ماہ رمضان المبارک میں اعتدال
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رمضان آتا ہے توجہاں اکثر لوگ مہنگائی کا رونا روتے ہیں،
وہیں ایک ایوریج گھرانہ اسی مہینے میں پانچ سے دس لیٹر تیل چپ چاپ پی جاتا ہے۔
نتیجہ؟
رمضان ختم ہوتے ہوتے ہمارا وزن دو سے چار کلو بڑھ چکا ہوتا ہے۔
اصل مجرم؟
ڈیپ فرائیڈ کلچر۔
سارا دن روزہ رکھنے کے بعد جسم میں نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے،
اور جیسے ہی سامنے پکوڑے، سموسے، رول اور چٹنی آتی ہے،
بھوک بھڑک اٹھتی ہے۔
ایک ایوریج بندہ:
5 سے 10 پکوڑے اور کم از کم 1 سموسہ تو ضرور کھا لیتا ہے۔
اگر ہم کیلوریز کا حساب دیکھیں تو ایک پکوڑا: 70–80 کیلوریز
ایک درمیانہ سموسہ: 250–300 کیلوریز
میٹھی چٹنی + کیچپ کے ساتھ: 450–500 کیلوریز
صرف افطار میں ہی اکثر لوگ 1000 سے زائد کیلوریز کھا لیتے ہیں،
وہ بھی زیادہ تر کارب اور فیٹ کی صورت میں۔
اوپر سے رمضان میں ہماری ایکٹویٹی کم اور ورزش تقریباً ختم
نیند ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے سے دماغ سن رہتا ہے
تو وزن بڑھنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔
چلیں، ایک سادہ سا پلان بناتے ہیں
تاکہ رمضان کے بعد وزن کم بھی ہو اور طبیعت بہتر بھی رہے۔
سحری
ایک روٹی (تقریباً 100 گرام)
آدھا چمچ مکھن
ساتھ میں چکن/مٹن/بیف یا لوبیہ، چنے یا دال
(اگر سالن زیادہ گھی والا ہو تو مکھن نہ ڈالیں)
اگر ممکن ہو تو 1–2 انڈے
3–4 چمچ دہی + آدھا گلاس پانی مکس کر کے لسی بنا لیں۔
فجر کے بعد ہلکی واک لازمی۔
افطار
کھجور سے روزہ کھولیں
سادہ پانی جی بھر کے پئیں
نماز کے بعد ایک روٹی + کم تیل میں بنا سالن
تھوڑے چاول + سالن
ساتھ فروٹ اور سلاد
آخر میں، جب پیٹ بھر چکا ہو تو صرف دو پکوڑے کھائیں۔ اس روٹین سے آپ کا روز کا انٹیک 2000 کیلوریز کے آس پاس رکھیں گے
وزن بڑھے گا نہیں
بلکہ آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جائے گا
اس کے علاوہ افطار کے بعد تراویح کا اہتمام کریں —
ثواب بھی ملے گا اور کھڑے رہنے سے کیلوریز بھی جلیں گی۔
سونے سے پہلے چائے کے شوقین ہیں تو ایک کپ
اور جب تک جاگے رہیں، پانی پیتے رہیں۔
اگر ہم رمضان صرف عبادت نہیں بلکہ اپنی صحت کو ری سیٹ کر لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔
نوٹ
یہ کوئی پرسنل ڈائٹ پلان نہیں۔
آپ اپنے بجٹ اور کیلوریز کے حساب سے ایڈجسٹ کر سکتے ہیں
اپنے کسی ایسے دوست کو شئر کریں جو رمضان میں کافی مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔
منتخب
![]()

