Daily Roshni News

معاف کرنے کی طاقت ۔۔۔

معاف کرنے کی طاقت ۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹر نیشنل )بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ یہ ایسٹر سے پہلے پاک ہفتے کا دن تھا۔ ابھی ابھی برف پگھل رہی تھی اور زمین پر کیچڑ ہی کیچڑ تھا۔ گاؤں کی ایک گلی میں دو چھوٹی بچیاں کھیل رہی تھیں۔ ایک کا نام اکولیا تھا اور دوسری کا نام مالاشا۔ دونوں نے ابھی ابھی نئے رنگ برنگے کپڑے پہنے تھے اور وہ ان پر بہت ناز تھیں۔

اکولیا بڑی تھی اور مالاشا چھوٹی۔ دونوں نے اپنے جوتے اتار کر ایک طرف رکھ دیے اور پگھلے پانی کے ایک بڑے سے تالاب میں کھیلنے لگیں۔ اکولیا نے مالاشا کو سختی سے کہا، “دھیان سے کھیلنا! میرے نئے کپڑوں پر پانی مت چھڑک دینا!”

مالاشا چھوٹی اور شرارتی تھی۔ وہ زور سے اچھلی اور اس کے پاؤں سے پانی کے چھینٹے اڑ کر اکولیا کے نئے کپڑوں پر جا لگے۔ اکولیا نے اپنے کپڑوں پر پانی کے دھبے دیکھے تو اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ روتے ہوئے اپنے گھر بھاگی اور اپنی ماں سے جا کر شکایت کی۔

اکولیا کی ماں نے دیکھا کہ اس کی بیٹی کے نئے کپڑے خراب ہو چکے ہیں۔ وہ بہت غصے میں آ گئی۔ وہ گلی میں نکلی اور مالاشا کو پکڑ کر خوب مارا۔ مالاشا زور زور سے چلانے لگی۔ مالاشا کی ماں نے اپنی بیٹی کو روتے سنا تو وہ بھی گلی میں آ گئی۔ وہ اکولیا کی ماں سے جھگڑنے لگی۔

دونوں عورتوں کی آوازیں سن کر پورے گاؤں کے لوگ جمع ہو گئے۔ کسی نے ایک کا ساتھ دیا تو کسی نے دوسری کا۔ لوگوں میں ہاتھا پائی ہونے لگی۔ ہر طرف شور و غل مچ گیا۔

اس شور کے درمیان اکولیا کی دادی گلی میں آئیں۔ وہ بہت بوڑھی تھیں اور ان کی نگاہیں بھی کمزور ہو چکی تھیں۔ انہوں نے اونچی آواز میں کہا، “بچو! تم لوگ کیوں لڑ رہے ہو؟ اِس پاک دن میں کیوں جھگڑ رہے ہو؟ یہ تو گناہ کی بات ہے!”

لیکن کسی نے دادی کی بات نہ سنی۔ لوگوں کا جھگڑا بڑھتا جا رہا تھا۔ ابھی ابھی امن و سکون تھا اور اب سارا گاؤں آپس میں لڑ رہا تھا۔

ادھر جہاں دونوں لڑکیاں کھیل رہی تھیں، وہاں اکولیا اور مالاشا دوبارہ مل گئیں۔ انہوں نے اپنے جھگڑے اور لڑائی کو بھلا دیا تھا۔ وہ پھر سے مل کر کھیلنے لگیں۔ انہوں نے ایک درخت کی چھال سے ایک چھوٹی سی کشتی بنائی اور اسے پانی میں چھوڑ کر دوڑنے لگیں۔ وہ ہنستی اور کھیلتی رہیں، گویا کچھ ہوا ہی نہ تھا।

اکولیا کی دادی نے دیکھا کہ دونوں لڑکیاں پھر سے اکٹھی کھیل رہی ہیں اور ان کے چہروں پر مسکراہٹیں ہیں۔ وہ بوڑھی عورت مسکرائی اور اونچی آواز میں بولی، “دیکھو! دیکھو! ہم بڑے لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں اور یہ چھوٹی بچیاں مل کر کھیل رہی ہیں۔ ان سے سیکھو! معاف کرنے میں ہی سکون ہے۔”

دادی کی بات سن کر لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کے دلوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ سب خاموش ہو گئے اور اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ ادھر دونوں چھوٹی بچیاں اپنی چھال والی کشتی کو دوڑاتی رہیں اور گلی میں ان کی کھلکھلاتی ہنسی گونجتی رہی۔

اخلاقی سبق

یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ معاف کرنے کی طاقت بہت بڑی ہوتی ہے۔ بچے جلد جھگڑتے ہیں لیکن جلد ہی معاف کر کے بھول بھی جاتے ہیں۔ بڑوں کو چاہیے کہ وہ بچوں سے سیکھیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑنا فضول ہے، صلح اور معافی ہی حقیقی خوشی کا راز ہے۔

حوالہ: یہ کہانی لیو ٹالسٹائی کی مشہور تحریر “Wisdom of Children” (بچوں کی حکمت) سے ماخوذ ہے، جو پہلی بار ۱۸۸۵ میں شائع ہوئی۔ یہ ایک پیرابول (تمثیل) کی صورت میں معافی کے سبق کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کرتی ہے۔

Loading