مرتبہ، قربِ خدا کی اصل پہچان
تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ مرتبہ، قربِ خدا کی اصل پہچان۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم )اردو کا ایک لفظ ہے: مرتبہ۔
یہ دراصل تین الفاظ کا مجموعہ ہے.
وہ الفاظ یہ ہیں ۔۔۔ مر تب آ ۔۔
یہ صرف ایک درجہ نہیں، ایک کیفیت ہے۔ ایک روحانی مقام ہے.
کچھ لوگ اسے دنیا کے اعزاز، شہرت یا طاقت سے جوڑ دیتے ہیں،
لیکن اصل مرتبہ وہ ہے جو رب کے ہاں طے ہوتا ہے…..
وہ جو دل کی گہرائی میں لکھا جاتا ہے، نہ کہ دیواروں پر۔
اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے دنیا میں عیش نہیں کرتے، وہ قرب میں رہتے ہیں۔
ان کی سب سے بڑی آسودگی یہ ہوتی ہے کہ وہ رب کو یاد کرتے ہیں اور رب انہیں یاد رکھتا ہے۔
وہ ہر دور میں ہوتے ہیں۔ وہ راستہ بتاتے ہیں، قیمت نہیں لگاتے۔
ان کی بات سن کر انسان چونک جاتا ہے کیونکہ وہ دل پر دستک دیتی ہے۔
ان کی گفتگو میں بناوٹ نہیں ہوتی، اس لیے اثر رکھتی ہے۔
قرآن میں ارشاد ہے:
“بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ”
(قرآن مجید، سورۂ یٰس 27)
“کہ میرے رب نے مجھے بخش دیا اور مجھے باعزت لوگوں میں شامل کر دیا۔”
مکرم ہونا…..
یہی اصل مرتبہ ہے۔
اور مکرم وہ بنتا ہے جو دل تک پہنچ جائے…
اور دل میں اگر “وہ” آ جائیں، تو سب کچھ سنور جاتا ہے۔
خدا کا قرب کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں۔ نہ یہ کسی خاص طبقے کی میراث ہے۔
نماز کے قریب ہو جائیے، ذکر کے قریب ہو جائیے، سچائی کے قریب ہو جائیے……..
راستہ خود بننے لگتا ہے۔
لوگ گاڑی خرید لیتے ہیں، مگر سڑک نہیں خرید سکتے۔
راستہ بنانا اختیار والوں کا کام ہوتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ جب اختیار صرف منافع کو پہچانے
اور تقدس کو نہ پہچانے، تو معاشرے میں راستے کم اور رکاوٹیں زیادہ ہو جاتی ہیں۔
لیکن یاد رکھیے…..
اصل راستہ زمین پر نہیں بنتا، وہ دل میں بنتا ہے۔
اور جس کے دل میں راستہ کھل جائے، اس کا مرتبہ طے ہو جاتا ہے۔
#مقیتہ وسیم
#مرتبہ
#قرب_الہی
#روحانیت
#قرآنی_تفکر
#مکرم
#نماز
#ذکر
#معرفت
#دل_کا_راستہ
#MoquitaWasim
![]()

