Daily Roshni News

مرد اور عورت — قابلیت کا معیار جنس نہیں، شعور ہے

مرد اور عورت —

 قابلیت کا معیار جنس نہیں، شعور ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)مرد اور عورت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ہم اکثر ایک غیر ضروری سوال میں الجھ جاتے ہیں کہ کون زیادہ عقل مند ہے، کون زیادہ قابل ہے اور کون برتر ہے؟

شاید سوال ہی درست نہیں۔

خواجہ شمس الدین عظیمی کی تحریروں اور صوفیانہ فکر کی روشنی میں انسان کو صرف اس کے ظاہری جسم اور جنس سے نہیں، بلکہ اس کے شعور، علم، کردار، اخلاق اور روحانی استعداد سے دیکھنا چاہیے۔

مرد اور عورت میں فطری فرق ضرور ہے۔ جسمانی ساخت، ذمہ داریوں اور زندگی کے بعض کرداروں میں فرق بھی فطرت کا حصہ ہے۔ لیکن فرق کا مطلب کم تری یا برتری نہیں ہوتا۔

ایک عورت صرف عورت ہونے کی وجہ سے کم عقل نہیں ہوسکتی، جیسے ایک مرد صرف مرد ہونے کی وجہ سے صاحبِ بصیرت نہیں ہوجاتا۔

قابلیت انسان کی اپنی ہوتی ہے۔

کسی عورت میں علم، تدبر، معاملہ فہمی اور غیر معمولی بصیرت ہوسکتی ہے، اور کسی مرد میں یہی صفات کم بھی ہوسکتی ہیں۔ اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے۔

اس لیے عقل کا تعلق صرف جنس سے جوڑ دینا انسانی صلاحیت کے وسیع دائرے کو بہت محدود کر دیتا ہے۔

🌸 عورت کی صلاحیت کو سمجھنے کی ضرورت

خواجہ شمس الدین عظیمی نے خواتین کے روحانی مقام اور صلاحیت کو نمایاں کرنے کے لیے „ایک سو ایک اولیاء اللہ خواتین“ جیسی کتاب تحریر کی۔ اس میں خواتینِ اولیاء کے حالات کو سامنے لانا خود اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ روحانی شعور، معرفت اور باطنی ترقی کسی ایک جنس تک محدود نہیں۔

تاریخ میں حضرت رابعہ بصریؒ جیسی خواتین اس حقیقت کی روشن مثال ہیں کہ عورت بھی علم، عبادت، معرفت اور روحانی بصیرت میں بلند مقام حاصل کرسکتی ہے۔

یہاں مقصد مرد کو کم تر ثابت کرنا نہیں، بلکہ عورت کو بھی وہی انسانی احترام دینا ہے جس کی وہ مستحق ہے۔

🌿 مرد کی عظمت بھی صرف مرد ہونے میں نہیں

یہ اصول مرد کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔

مرد کی اصل عظمت اس کی طاقت، اختیار یا آواز کی بلندی میں نہیں بلکہ اس کے عدل، ذمہ داری، علم، تحمل، کردار اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری میں ہے۔

اسی طرح عورت کی اصل قدر صرف اس کی ظاہری خوب صورتی یا گھریلو کردار سے نہیں بلکہ اس کے علم، کردار، شعور، تربیت اور انسانیت سے بھی وابستہ ہے۔

🤝 مقابلہ نہیں، تکمیل

مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا مقابل سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے کا تکمیل کرنے والا وجود سمجھنا زیادہ خوب صورت اور متوازن تصور ہے۔

گھر ہو یا معاشرہ، زندگی اس وقت زیادہ خوب صورت بنتی ہے جب دونوں ایک دوسرے کی عزت، صلاحیت اور حدود کو سمجھیں۔

مرد عورت کو کم تر نہ سمجھے،

عورت مرد کو محض حریف نہ سمجھے۔

دونوں ایک دوسرے کے لیے آسانی، سکون، تعاون اور خیر کا ذریعہ بنیں۔

🕊️ اصل برتری کہاں ہے؟

اگر ہم واقعی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے سے بہتر کیوں ہے تو صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ وہ مرد ہے یا عورت۔

دیکھنا یہ چاہیے:

اس کا علم کتنا ہے؟

اس کا شعور کتنا بیدار ہے؟

اس کا کردار کیسا ہے؟

وہ دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے؟

وہ اپنے اختیار کو کیسے استعمال کرتا ہے؟

اور وہ اپنی زندگی سے دوسروں کے لیے کتنا خیر پیدا کرتا ہے؟

یہ وہ معیار ہیں جو انسان کو بلند کرتے ہیں۔

آخرکار:

مرد ہونا کوئی کمال نہیں،

عورت ہونا کوئی کمال نہیں؛

اصل کمال ایک اچھا، باشعور اور باکردار انسان ہونا ہے۔

مرد اور عورت دونوں اللہ کی تخلیق ہیں، دونوں میں صلاحیتیں ہیں، دونوں سیکھ سکتے ہیں، دونوں سوچ سکتے ہیں، دونوں اپنی اصلاح کرسکتے ہیں اور دونوں انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

لہٰذا شاید ہمیں یہ بحث چھوڑ دینی چاہیے کہ:

„مرد بہتر ہے یا عورت؟“

اور اس کے بجائے یہ سوال پوچھنا چاہیے:

„انسان اپنے اندر موجود صلاحیت کو کتنا پہچان سکا؟“

کیونکہ جنس انسان کی شناخت ہوسکتی ہے، لیکن انسان کی اصل قدر اس کے شعور اور کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ 🌿

 “آپ کے نزدیک انسان کی اصل قدر کا معیار کیا ہونا چاہیے: جنس، علم، کردار یا شعور؟”

Loading