مانگنے سے دینے تک….. عورت کا باطنی سفر
تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ مانگنے سے دینے تک….. عورت کا باطنی سفر۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم )جب عورت فیصلہ کرتی ہے کہ وہ “عورت” ہی رہے گی….
یعنی تعریف کی محتاج، نگاہوں کی طلبگار، پسند کیے جانے کی خواہش میں جیتی ہوئی…….. تو وہ ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں شامل ہو جاتی ہے۔
ساٹھ برس کی عمر میں بھی ڈائٹنگ۔
چہرے پر وقت کے نقوش مٹانے کی جدوجہد۔
بیوٹی پارلروں کے دروازے، جیولری کی دکانوں کے چکر،
اور ہر آئینے کے سامنے وہی سوال:
“میں اچھی لگ رہی ہوں یا نہیں؟”
یہ سوال عمر سے بڑا ہو جاتا ہے۔
تعریف کی محتاجگی…
ستائش کی پیاس…
پسند کیے جانے کی خاموش طلب۔
مگر آئینہ جھوٹ نہیں بولتا۔ وہ صرف چہرہ نہیں دکھاتا،
وہ تھکن بھی دکھا دیتا ہے….. وہ اضطراب بھی جو “پسند کیے جانے” کی خواہش سے پیدا ہوتا ہے۔
پھر کچھ عورتیں ایک اور فیصلہ کرتی ہیں۔
وہ اندر ہی اندر عورت سے گزر جاتی ہیں… اور ماں بن جاتی ہیں۔
یہ ماں ہونا صرف اولاد جننے کا نام نہیں،
یہ ایک باطنی مقام ہے۔ ایک روحانی درجہ۔
وہ “مانگنے” والے مقام سے نکل کر “دینے” والے مقام پر آ جاتی ہیں۔
ان کے پیالے سے ہر ایک کے لیے کچھ نہ کچھ نکلتا رہتا ہے…..
وقت، دعا، مشورہ، سکون،
اور سب سے بڑھ کر… بے شرط محبت۔
وہ محبت کو سودا نہیں بناتیں۔ وہ بدلے میں کچھ نہیں چاہتیں۔نہ مسلسل تعریف، نہ خدمت کا تقاضا، نہ ہر لمحہ توجہ کی طلب۔
وہ آزاد ہو جاتی ہیں۔
کیونکہ جو دیتا ہے، وہ محتاج نہیں رہتا اور جو محتاج نہیں رہتا، وہ پرسکون ہو جاتا ہے۔
ماں ایک گھنا درخت ہوتی ہے۔ اس کے سائے میں اولاد بے خوف سو جاتی ہے۔ اس کی باہوں میں چھپ کر زمانے کی دھوپ کم لگتی ہے۔ اس کے پاس آ کر دل کی دھڑکنیں متوازن ہو جاتی ہیں۔
وہ خود شاید دھوپ میں کھڑی رہتی ہے مگر سایا دوسروں کو دیتی ہے۔
اگر محبت کا کوئی خالص، بے رنگ، بے غرض نام ہے……
تو وہ مامتا ہے۔
وہ محبت جو خود کو خرچ کر کے بھی کم نہیں ہوتی۔ وہ دعا جو ہر رات کسی اور کے نام لکھی جاتی ہے۔ وہ دل جو ٹوٹ کر بھی کسی کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔
عورت جب ماں کے مقام پر پہنچتی ہے تو وہ خوبصورت دکھنے سے زیادہ خوبصورت ہونے لگتی ہے۔
اور یہ خوبصورتی آئینے میں نہیں، دلوں میں نظر آتی ہے۔
#مقیتہ وسیم
#مانگنے_سے_دینے_تک
#ماں
#مامتا
#عورت
#روحانی_سفر
#بے_غرض_محبت
#مقیتہ_وسیم
![]()

