مدینے کے تاجر
انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔ میاں عمران
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ مدینے کے تاجر ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عمران)یقین نہیں آ رہا تھا کہ سچ مچ ایسا ہو سکتا ہے۔ مدینے کی گلیاں بھوک سے بلک رہی تھیں اور ایک خاموش گھر سے وہ سخاوت پھوٹی کہ آسمانوں تک ہلچل مچ گئی۔
وہ رات جب فرشتے جھک گئے
تحریر : حقیقت اور فسانہ ۔ 🌙🤲📜
مدینہ طیبہ پر قحط کی سیاہ چادر تنی ہوئی تھی۔ آسمان سے پانی کا ایک قطرہ نہیں گرتا تھا اور زمین سے دانے نے منہ پھیر لیا تھا۔ معصوم بچوں کی آنکھوں میں بھوک کی سرخی اتر آئی تھی اور بڑوں کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھتے تھے اور خالی رہ جاتے تھے۔ ہوا میں ایک عجیب بے بسی تھی۔ بے بسی نہیں، موت کا سناٹا تھا جو بستی کے در و دیوار کو چاٹ رہا تھا۔ ایسے میں ہر طرف بس ایک ہی نام تھا، ایک ہی انتظار تھا۔ کسی قافلے کی آمد کا، کسی رحمت کے دروازے کے کھلنے کا۔ مگر وقت ٹھہرا ہوا تھا اور اللہ کی مار سے لرزتی زمین پر لوگوں کا یقین ڈگمگانے لگا تھا۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ رات کے آخری پہر میں جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بے قراری میں صحن میں قدم رکھا اور غم زدہ چہروں کو دیکھا تو ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا: “تم صبح نہیں کرو گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تم پر کشادگی فرما دے۔” یہ الفاظ نہیں تھے، یہ یقین تھا۔ یہ خلیفۂ رسول کا دل تھا جو غیب کی آواز سن رہا تھا۔ اور یقیناً پردۂ غیب سے وہ آواز آئی جس کا انتظار تھا۔ خبر گرم تھی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے تجارتی قافلے کے ایک ہزار اونٹ مدینے کی سرحد پر پہنچ چکے ہیں۔ ایک ہزار اونٹ، گندم سے لدے ہوئے، اشیائے خورونوش سے بھرے ہوئے، جیسے کسی نے جنت سے رزق کی نہر پھیر دی ہو۔ مدینے کے تاجروں کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا گیا۔
ⓕ ⓞ ⓛ ⓛ ⓞ ⓦ
Ⓗ Ⓐ Ⓠ Ⓔ Ⓔ Ⓠ Ⓐ Ⓣ
Ⓐ Ⓤ Ⓡ Ⓕ Ⓐ Ⓢ Ⓐ Ⓝ Ⓐ
مدینے کے تاجر جن کے دلوں میں دولت کی ہوس تھی اور جن کی آنکھوں میں منافع کی چمک تھی، فوراً جمع ہوئے۔ انہوں نے سوچا کہ قحط کے اس موقع پر یہ غلہ ان کے لیے سونے سے کم نہیں۔ وہ بھاگے بھاگے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے۔ ان کے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ انہوں نے غریبوں کی قسمت کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ یہ عام دستک نہیں تھی، یہ لالچ اور آزمائش کی دستک تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ گھر سے باہر تشریف لائے۔ ان کے کندھوں پر چادر تھی جس کے دونوں سرے مخالف سمت میں ڈالے ہوئے تھے۔ چہرے پر وہی حیادار سکون تھا، وہی پیکر رحمت والی نرمی تھی جسے دیکھ کر فرشتے بھی شرماتے تھے۔ انہوں نے پوچھا: “تم لوگ کس لیے آئے ہو؟” تاجروں نے بات کو گھمانے کی کوشش نہیں کی۔ بھوک اور بے بسی کا بازار گرم تھا اور خریدار پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ انہوں نے کہا، “ہمیں خبر پہنچی ہے کہ آپ کے پاس ایک ہزار اونٹ غلے کے آئے ہیں۔ آپ انہیں ہمارے ہاتھ فروخت کر دیجیے تاکہ ہم مدینے کے فقراء پر آسانی کریں۔” “آسانی کریں”، کتنے عجیب الفاظ تھے۔ زبان سے آسانی ٹپک رہی تھی اور دلوں میں فقراء کی مجبوری کو کیش کرنے کا پلان تیار تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پہاڑ کی طرح خاموش کھڑے رہے۔ ان کی آنکھوں میں گہرائی تھی۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ صرف فرمایا: “اندر آؤ۔” جب تاجر اندر داخل ہوئے تو ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ایک ہزار تھیلے قطار در قطار گھر کے صحن میں رکھے تھے۔ غلے کی ڈھیریاں نہیں، گویا قحط زدہ لوگوں کی زندگیاں رکھی تھیں۔ وہاں اندھیرا نہیں تھا، وہاں ایک عجیب نور تھا جو اس مال میں سے پھوٹ رہا تھا۔ دولت کی چمک نہیں تھی، بلکہ نیکی کی جھلک تھی جس نے ان لالچی آنکھوں کو چند لمحوں کے لیے جھکا دیا۔
تاجروں نے بے چینی سے پوچھا: “آپ کیا چاہتے ہیں؟” حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ تاریخی جملہ فرمایا جس نے زمانے کی تجارت کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ پوچھا: “اگر میں تمہارے ہاتھ فروخت کروں تو تم مجھے کتنا منافع دو گے؟” یہ جملہ سن کر تاجروں کے چہرے کھل گئے۔ انہوں نے سوچا کہ بظاہر یہ بھی سودے کی زبان بول رہے ہیں۔ انہوں نے اپنا پہلا پتہ پھینکا۔ بولے: “دس پر بارہ۔” یہ قحط کے زمانے میں بہت بڑی قیمت تھی۔ مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صرف ایک نظر ان پر ڈالی اور فرمایا: “کچھ اور بڑھاؤ۔” یہ سن کر تاجروں کی حیرت بڑھی، لیکن ساتھ ہی ان کے دل میں خوشی کا بگل بج گیا کہ شاید ذیادہ منافع کی بھوک ہے۔ انہوں نے جلدی سے اگلا ہندسہ پیش کیا: “دس پر چودہ۔” حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پھر وہی دھیمی لیکن پر وقار آواز میں فرمایا: “اور بڑھاؤ۔” اب تاجروں کی مت مارے جانے لگی تھی۔ انہوں نے اپنی جانکاری کے مطابق آخری حد مقرر کی جس سے آگے کوئی دنیا دار تاجر نہیں جا سکتا تھا۔ بولے: “دس پر پندرہ۔” حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پلکیں جھپکائیں اور فرمایا: “اور بڑھاؤ۔” یہ سن کر تاجر ہکا بکا رہ گئے۔ ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا: “اس سے زیادہ کون دے گا؟ جب کہ ہم مدینے کے سب سے بڑے تاجر ہیں اور ہم سے بڑھ کر نفع کی بولی کسی کے پاس نہیں۔” انہیں اپنی تجارتی برتری پر ناز تھا۔ انہیں لگا کہ ان سے بڑا منافع دینے والا کوئی نہیں۔ یہ سن کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک دوڑ گئی۔ یہ چمک دنیا کے خزانوں کی نہیں تھی، یہ آخرت کے سودے کی تھی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر ایسی بات کہی کہ زمین سے لے کر عرش تک خاموشی چھا گئی۔ فرمایا: “اور بڑھاؤ۔ ہر درہم پر دس درہم تمہارے لیے زیادہ ہیں؟” تاجر چونک گئے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کون سا نفع ہے جس کی یہ بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے حیرت سے کہا: “نہیں، ہر درہم پر دس درہم تو ہم نہیں دے سکتے۔ یہ تو ناممکن ہے۔” یہ سن کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سیدھے کھڑے ہو گئے۔ ان کی چادر زمین پر لٹک رہی تھی اور ان کا سر آسمان کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ انہوں نے وہ جملہ فرمایا جس نے مدینے کے مفلسوں کی قسمت بدل دی، جسے سن کر زمین پر فرشتوں کے پرچم لہرانے لگے۔ فرمایا: “اے گروہِ تجار! تم گواہ ہو جاؤ کہ میں نے یہ تمام مال، یہ ایک ہزار اونٹ غلے کے، مدینے کے فقراء پر اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیا۔” ایک لمحے کو سانس رک گئے۔ تاجروں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جن ہاتھوں میں وہ سونے کا پہاڑ تھامنے کی امید لیے آئے تھے، وہ ہاتھ خالی رہ گئے۔ انہیں لگا جیسے ان کی تجارت کی ساری سمجھ دھری کی دھری رہ گئی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ سودا کر دکھایا جہاں دس پر پندرہ نہیں، دس پر سات سو گنا نفع ملتا ہے۔ جہاں گندم کے دانے نہیں، جنت کی حوریں خریدنی تھیں۔ جہاں تاجر نہیں، فرشتے بولی لگاتے ہیں۔
اسی رات مدینے میں خاموشی چھائی تو نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی خواب گاہ میں تھے۔ ان کی آنکھ لگی تو انہوں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس کی خوشبو آج بھی تاریخ کے صفحات سے آتی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے خواب میں تشریف لائے۔ آپ ﷺ سیاہی مائل سفید سواری پر جلوہ افروز تھے اور تیزی سے کہیں جا رہے تھے۔ جلدی اس قدر تھی کہ جیسے کوئی انتہائی اہم تقریب ہو۔ حضرت عبداللہ بن عباس غور کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دست مبارک میں ایک قندیل تھی جس سے روشنی نور کی طرح پھوٹ رہی تھی۔ صرف قندیل ہی نہیں، آپ ﷺ کے نعلین مبارک کے تسموں سے بھی نور پھوٹ رہا تھا۔ وہ نور تھا جو عرش سے اترا تھا، جو قربانی کی خوشبو سے روشن ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طبیعت بے چین ہو گئی۔ انہوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ میری رغبت اور محبت آپ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ آپ اس قدر جلدی میں کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟” یہ سوال تھا یا عشق کا تقاضا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور وہ الفاظ فرمائے جنہیں سن کر حضرت عبداللہ بن عباس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ ارشاد فرمایا: “یہ عثمان کی اس نیکی کا بدلہ ہے جو اس نے ایک ہزار اونٹ اللہ کی راہ میں صدقہ کیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا صدقہ قبول فرمایا اور اس کا نکاح جنت کی ایک حور سے فرما دیا۔ اور میں عثمان کی اس خوشی میں شریک ہونے جا رہا ہوں۔” سبحان اللہ۔ کیا شان ہے پیکر حیا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی۔ یہ صرف ایک خواب نہیں تھا، یہ اس سچائی کا منظر تھا جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے۔ یہ اس آیت کی تصدیق تھی کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے، اللہ اس کا بدلہ لائے گا۔ اور کیا خوب بدلہ ہے کہ محبوبِ کائنات ﷺ خود اس کی خوشی میں شریک ہونے جا رہے ہیں۔ جلدی تھی، قندیل تھی، نعلین کے تسموں سے پھوٹتا نور تھا۔ کتنا بڑا اعزاز ہے وہ جس کے لیے آقا ﷺ کا دل بے قرار ہو۔ جس کے لیے آپ ﷺ رات کے وقت سوار ہو کر نکلیں۔ یہ وہی عثمان ہیں جن سے فرشتے حیا کرتے ہیں۔ جنہوں نے دنیا کی تجارت کو ٹھوکر مار کر آخرت کا نفع خرید لیا۔
آج کی تاریخ میں ہم منافع کی سوچ سے غلام ہیں۔ ہم دس پر گیارہ کے لیے بھی سو بار سوچتے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے پورا قافلہ صدقہ کرتے ہوئے ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی۔ انہوں نے تاجروں کی بولی سنی اور پھر اس آخری خریدار کی طرف دیکھا جس کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آتی۔ انہوں نے دنیا کا چھوٹا اجر چھوڑا اور آخرت کے بڑے اجر کو تھام لیا۔ ہمارے لیے نصیب کی بات ہے کہ ہماری دہلیز پر بھی اگر کبھی ایسا موقع آئے تو ہم اس رخصت ہوتے مال کو عنایت کرنے میں دیر نہ کریں۔ کاش ہم وہ خواب دیکھ سکیں جو حضرت عبداللہ بن عباس نے دیکھا۔ کاش ہماری آنکھیں اس نور کو دیکھ سکیں جو قندیل سے نہیں، ہمارے اپنے اعمال سے پھوٹ سکتا ہے۔ کاش ہم سمجھ سکیں کہ جب آقا ﷺ کسی کی خوشی میں شریک ہونے جا رہے ہوں تو وہ خوشی کتنی عظیم ہوگی۔ جنت کی حور سے نکاح، یہ مذاق نہیں، یہ اللہ کی رضا کی انتہا ہے۔ یہ ان کے لیے ہے جو بھوکے پیٹوں پر اپنی دولت کو ترجیح نہیں دیتے۔ جن کی تجارت میں فقراء کا منافع چھپا ہوتا ہے۔
🌙
خلاصہ یہ کہ :
تاریخ کے اس سنہری باب نے بتا دیا کہ دولت کبھی گھٹتی نہیں جب وہ اللہ کے نام پر لٹائی جائے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تاجروں کی آنکھوں میں دیکھا اور زمین کے بجائے آسمان کا سودا کر لیا۔ اس فیصلے کی خوشبو آج بھی زندہ ہے اور اس سخاوت کا نور قیامت تک زندہ رہے گا۔
اگر آپ یہاں تک پہنچے ہیں… تو اس کا مطلب ہے یہ کہانی کہیں نہ کہیں آپ کو چھو گئی ہے۔ لائک کر کے بتائیں۔
ایسی کہانیاں جو دل میں رہ جائیں… حقیقت اور فسانہ کو فالو کریں۔
کمنٹ میں صرف ایک لفظ لکھیں… جو آپ ابھی محسوس کر رہے ہیں۔
![]()

