چیف ایرانی قومی سلامتی کونسل میجر جنرل محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکی معاشی جنگ جاری رہی تو آبنائے ہرمزسے تیل کا ایک قطرہ برآمد نہیں ہونے دینگے۔
ایکس پر بیان میں محسن رضائی نے کہا امریکا کی ایران کے خلاف معاشی جنگ میں کسی بھی ملک کی حمایت کو ایران جنگی اقدام تصور کرے گا ۔آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور انتظام ساحلی ممالک کے کنٹرول میں رہنا چاہیے۔ امریکا کو سہولت فراہم کرنے والے ممالک کو معاشی پابندیاں کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محیبی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر معاشی حملے کا اعلان فوجی محاذ پرناکامی کا اعتراف ہے۔ اگر امریکا جنگ میں کامیاب ہوگیا ہوتا تو اسے معاشی شور شرابے کی ضرورت نہ پڑتی۔
ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا امریکا گزشتہ 47 سال سے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کی جوابی کارروائی پردشمن اپنے بحری جہاز خطے سے پیچھے ہٹانے پر مجبور ہوا۔
بیان کے مطابق امریکا کی اقتصادی جنگ سے نمٹنے کیلئے ہمارے پاس منصوبہ موجود ہے۔ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کوکھولنے یا ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو توڑنے کی کوششیں بھی ناکام ہوگئی ہیں۔
![]()
