معاف کرنا سیکھ لو
انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میاں عمران
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ معاف کرنا سیکھ لو ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میاں عمران)حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ شام کے وقت عام مریدوں کیلئے درس و تدریس کا اہتمام کرتے تھے لوگ آتے تھے سوال کرتے تھے اور علم کی پیاس بجھاتے تھے آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک روز مریدوں کے درمیان بیٹھے تھے لاہور کا ایک مرید آیا اور آپ رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا حضور اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں افضل ترین عبادت کیا ہے حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے مسکرا کر دیکھا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے افضل ترین عبادت خیرات ہے
اُس شخص نے دوبارہ عرض کیا اور افضل ترین خیرات کیا ہے؟ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کسی کو معاف کر دینا پھر آپ رحمتہ اللہ علیہ چند لمحے رک کر دوبارہ فرمانے لگے کسی کو دل سے معاف کر دینا دنیا کی سب سے بڑی خیرات ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کو یہ خیرات سب سے زیادہ پسند ہے آپ دوسروں کو معاف کرتے چلے جاؤ اللّٰہ تعالیٰ آپ کے درجے بلند کرتا چلا جائے گا آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں تصوف کی درسگاہ میں صوفی اُس وقت صوفی بنتا ہے جب اُس کا دل نفرت غصے اور انتقام کے زہر سے پاک ہو جاتا ہے اور وہ معافی کے صابن سے اپنے دل کی ساری کدورتیں دھو لیتا ہے اہل تصوف یہاں تک کہتے ہیں کہ قاتل کو صوفی کا خون تک معاف ہوتا ہے اور یہ معافی کی وہ خیرات ہے جو صوفیاء اکرام دے دے کر بُلند سے بُلند تر ہوتے چلے جاتے ہیں ان کے درجے بڑھتے چلے جاتے ہیں
میرے بابا جی کہتے تھے تم معاف کرنا سیکھ لو تمہیں کسی اُستاد کی ضرورت نہیں رہےگی سارے حجاب اور سارے نقاب اُتر جائیں گے زندگی کی حقیقت کو سمجھنا ہے تو اس انسان کو معاف کرو جو تمہاری کردار کشی کا مرتکب ہوا ہو پھر تم اپنے اندر کےسلطان بنو گے ۔..,.,..
![]()

