فوراً ادھر سے بھاگ جائیں۔۔۔ انکو اپنے بھانجے کی پسند پر افسوس ہوا ۔۔لیکن وہ مجبور تھیں ۔۔
خیر اتنے میں علی اور رفیق صاحب ان کے استقبال کیلئے باہر آگئے ۔۔سلام دعا کے بعد وہ ان۔کو گھر لے آئے۔۔ گھر تک پہنچنے پہنچنے ذکیہ کا جوتا کیچڑ اور گوبر سے بھر گیا۔۔۔۔
گھر والوں اور ماریہ سے مل کر ذکیہ خالہ کو کوئی خاص خوشی نہ ہوئی ۔۔وہ بہت روکھے سوکھے انداز سے ملی سب سے۔۔
آخر کار وہ مطلب کی بات پر آئ ۔۔انہوں نے صاف بتایا کہ وہ صرف اپنے بھانجے کی خوشی کیلئے یہ کر رہیں ہیں ورنہ ان کو کوئی دلچسپی نہیں ۔۔۔اور وہ جلد از جلد اس کام کو نپٹانا چاہتی ہیں ۔۔
انہوں نے ڈائریکٹ شادی کی تاریخ رکھی اور سب سے مل کر چلی گئیں۔۔۔۔
شادی کی تاریخ ایک مہینے بعد 11 دسمبر طے پائی۔۔
جب سے شادی کی تاریخ رکھی گئی جواد کا رویہ ماریہ کے ساتھ بہت روکھا روکھا سا رہنے لگا،نہ وہ پہلے کی طرح ماریہ سے ساری ساری رات باتیں کرتا اور نہ ہی ماریہ کی کال اٹینڈ کرتا۔۔
ماریہ کو شروع میں لگا کہ وہ شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوگا!!! لیکن اتنی بھی کیا مصروفیت ایک میسج کا جواب ہی نہیں دے سکتا
،ماریہ میسج کر کے گھنٹوں انتظار کرتی رہتی لیکن اسکا کوئی جواب نہ آتا اور جب وہ کال کرتی تو وہ فوراً سے کال کاٹ دیتا۔۔۔۔
خیر ماریہ نےاس کو اپنا وہم سمجھا اور اپنی ساری توجہ شادی کی تیاریوں پر مرکوز کر لی۔۔۔
ادھر جب جواد کی خالہ ماریہ کے گھر سے ہو کر گئی اس نے جواد کے کان بھرنا شروع کر دیئے ،اس نے جواد سے کہا کہ وہ لوگ کسی بھی طرح سے ہمارے قابل نہیں ہیں ۔۔ان کے گھر کے ساتھ چکلہ ہے۔۔۔ وہ لوگ اپنی بیٹیوں کو چکلے پر بھیجتے ہیں اور ان سے کمائی کرواتے ہیں ۔۔۔۔ انہوں نے ماریہ کے ذریعے تمہیں پھنسایا ہے۔۔۔پلیز جواد تم اپنی زد چھوڑ دو میں تمہارا کسی اچھے خاندان میں رشتہ کرواتی ہوں ۔۔۔
تمہارے لیے لڑکیوں کی کمی تھوڑی ہےکہ تم اس بد زات کے پیچھے پاگل ہوۓ جا رہے ہو ۔۔۔
خالہ کی باتوں کا جواد پر گہرا اثر ہوا اور اسکو ماریہ سے نفرت ہونے لگی ۔۔ماریہ کے ہر میسج سے اسکو لگتا کہ وہ بد کردار ہے ،وہ مجھے پھنسا ری ہے ۔۔۔
وہ ماریہ کے میسج اگنور کردتا،ماریہ ساری ساری رات اسکو میسج کرتی اور وہ موبائل سائلنٹ پر لگا کر سو جاتا۔۔۔
جواد کو ماریہ سے شدید نفرت ہوگئی لیکن کچھ تھا کہ وہ نفرت کے با وجود بھی شادی سے انکار نہیں کر پا رہا تھا ۔۔ایسا کیا تھا ؟؟؟
شاید ماریہ کی سچی محبت ،مخلصی،جواد پر اندھا اعتماد اور بے پناہ عشق ہی تھا کہ جواد کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا ۔۔وہ جب بھی فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا ماریہ کا معصوم چہرہ اور دو محبت کی سچائی سے چمکتی آنکھیں اس کے سامنے آجاتی ۔۔۔۔۔۔
وقت گویا پر لگا کر اڑ گیا اور گیارہ نومبر کا دن آپہنچا یعنی ماریہ اور جواد کی شادی کا دن۔۔
آج ماریہ بہت خوش تھی اسکو اپنی قسمت پر یقین ہی نہیں ہو رہا تھا ،اس کے لیے یقین کرنا مشکل تھا کہ آج اسکی شادی کا دن ہے آج وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنی محبت کی ہو جائے گی ۔۔۔اسکو اپنی قسمت پر رشک ہو رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن قسمت ایسے کھیل کھیلے گی اس کے وہم و گمان میں نہ تھا ۔۔۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ ان خوشیوں کے پیچھے ایک ایسی بلا کھڑی ہے جو پلک جھپکتے ہی اسکی ساری خوشیوں کو کھا جاۓ گی۔۔۔!!!!!!!!!
بارات نے شام کے 6 بجے آنا تھا سو ماریہ اپنی بہن زارہ کے ساتھ 2 بجے ہی پارلر آگئ ۔۔
پارلر آنے سے پہلے ماریہ نے ایک بار جواد کو کال کی تاکہ دیکھ سکے کہ جواد اسکو پانے کیلئے کتنا بے تاب ہے!!!!
لیکن بیل جاتی رہی پر جواد نے اٹینڈ نہ کی ۔۔۔
ماریہ نے دوبارہ کال کی تو جواد نے فوراً سے کال کاٹ دی۔۔ماریہ کو لگا وہ مصروف ہوگا ۔۔۔۔۔
( جواد پرائیویٹ کالج میں معمولی سی تنخواہ پر نوکری کرتا تھا ،لیکن جیسے ہی اس کا ماریہ سے رشتہ طے ہوا جواد کی ایک سرکاری ادارے میں بطور کمپیوٹر آپریٹر سرکاری نوکری ہو گئ)
ادھر جواد کی خالہ صبح سے جواد کے کان بھرنے میں مصروف تھیں کہ اب تو تمہاری سرکاری نوکری بھی ہو گئ ہے تمہیں اچھی سے اچھی لڑکی مل سکتی ہے ابھی بھی وقت ہے ۔۔۔فیصلہ کر لو ۔۔ساری عمر پچھتانے سے بہتر ہے ابھی دل مظبوط کر لو۔۔وہ کمی نیچ لڑکی تمھارے قابل نہیں ہے ۔۔۔میں تمہاری خالہ ہوں دشمن نہیں ۔۔۔
آخر کار خالہ کی نفرت جیت گئی اور ماریہ کا عشق ہار گیا ۔۔۔۔۔۔ماریہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ جواد کانوں کا اتنا کچا نکلے گا ۔۔۔۔۔
بارات آنے میں صرف ایک گھنٹہ باقی تھا ۔۔جب اچانک ماریہ کے پاس جواد کی کال آئی ۔۔۔
ماریہ نے جلدی سے کال اٹینڈ کی۔۔ وہ سمجھی کی جواد سے انتظار کرنا مشکل ہو رہا ہوگا۔۔ اور وہ ابھی اس سے ویڈیو کال کی فرمائش کرے گا تاکہ اسکا سجا سنوار روپ دیکھ سکے۔۔۔
ماریہ نے چہکتی آواز کے ساتھ کہا ہیلو !!!
دوسری طرف سے کوئی جواب نہ آیا
ماریہ نے دوبارہ کہا ہیلو ۔۔
دوسری طرف سے جواد کی سرد سی آواز ابھری!!!!
ماریہ!!!!!!
میں یہ شادی نہیں کر سکتا ،
بات کو سمجھو ہم نے فیصلہ کرنے میں بہت جلدی کرلی ،لیکن مجھے اب احساس ہو رہا ہے کہ میں نے جلدی میں ایک غلط فیصلہ کیا ۔۔۔ا
لفاظ تھے کہ سیسہ جو ماریہ کے کانوں میں انڈیلہ جا رہا تھا ۔۔جواد آپ مذاق کر رہے ہیں نہ؟؟ پلیز ایسا مذاق ایسے موقع پر مت کریں۔۔مم میں مذاق میں بھی آپ سے دور جانے کا نہیں سوچ سکتی ماریہ نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا ۔۔۔
۔ماریہ میں کوئی مزاق نہیں کر رہا !!! میں سچ کہ رہا ہوں ،مجھے تم سے شادی نہیں کرنی مجھے تم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور میں.. !!۔۔
جواد پلیز چپ کر جائیں ماریہ نے جواد کی بات کاٹی ۔۔۔میں جانتی ہوں آپ بھی مجھسے بے پناہ محبت کرتے ہیں ماریہ نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں کہا!!!
کیسا دھوکا ہوا تھا اس کے ساتھ شادی کے دن اس کا محبوب اسکا ہونے والا شوہر اس سے کہہ رہا ہے کہ وہ اس سے پیار نہیں کرتا بلکہ پیار کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اس سے لیکن وہ تو سچا پیار کرتی تھی اسے ۔۔۔ کیوں کیا تھا اس نے ایسا اس کے ساتھ ۔
دوسری طرف جواد خاموش رہا ۔۔۔جیسے ماریہ کی بات سن ہی نہیں رہا۔۔۔۔
ماریہ دوبارہ بے بسی سے بولی!!!
جواد ۔۔!!!
میں مم بہت پیار کرتی ہوں اپ سے پلیز ایسا مت کریں میں مم مر جاؤں گی میں نہیں رہ سکتی آپ کے بنا پلیز مجھے مت چھوڑیں میں مر جاؤں گی ۔۔۔آپ تو کہتے تھے کہ میں بخت آور ثابت ہوئی ہوں آپ کے لیے ۔۔
مجھسے رشتہ جڑتے ہی آپ کو سرکاری نوکری مل گئی اور۔۔۔
وہ بے یقینی سے اسے کہ رہی تھی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ شخص اسے دھوکا دے گا وہ یوں تو نہ تھا بلکہ بہت پیار کرتا تھا اس سے ..
پلیز ماریہ آئندہ مجھےکال میسج مت کرنا ۔۔
اور اپنے گھر والوں کو بھی بتا دو وہ جس سے تمھاری شادی کرنا چاہتے ہیں کر دیں جواد نے ماریہ کی بات کاٹ کر سختی سے کہا اور کال کاٹ دی۔۔۔
ماریہ کو لگا کہ کمرے کی چھت اس کے اوپر آگری ہے اس کے ہاتھ سے موبائل گر گیا اور وہ دلہن بنی زور زور سے دھاڑیں مارنے لگی۔۔۔
دھاڑیں اتنی دردناک تھیں کہ جو بھی سنتا اسکو اپنا دل کٹتا محسوس ہوتا ۔۔۔
رونے کی آواز سن کر سب لوگ میرج لان کے برائڈل روم کی طرف بھاگے۔۔۔۔
روم کا دروازہ کھولا تو ماریہ کو فرش پر بہوش پایا ۔۔۔۔
ماریہ کی جب آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ہسپتال کے روم میں پایا ۔۔۔سامنے وال کلاک پر نظر پڑی تو رات کے 9 بج رہے تھے ۔۔۔اک پل کیلئے اسکو سمجھ نہ آئی کہ وہ کہاں ہے اور کیوں ہے ؟؟؟
لیکن جیسے ہی اسکو یاد آیا تو ایک بار پھر ہذانی انداز میں چلانے لگی ۔۔۔
اس کی آواز سن کر اس کے گھر والے اور ڈاکٹر اندر بھاگ آئے ۔۔۔
ماریہ زور زور سے رو رہی تھی ۔۔
نہی امی جواد ایسا نہیں کر سکتا وہ مجھسے محبت کرتاہے وہ ایسا نہیں کر سکتا ۔۔۔اامییییییی جواد کو بلاؤ اسکو بتاؤ کہ ماریہ مر جائے گی وہ ایسا نہیں کر سکتا وہ کہتا تھا وہ میرے بغیر مر جائے گا ۔۔پلیز اسکو بلاؤ ۔۔کمرے میں آتے علی نے یہ ساری باتیں لفظ بہ لفظ سن لی۔۔اسکو پتہ چل گیا کہ یہ رشتہ ماسی نوراں نہیں لائی بلکہ ماریہ کا ہی کوئی عاشق تھا!!!
(جاری ہے)
#everyonehighlights #hihglights
![]()

