مذہب اور انسانی معاملات
انتخاب۔۔۔ میاں عاصم محمود
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ مذہب اور انسانی معاملات۔۔۔ انتخاب۔۔۔ میاں عاصم محمود)کہا جاتا ہے کہ مذہب نے انسانوں کو اخلاقیات دیں اور مذہب سے پہلے اخلاقیات اور نیکی نہیں تھی ۔ مذہب نے ہی انسانوں کو محبت اور رحمدلی سکھائی۔ مذاہب آنے سے پہلے لوگ ظلم و جبر رکھتے رھے۔ مگر عمرانیات اور آرکیو جینٹیسسٹس کے علماء کی دریافت سے معلوم ہوتا ہے کہ لاکھوں سال پہلے جب مذہب نہ تھا تو تب بھی انسانوں کی قدیم نسلیں محبت، پیار اور ہمدردی جیسی اعلی اخلاقیات رکھتی تھیں۔
1808ایک 1.7-ملین سالہ خاتون ہومو ایرگاسٹر (یا ہومو ایریکٹس) کی باقیات ہیں جسے 1973 میں کوبی فورہ، کینیا میں گلین آئزاک کی ٹیم نے دریافت کیا تھا۔ اس ہومو ایریکٹس کے اعضاء پر وسیع پیمانے پر ہڈیوں کی غیر معمولی نشوونما (پیریوسٹیل ری ایکشن) دیکھی گئی، جو ممکنہ طور پر گوشت خور جگر یا شہد کی مکھیوں کے لاروا کی بڑی مقدار کے استعمال سے شدید ہائپر ویٹامنوسس اے (وٹامن اے پوائزننگ) کی وجہ سے ہوتی ہے۔
جس کی وجہ سے جسم بہت تکلیف اور درد میں رہتا ہے۔ چلنے پھرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔
اس خاتون کی لمبی ہڈیوں پر غیر معمولی تہوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مرنے سے پہلے ایک تکلیف دہ، طویل مدتی بیماری میں مبتلا تھی، اور وہ بیماری کے ساتھ بھی کتنے ہفتوں تک زندہ رہی۔ممکنہ طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کی دیکھ بھال اس کے سماجی گروپ نے کی تھی۔
اس لئے وہ بیماری کے ساتھ بھی زندہ رہ سکی اور اگر کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہوتا تو وہ جلدی مر جاتی۔ اور بیماری کے ساتھ زندہ نہ رہ پاتی۔
اب سترہ لاکھ سال پہلے مذہب نہیں ہوتا تھا لیکن انسانوں کی قدیم نسلیں تب بھی ہمدردی ، احساس، محبت جیسی اعلی اخلاقیات رکھتی تھیں ۔ تب اک ہی نسل کے سب گروہ محبت سے رہتے اور ان میں کوئی مذہبی تعصب نہ ہوتا۔ اور نہ مذہبی نفرت سے اک دوجے کی جان لیتے۔ اور اب پانچ ہزار سالوں میں مذہب کے نام پہ جو جنگیں ہوئیں ان جنگوں میں اربوں کے قریب انسانوں نے نے اپنی جانیں گنوائیں ۔
اصباح نومینا
![]()

