مرادِ مصطفیٰ سے مرادِ شہادت تک: فاروقِ اعظمؓ کا سفرِ عشق و عدل
(قسط اول: ولادت، جاہلیت اور عشقِ رسول کا آغاز)
۱. پسِ منظر، ولادت اور خطاب کا گھرانہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )عام الفیل (حضور ﷺ کی ولادت کا سال) کے قریباً تیرہ برس بعد، مکہ مکرمہ کے ایک معزز گھرانے میں ایک ایسے بچے نے جنم لیا جس کی آمد پر قریش کے قبیلے بنو عدی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ باپ کا نام خطاب بن نفیل تھا، جو اپنی سخت مزاجی، غیرت اور جاہلانہ مروت میں پورے مکے میں جانا جاتا تھا۔ ماں کا نام حنتمہ بنت ہاشم تھا، جو مخزوم قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں اور انتہائی مدبر خاتون تھیں۔ بچے کا نام ‘عمر’ رکھا گیا۔
عمر کا بچپن مکے کی عام روایات سے بالکل مختلف تھا۔ خطاب ایک انتہائی سخت گیر باپ تھا۔ وہ اپنے بیٹے عمر سے مکے کے تپتے ہوئے پہاڑی علاقوں میں اونٹ چرواتا تھا۔ تپتی دھوپ، پیاس کی شدت اور ذرا سی غفلت پر باپ کے کوڑوں کی مار نے عمر کو بچپن ہی سے چٹان کی طرح مضبوط اور جفاکش بنا دیا۔ (یہی وجہ تھی کہ اپنی خلافت کے دور میں ایک بار حضرت عمرؓ اسی مقام سے گزرے جہاں اونٹ چرایا کرتے تھے، تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے مجمع سے فرمایا: *”ایک وقت تھا جب میں یہاں خطاب کے اونٹ چراتا تھا، ذرا سی سستی پر وہ مجھے بے رحمی سے پیٹتا تھا، اور آج یہ سماں ہے کہ اللہ کے سوا میرا کوئی حاکم نہیں”*۔)
عمر جیسے جیسے جوان ہوئے، ان کی شخصیت قریش کے تمام جوانوں سے نمایاں ہوتی چلی گئی۔ وہ دراز قد، کڑیل جسم، سرخی مائل گندمی رنگت اور انتہائی رعب دار آنکھوں کے مالک تھے۔ جب وہ ہجوم میں کھڑے ہوتے، تو ایسا لگتا جیسے گھوڑے پر سوار ہیں کیونکہ ان کا قد سب سے اونچا ہوتا تھا۔
۲. مکے کا سفیر اور پہلوان
زمانۂ جاہلیت میں مکے کے اندر لکھنا پڑھنا ایک نایاب فن تھا۔ پورے قریش میں انگلیوں پر گنے جانے والے چند لوگ تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے، اور عمر ان خوش قسمت لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے اس فن میں مہارت حاصل کی۔ پڑھنے لکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر فصاحت و بلاغت اور انساب دانی (قبیلوں کے شجرہ نسب کی پہچان) کا خدا داد ملکہ تھا۔
ان کی اسی ذہانت اور رعب کی وجہ سے قریش نے انہیں اپنا **”سفارت کار” (Ambassador)** مقرر کیا ہوا تھا۔ جب بھی قریش کا کسی دوسرے قبیلے سے تنازع یا جنگ کا خطرہ ہوتا، تو عمر کو سفیر بنا کر بھیجا جاتا تھا، اور ان کی زبان کا جادو اور شخصیت کا رعب بڑے بڑے معرکوں کو بغیر تلوار چلائے حل کر دیتا تھا۔
سفارت کاری کے ساتھ ساتھ عمر عکاظ کے میلے کے مشہور پہلوان تھے۔ شہسواری اور کشتی رانی میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ وہ دوڑتے ہوئے گھوڑے پر اس کی پشت کو چھوئے بغیر چھلانگ لگا کر سوار ہو جایا کرتے تھے۔ وہ شراب پیتے، بتوں کی پوجا کرتے، اور اپنی خاندانی روایات پر اس حد تک کٹر تھے کہ قریش کے دین پر آنچ آنے کو اپنی موت سمجھتے تھے۔
۳. دعوتِ توحید اور عمر کی دشمنی
جب مکے کے افق پر اسلام کا سورج چمکا اور کائنات کے سب سے سچے انسان محمد رسول اللہ ﷺ نے صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہو کر توحید کی صدا بلند کی، تو مکے کے سرداروں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ قریش کو لگا کہ ان کا خاندانی نظام اور آباؤ اجداد کا دین خطرے میں ہے۔
عمر بن خطاب، جو اپنے آبائی دین کے محافظ تھے، اس نئی دعوت کے شدید ترین مخالف بن کر ابھرے۔ ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب کی آگ بھڑک اٹھی۔ انہوں نے مکے کی گلیوں میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا وہ بازار گرم کیا کہ تاریخ کانپ اٹھتی ہے۔
* بنو عدی کی ایک لونڈی ‘لبینہ’ نے جب اسلام قبول کیا، تو عمر اسے روزانہ اس بے رحمی سے پیٹتے کہ خود تھک جاتے۔ جب تھک کر ہاتھ روکتے تو فرماتے: *”میں نے تجھے رحم کھا کر نہیں چھوڑا، بلکہ میرا بازو تھک گیا ہے”*۔ اور وہ مظلوم لونڈی جواب دیتی: *”اے عمر! اگر تو ایمان نہ لایا تو اللہ تجھ سے اس کا پورا بدلہ لے گا”*۔
* زنیرہ رومیہؓ نامی صحابیہ کو انہوں نے اس قدر مارا کہ ان کی آنکھیں چلی گئیں، مگر ایمان کی دولت ایسی تھی کہ کوئی مسلمان عمر کے کوڑوں کے خوف سے پیچھے نہ ہٹا۔
عمر پریشان تھے کہ یہ کیسا جادو ہے جو محمد (ﷺ) کے پاس ہے، جسے ایک بار چھو جائے وہ مار کھا کر بھی مسکراتا ہے۔ عمر کی راتوں کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں۔ مکے کے گھر گھر میں جدائی پڑ چکی تھی، بھائی بھائی کا دشمن ہو چکا تھا۔ عمر نے سوچا کہ اس سارے فساد کی جڑ (نعوذ باللہ) خود محمد ﷺ کی ذات ہے، جب تک انہیں راستے سے نہیں ہٹایا جائے گا، مکہ پرامن نہیں ہوگا۔
۴. مرادِ مصطفیٰ ﷺ کا عرش ہلا دینے والا سحر
جب زمین عمر کے ظلم سے تپ رہی تھی، تو دوسری طرف رحمتِ عالم ﷺ راتوں کو مصلے پر رو رو کر کائنات کے مالک سے جھولیاں پھیلا کر مانگ رہے تھے۔ آقا ﷺ جانتے تھے کہ اسلام کو مکے میں پھیلنے کے لیے کسی ایسی طاقتور شخصیت کی ضرورت ہے جس کا اپنا ایک رعب ہو۔ چنانچہ ایک رات دارِ ارقم میں آقا ﷺ نے وہ تاریخی دعا مانگی جو تقدیر کا رخ موڑنے والی تھی:
**حدیثِ مبارکہ:** رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی:
*”اللَّهُمَّ أَعِزَّ الإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ”*
(یا اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام (ابوجہل) میں سے جو شخص تجھے زیادہ محبوب ہو، اس کے ذریعے اسلام کو عزت اور غلبہ عطا فرما۔) *(جامع ترمذی: ۳۶۸۱)*
اللہ کے علم میں محبوب تر کون تھا؟ وہ ‘خطاب کا بیٹا عمر’ تھا۔ اب تقدیر الٰہی حرکت میں آ چکی تھی، مکے کا جلاد، عرش والے کی مراد بننے والا تھا۔
۵. ننگی تلوار اور بہن کا خون (قبولِ اسلام کا رقت آمیز واقعہ)
ایک کڑی دھوپ والے دن، عمر نے غصے کی حالت میں اپنی تلوار میان سے نکالی۔ ان کی آنکھیں خونخوار ہو رہی تھیں، چہرہ غصے سے لال تھا۔ وہ سیدھے رسول اللہ ﷺ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ (نعوذ باللہ) قصہ پاک کر دیں۔ راستے میں قبیلہ بنو زہرہ کے ایک شخص نعیم بن عبداللہ (جو چھپ کر مسلمان ہو چکے تھے) سے سامنا ہوا۔ عمر کی حالت دیکھ کر نعیم نے پوچھا: *”عمر! کہاں کا ارادہ ہے؟”*
عمر نے گرج کر جواب دیا: *”آج میں محمد (ﷺ) کا فیصلہ کرنے نکلا ہوں جس نے قریش میں پھوٹ ڈال دی ہے”*۔
نعیم بن عبداللہ نے عمر کو روکنے اور آقا ﷺ کی جان بچانے کے لیے ایک ایسا جملہ کہا جس نے عمر کے پیروں تلے سے زمین نکال دی۔ نعیم نے کہا: *”عمر! پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو! تمہاری اپنی بہن فاطمہ اور تمہارا بہنوئی سعید بن زید بھی محمد (ﷺ) کا دین قبول کر کے مسلمان ہو چکے ہیں”*۔
یہ سننا تھا کہ عمر کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ انہوں نے رخ بدلا اور سیدھے بہن کے گھر کی طرف دوڑے۔ جب گھر کے قریب پہنچے، تو اندر سے ایک انتہائی خوبصورت اور مدہم تلاوت کی آواز آ رہی تھی۔ صحابیِ رسول حضرت خباب بن الارتؓ انہیں پوشیدہ طور پر قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ عمر نے دروازے پر زور سے دستک دی۔ اندر تلاوت رک گئی، خباب بن الارتؓ خوف کے مارے چھپ گئے اور بہن فاطمہ نے قرآن کے صحیفے (اوراق) کو اپنے لباس میں چھپا لیا۔
جیسے ہی دروازہ کھلا، عمر اندر داخل ہوئے اور گرج کر پوچھا: *”یہ کیسی آواز تھی جو میں نے سنی؟”* بہنوئی سعید بن زید نے بات سنبھالنے کی کوشش کی، لیکن عمر نے غصے میں آ کر اپنے بہنوئی پر حملہ کر دیا اور انہیں زمین پر گرا کر ان کی چھاتی پر بیٹھ گئے۔ جب بہن فاطمہ اپنے شوہر کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں، تو عمر نے غصے میں آ کر ان کے چہرے پر ایک ایسا زوردار تھپڑ مارا کہ ان کا چہرہ لہولہان ہو گیا اور خون کی دھار بہہ نکلی۔
مگر یہاں ایک معجزہ ہوا۔ مکے کا وہ جلاد جس کے سامنے سردار کانپتے تھے، جب اس نے اپنی سگی بہن کے چہرے پر خون دیکھا، تو اس کے دل کے اندر کہیں مامتا اور غیرت نے انگڑائی لی۔ اسی وقت بہن فاطمہ نے خون پونچھتے ہوئے، شیرنی کی طرح گرج کر وہ جملہ کہا جس نے عمر کی روح کو ہلا کر رکھ دیا: *”عمر! سن لو! تم جو چاہے کر لو، اب ایمان ہمارے دلوں میں اتر چکا ہے۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ!”*
عمر خاموش ہو گئے۔ وہ بہنوئی کے اوپر سے اٹھے۔ ان کی نظریں اپنی بہن کے پرنور لیکن لہولہان چہرے پر ٹک گئیں۔ انہوں نے نرمی سے کہا: *”مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے”*۔ بہن نے فرمایا: *”عمر! تم شرک کی وجہ سے ناپاک ہو، اور اس پاک کتاب کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں، پہلے جاؤ اور غسل کرو”*۔
عمر، جو مکے کے سفیر تھے، خاموشی سے اٹھے، غسل کیا اور جب واپس آئے تو بہن نے سورہ طٰہٰ کے اوراق ان کے ہاتھ میں تھما دیے۔ عمر نے پڑھنا شروع کیا:
**”طه . مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى . إِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَى . تَنزِيلاً مِّمَّنْ خَلَقَ الْأَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلَى…”**
(طٰہٰ۔ ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لیے نہیں اتارا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں۔ بلکہ یہ تو اس کے لیے نصیحت ہے جو ڈرتا ہے۔ یہ اس ذات کی طرف سے نازل ہوا ہے جس نے زمین اور بلند آسمان پیدا کیے۔)
عمر جیسے جیسے آگے پڑھتے گئے، ان کا جسم کانپنے لگا۔ ان کی آنکھوں سے انسوؤں کا سیلاب جاری ہو گیا۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے:
**”إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي”**
(بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی عبادت کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔)
تو عمر پکار اٹھے: *”یہ کلام کسی انسان کا نہیں ہو سکتا! مجھے محمد (ﷺ) کے پاس لے چلو!”*
یہ سن کر حضرت خباب بن الارتؓ خوشی سے الٹے پاؤں چھپنے کی جگہ سے باہر نکل آئے اور پکارے: *”عمر! مبارک ہو! خدا کی قسم مجھے امید ہے کہ کل رات رسول اللہ ﷺ نے جو دعا مانگی تھی، وہ تمہارے حق میں قبول ہو چکی ہے!”*
۶. دارِ ارقم کا منظر اور مکے کی گلیوں میں تکبیر
عمر اسی حالت میں ننگی تلوار ہاتھ میں لیے دارِ ارقم کی طرف چلے جہاں حضور ﷺ صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ جب دروازے پر دستک ہوئی، تو ایک صحابی نے دروازے کی جھری سے دیکھا اور گھبرا کر کہا: *”یا رسول اللہ! عمر ہاتھ میں تلوار لیے کھڑا ہے”*۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ (جو چند دن پہلے ہی مسلمان ہوئے تھے) نے تلوار پر ہاتھ رکھا اور شیر کی طرح گرج کر فرمایا: *”آنے دو عمر کو! اگر وہ بھلائی کے ارادے سے آیا ہے تو ٹھیک، ورنہ میں اسی کی تلوار سے اس کا سر قلم کر دوں گا!”*
لیکن رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا: *”راستہ چھوڑ دو”*۔ آقا ﷺ خود آگے بڑھے، عمر کو دیکھا، ان کی چادر کا پلو اپنے دستِ مبارک میں پکڑا اور زور سے جھٹکا دے کر فرمایا: *”عمر! تم کس ارادے سے آئے ہو؟ کیا تم اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک اللہ تم پر بھی ولید بن مغیرہ جیسی رسوائی نازل نہ کر دے؟”*
عمر کا سارا رعب ختم ہو چکا تھا۔ وہ کڑیل جوان آقا ﷺ کے قدموں میں گر پڑا، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور گڑگڑا کر بولا: *”یا رسول اللہ! میں اللہ، اس کے رسول اور اس کتاب پر ایمان لانے آیا ہوں جو اللہ کی طرف سے اتری ہے”*۔
آقا ﷺ نے جیسے ہی یہ سنا، آپ ﷺ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی اور آپ ﷺ نے اتنی بلند آواز میں **”اللہ اکبر”** کا نعرہ لگایا کہ دارِ ارقم کی دیواریں لرز اٹھیں، اور صحابہ نے اس زور سے تکبیر پکاری کہ پورے مکے کے پہاڑ گونج اٹھے۔ قریش سمجھ گئے کہ آج مکے کی تاریخ بدل گئی ہے۔ عمر مسلم ہو چکے تھے۔
![]()

