Daily Roshni News

ماہ لقا بائی چندا – ایک تعارف

ماہ لقا بائی چندا – ایک تعارف

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اردو کی پہلی صاحبِ دیوان خاتون شاعرہ :ماہ لقا بائی چندا اٹھارہویں صدی کی نامور اردو شاعرہ، باکمال طوائف، موسیقار، رقاصہ اور صاحبِ ثروت مخیّر خاتون تھیں، جن کا تعلق ریاستِ حیدرآباد دکن سے تھا۔

وہ تاریخِ اردو ادب میں اس اعتبار سے منفرد مقام رکھتی ہیں کہ وہ پہلی خاتون شاعرہ تھیں جن کا مکمل دیوان شائع ہوا۔ ان کا دیوان 1798 میں مرتب ہوا۔۔۔

ان کا زمانہ وہ تھا جب دکنی اردو، فارسی آمیز شستہ اردو کی طرف انتقال کے مرحلے میں تھی۔ چنانچہ ان کی شاعری اس لسانی تبدیلی کا ایک قیمتی تاریخی دستاویز بھی سمجھی جاتی ہے۔

پیدائش و ابتدائی زندگی

ماہ لقا بائی کی ولادت چندا بی بی کے نام سے 7 اپریل 1768 کو اورنگ آباد میں ہوئی۔

ان کی والدہ راج کنور ایک باوقار طوائف تھیں جو راجپوتانہ سے دکن منتقل ہوئیں، جبکہ والد بہادر خان مغل شہنشاہ محمد شاہ کے دربار میں منصبدار تھے۔ بعد ازاں وہ حیدرآباد آ بسے۔

چندا بی بی کو ان کی خالہ مہتاب ماں نے گود لیا، جو نواب رکن الدولہ کی منظورِ نظر تھیں۔ انہی کی سرپرستی میں چندا بی بی کی تربیت نہایت شاہانہ اور علمی ماحول میں ہوئی۔ بہترین اساتذہ، کتب خانہ، موسیقی اور فنونِ لطیفہ سب کچھ میسر تھا۔

چودہ برس کی عمر میں:

گھڑ سواری، تیر اندازی اور نیزہ بازی میں غیر معمولی مہارت حاصل کر چکی تھیں۔

دربارِ نظام میں مقام و مرتبہ

دوسرے نظامِ دکن، میر نظام علی خان، نے ان کی ذہانت اور صلاحیتوں سے متاثر ہو کر انہیں “ماہ لقا بائی” (چاند سا چہرہ رکھنے والی) کا خطاب عطا کیا۔

وہ:

دربار میں شاملِ امراء رہیں

ریاستی معاملات میں مشورہ دیا کرتی تھیں

سفارتی ذمہ داریاں انجام دیتی تھیں

یہ اعزاز اس دور میں کسی عورت کو شاذ ہی نصیب ہوتا تھا۔

ان کی شان یہ تھی کہ:

پالکی کے ساتھ محافظ دستہ چلتا

نقارچی آمد کا اعلان کرتے

پانچ سو سپاہیوں کا دستہ ہمراہ رہتا

گویا وہ خود ایک متحرک دربار تھیں۔

عسکری مہارت اور معرکہ آرائیاں

ماہ لقا بائی محض شاعرہ یا رقاصہ نہ تھیں؛ وہ عملی میدان کی عورت تھیں۔

انہوں نے:

جنگِ کولار

جنگِ نرمل

جنگِ پانگل

میں نظام کے ساتھ شریک ہو کر نیزہ اور تیر اندازی کے جوہر دکھائے۔

بسا اوقات مردانہ لباس پہن کر میدانِ جنگ میں اترتیں۔

ایسی عورتیں تاریخ میں کم اور داستانوں میں زیادہ ملتی ہیں۔

شاعری اور ادبی خدمات

ان کا تخلص “چندا” تھا۔

وہ اردو، فارسی، عربی اور بھوجپوری زبانوں پر عبور رکھتی تھیں۔

ان کی شاعری میں:

عشق کی لطافت

تصوف کی رمزیت

درباری شکوہ

تینوں عناصر یکجا نظر آتے ہیں۔

ان کے دیوان میں 125 غزلیں ہیں اور ہر غزل میں 5 اشعار شامل ہیں۔ اور 7 غزلوں کو چھوڑ کر باقی ہر غزل کے مقطعوں میں مدح حضرت علی موجود ہے۔۔۔

وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے مردوں کے لیے مخصوص مشاعرہ میں باقاعدہ شرکت کی۔

موسیقی اور رقص

ماہ لقا بائی کلاسیکی موسیقی کی ماہر تھیں۔

استاد خوشحال خان (تان سین کی نسل سے) سے تربیت حاصل کی۔

انہیں:

ٹھمری

خیال

دروپد

مختلف راگوں خصوصاً یمن، بھیمل پالسی، بھیروی

میں کمال حاصل تھا۔

وہ دکنی طرزِ کتھک کی بہترین رقاصہ بھی تھیں، جو اب تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔

انہوں نے تین سو لڑکیوں کے لیے موسیقی، رقص، فنونِ لطیفہ کی باقاعدہ تربیت گاہ قائم کی۔

گویا وہ فن کی محافظ اور سرپرست دونوں تھیں۔

فیاضی اور سماجی خدمات

اردو ادب کی یہ شمع 1824 میں ہمیشہ کیلئے بجھ گئی۔۔۔

وصال کے وقت زمینیں، سونا چاندی، جواہرات سب کچھ بے گھر عورتوں کے نام وقف کر گئیں۔

ان کا گھر آج ایک لڑکیوں کے کالج میں تبدیل ہو چکا ہے یہی ان کی اصل میراث ہے۔

مرزا ہادی رسوا کے ناول “امراؤ جان ادا” کی تحریک

اور کئی ادبی کرداروں کی اساس ماہ لقا بائی کی شخصیت سے وابستہ ہے۔

انہوں نے ثابت کیا کہ:

عورت صرف موضوعِ شعر نہیں، خود شاعر بھی ہو سکتی ہے۔

– ضیاءالرحمن

Loading