معاشرتی استحصال
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حمیرا علیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ معاشرتی استحصال۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ حمیرا علیم)پاکستانی خواتین خواہ اعلی تعلیم یافتہ، ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، سائنسدان ہوں یا ان پڑھ ہاوس ہیلپ، پہنر مند ہوں یا ایڈمن۔اکثر دومیدانوں میں ایک جیسے حالات و مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔یہ دونوں مقامات بظاہر بالکل مختلف ہیں مگر یہاں عورت کو ملنے والے رویوں میں حیران کن حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔اور یہ ہیں آفس اور سسرال۔
سسرال میں اکثر کہا جاتا ہے:“تمہیں تو کچھ بھی نہیں آتا۔کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتی۔”
جبکہ آفس میں اکثر یہ سننے کو ملتا ہے:“تم یہاں صرف خاتون ہونے کی وجہ سے ہو ورنہ تم کرتی ہی کیا ہو؟”
یہ دونوں جملے عورت کی محنت، صلاحیت، قابلیت اور اس کے وجود کی نفی کرتے ہیں۔دونوں جگہوں پر اس کی قابلیت مشکوک ٹھہرتی ہے۔کھانے میں نمک کم ہو جائے یا تیز، بچے کی طبیعت بگڑ جائے، یا کسی مہمان کی صحیح طرح سے خاطر تواضع نہ ہو سکے۔طعنے اس کے والدین کی تربیت پردئیے جاتے ہیں ۔
آفس میں بھی صورتحال اس سے ملتی جلتی ہے۔
اگر کوئی میل کولیگ کام کی باریکی کو سمجھ نہیں پاتا تو وہ اکثر یہی کہہ دیتا ہے:“چھوڑیں میڈم آپ نہیں سمجھ پائیں گی!”
یا“آپ کو تو بس سیٹ پربیٹھی ہوئی ہیں اصل کام تو ہم کرتے ہیں!”
یوں عورت کو بار بار اپنے وجود، اپنی اہلیت اور اپنی محنت کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر سحر گائناکالوجسٹ
کہتی ہیں:“میرا اپنا اسپتال ہے مگر سسرال میں آج بھی یہی کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ہونا الگ بات ہے گھر چلانا علیحدہ چیز۔ آفس میں میل اسٹاف شروع میں میری بات اس لیے نہیں مانتا تھا کہ میں ’عورت‘ ہوں۔ جب میں نے سختی دکھانی شروع کی تو انہیں لگا شاید میں مغرور ہوں۔ عورت یا تو کمزور سمجھ لی جاتی ہے یا مغرور درمیان والی کیٹیگری جیسے ہے ہی نہیں۔
مائرہ، ایڈمن آفیسر ہیں:“آفس میں ایک میل کولیگ ہر چیز پر ایسے حکم چلاتا تھا جیسے میں اس کی اسسٹنٹ ہوں۔ حالانکہ میں اس سے سینئر تھی۔ جب بھی میں کوئی فیصلہ کرتی، وہ اس کی مخالفت کرتا۔ جب سسرال میں بتاتی کہ آفس میں کیا مسائل ہیں تو کہتے: ‘یہ ہوتا ہے جب عورت نوکری کرتی ہے، گھر میں رہتی تو عزت بھی رہتی اور آسانی بھی۔یعنی مسئلہ میرے ساتھ نہیں، میرے عورت ہونے کے ساتھ تھا!”
ساجدہ، بینک آفیسر:“مجھے آفس میں دو بار پروموشن ملی۔ دونوں دفعہ میل کولیگز نے یہ افواہ اڑائی کہ ’خواتین کو تو کوٹا کی وجہ سے ترقی مل جاتی ہے‘۔ میں نے ان کو چیلنج کیا کہ آپ میں سے کوئی KPIs دکھا دے جس میں وہ مجھ سے آگے ہو۔ لیکن کوئی نہیں بولا۔ سسرال میں بھی شوہر کے رشتے دار یہی کہتے کہ نوکری والی لڑکیاں ضدی ہوتی ہیں، گھر نہیں سَنبھال سکتیں۔”
نادیہ، فیشن ڈیزائنر ہیں:“میرے سسرال والوں کا خیال تھا کہ ڈیزائننگ کوئی کام نہیں۔ اور آفس میں اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے دو لڑکے بار بار یہ کہتے رہتے کہ ‘فیشن لائن تو صرف لڑکیوں کی ہابی ہوتی ہے بزنس تو ہم چلاتے ہیں۔’ دلچسپ بات یہ ہے کہ برینڈ کی سب سے زیادہ سیل میرے ڈیزائنز پر ہوتی ہے۔ مگر کریڈٹ دینا مردوں کے بس کی بات نہیں!”
آخر یہ رویے کیوں ہیں؟ ان کی بنیاد کیا ہے؟ اور ورکنگ وویمن کے تجربات اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟دراصل ہمارا معاشرہ پدرسری ہے جہاں مرد کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تم عقل کل و مختار کل ہو۔اس لیے وہ سمجھتے ہیں عورت معاون تو ہو سکتی ہے قائد نہیں۔اس لیے جب عورت اپنے قدم مضبوطی سے جماتی ہے، آگے بڑھتی ہے یا فیصلے کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔دوسری وجہ شاید یہ ہے کہ مرد عورت کی ترقی سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔
سسرال میں اگر عورت معاشی طور پر مضبوط ہو، اچھی پوسٹ پر ہو یا لوگوں میں عزت رکھتی ہو تو فوراً جلن کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
آفس میں اگر کوئی خاتون بہتر پرفارم کرتی ہے تو بعض میل کولیگز یہ برداشت نہیں کر پاتے کہ وہ ان سے آگے نکل جائے۔اسی وجہ سے کبھی اس کی تعریف کم کی جاتی ہے، کبھی اس کے کام کو غلط ثابت کیا جاتا ہے، اور کبھی اسے جذباتی یا نرم مزاج کہہ کر اس کی پروفیشنل صلاحیتوں کو کمزور دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔عورت جتنی تعلیم یافتہ ہوگی، مالی طور پر مضبوط ہوگی، اتنی ہی خودمختار ہوگی۔یہ بات کچھ لوگوں کو ناگوار گزرتی ہے۔
مرد غلطی کرے تو کہہ دیا جاتا ہے:
“چلو انسان ہے ہو گیا!”
عورت غلطی کرے تو فوراً کہا جاتا ہے:“ عورتیں اس کام کے قابل نہیں!”
یہ دوہرے معیار عورت کے ہر قدم پر رکاوٹ بنتے ہیں۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ آج کئی خواتین نے ان سب رویوں کو نظرانداز کرنا شروع کر دیا ہے اور اپنی محنت سے اپنا مقام بنا رہی ہیں۔وہ جانتی ہیں کہ:حسن سے نہیں محنت سے عزت ملتی ہے،
خاموش رہنے سے نہیں، آواز اٹھانے سے حق ملتا ہے،اور کسی کی منفی رائے سے نہیں، اپنی قابلیت سے پہچان بنتی ہے۔
آج کی عورت یہ سمجھنے لگی ہے کہ اگر اسے گھر اور دفتر دونوں جگہ ایک جیسے رویوں کا سامنا ہے تو مسئلہ اس کی ذات میں نہیں معاشرتی سوچ میں ہے۔
اور جب سوچ بدلتی ہے تو معاشرہ بھی بدل جاتا ہے۔جب عورت اپنی قابلیت سمجھ جائے تو دنیا اسے کمزور دکھانے کی ہزار کوشش کر لے وہ پھر بھی جیت ہی جاتی ہے۔
![]()

