Daily Roshni News

معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات !۔۔۔۔ تحریر۔۔۔ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز)

معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات !

 ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز) پشاور

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات !۔۔۔۔ تحریر۔۔۔ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز))آج پاکستان کی معیشت انتہائی تنزلی کی جانب گامزن ہے، برآمدات میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے، پیداواری شعبہ منفی سمت میں رواں دواں ہے اور لوگ پانی، بجلی، گیس اور روٹی کے لئے چیخ و پکارکررہے ہیں۔گزشتہ کئی برسوں سے ہمارے حکمران قوم کو مستقبل کے سنہرے خواب دکھانے کے ساتھ ساتھ یہ دعوے بھی کرتے رہے ہیں کہ ملک میں غربت میں کمی ہو رہی ہے ۔حالانکہ ملکی معیشت کو مہنگائی، بیرونی مالی دباؤ اور غیریقینی صورت حال کا سامنا ہے۔ موجودہ مالی سال معاشی شرح نموہدف سے کم رہنے کا امکان ہے۔پاکستان میں بجلی کا موجودہ بل 80سے 100روپے فی یونٹ تک پہنچ گیا ہے جبکہ چین میں بائیس روپے، ہندوستان میں تیرہ روپے، ایران میں ساڑھے نو روپے اور افغانستان میں آٹھ روپے فی یونٹ ہے۔اس صورت حال پر قابو پانے کیلئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کم از کم تین سو یونٹ خرچ کرنے والے غریب عوام سے ،جن کی اوسط تنخواہ پچیس ہزا رسے چالیس ہزار تک ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی اشرافیہ اور حکمراں طبقہ کو پانچ ہزار ارب روپے سے زائد سالانہ سبسڈی دی جاتی ہے ۔موجودہ معاشی بحران کی اصل وجہ دراصل ریاست کے وہ اقدامات ہیں جس نے آئی ایم ایف سے معاہدوں کا بوجھ ریاستی اداروں پر ڈالنے کی بجائے عوام پر ڈال دیا۔ آج عوام کی ریاست سے بیگانگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور اگر فوری طور پربیوروکریٹس،ججوں، پارلیمنٹیرینز، عسکری اداروں کو دی جانے والی تمام سہولتیں جن میں بجلی، گیس ، پیٹرول، سرکاری گاڑیوں کی فراہمی شامل ہے ، واپس نہ لی گئیں تو حالات قابو سے باہر بھی ہوسکتے ہیں(حالات تو ویسے ہی بے قابو ہو چکے ہیں) جس کی تمام تر ذمہ داری حکمراں طبقے پر عائد ہوگی ۔پاکستان کی 79سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد پاکستان کی جامع ترقی میں جمود نظر آتا ہے۔ صرف ایوب خان کے دور حکومت کو معاشی استحکام کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ اسکی وجہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد زراعت کی بہتری کیلئے اقدامات کیے گئے۔ پاکستان کی بنجر زمینوں کی آبادکاری کیلئے بڑے ڈیم منگلا اور تربیلا ہی نہیں بنائے گئے بلکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے نئے بیج اور کھا د وغیرہ کیلئے بھی پلاننگ کی گئی۔ منگلا تر بیلا ڈیموں کی تعمیر کوئی عالمی مالیاتی اداروں کی پاکستان محبت نہ تھی بلکہ پاکستان کے تین مشرقی دریاوں کا 21 ملین ایکڑ فٹ پانی ہڑپنا تھا۔ دونوں بڑے ڈیموں کی تعمیر سے پاکستان کی سبز معیشت کیلئے پانی اور بجلی کی توانائی میسر آئی تو قومی معیشت نے بھر پور انگڑائی لی۔ دنیا کے ماہرین معاشیات پاکستان کو مستقبل کا ایشین ٹائیگر قرار دے رہے تھے۔ تربیلا ڈیم کے مکمل ہوتے ہی اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے حکم دیا چنانچہ تربیلا ڈیم سے کنسٹرکشن مشینری فوری طور پر کالا باغ کے مقام پر پہنچا دی گئی ۔ اگر کالا باغ ڈیم کی تعمیر بھی بر وقت ہو جاتی تو پاکستان کو ایشین ٹائیگر بننے سے کوئی نہ روک سکتا تھا۔ کالا باغ ڈیم سمیت تمام آبی وسائل پر گویا خط تنسیخ کھینچ دی گئی۔ تربیلا ڈیم پراجیکٹ میں پانچ سرنگوں (Tunnels)کے ذریعے بجلی پیدا کی جانی تھی مگر صرف پہلی سرنگ پر ایک ہزار میگا واٹ کے جنریٹرز نے کام شروع کیا تھا کہ عالمی بینک کی طرف سے قرض لینے کے شوقین حکام نے فرنس آئل پر چلنے والے 1292میگاواٹ کے جبکہ پاور ہاؤس کو بھی شرف قبولیت بخشا۔ اسکے چھ سال بعد تھوک کے حساب سے پرائیویٹ بجلی گھروں نے پہلے واپڈا کو ذبح کیا اور پھر پاکستان کی معیشت کا ہی نہیں عزت وآبرو کا بھی جنازہ نکال دیا۔پاکستان کا نظامِ حکومت اس وقت جس بڑے بحران سے دوچار ہے، اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں قومی سطح پر ایک سنجیدہ مکالمہ درکار ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی ایک فریق بڑا کردار ادا نہیں کر سکتا۔ جب تک سب فریق مل کر نہ صرف سنجیدہ مکالمے کا حصہ بنیں گے بلکہ اپنے اپنے حصے کا کردار بھی ادا کریں گے، تو اسی صورت میں ہم قومی بحران کا حل بھی تلاش کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری سیاسی اور غیر سیاسی قیادت ذاتی اور جماعتی مفاد سے باہر نکل کر ملک اور عام آدمی کے مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرے۔ ہم جتنے بھی ترقی کے دعوے کر لیں اور جتنے بھی سیاسی چھکے عالمی سیاست میں مار لیں، لیکن جب تک ہم داخلی مسائل کا حل نہیں نکالیں گے اور ایک دوسرے کو قبول کر کے ترقی کا روڈ میپ اختیار نہیں کریں گے، ہم کچھ نہیں کر سکیں گے۔ لوگ اب جذباتی نعروں کے مقابلے میں عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمارے سیاست دان اور ریاستی ادارے ماضی اور حال کے مقابلے میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، کیونکہ موجودہ حالات ہمیں کسی قسم کی مہم جوئی کی اجازت نہیں دیتے۔ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے ہر ادارے کو اپنے آئینی، سیاسی اور قانونی دائرہ کار میں کام کرنا ہوگا۔ لیکن اگر ہم ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت کریں گے یا ان کے دائرہ کار میں اپنی مداخلت کا جواز پیش کریں گے تو اس سے اداروں کے درمیان ایک ٹکرا ؤ کا ماحول پیدا ہوگا، جو کسی بھی صورت میں ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ ملک کا وزیر اعظم اور وزرا خود اپنے ایک وزیر کے سامنے کتنے بے بس نظر آتے ہیں اور ان کے بیانات پر خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ جن حالات میں حکمرانی کے نظام کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر ہم نے سیاسی، آئینی اور قانونی فیصلے سیاسی عجلت میں کیے یا لوگوں پر مسلط کیے، یا آئینی اور قانونی طریقہ کار سے باہر نکل کر کچھ بڑے اقدامات کرنے کی کوشش کی، تو اس سے بھی نئے تنازعات جنم لیں گے۔ سیاسی، معاشی سمیت سیکیورٹی محاذ پر بھی اس نے ایسی کوئی کارکردگی نہیں دکھائی جس سے قومی مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکی ہو۔ وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کی اپنی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ حالات میں جو غیر معمولی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں یا بگاڑ سامنے آرہا ہے، اس کا علاج ہمیں غیر معمولی اقدامات کی بنیاد پر تلاش کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک بڑے فریم ورک میں بیٹھ کر قومی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ جب تک ادارے خود کو آئین اور قانون کی حکمرانی کا پابند نہیں کریں گے اور سیاسی و جمہوری عمل کی بنیاد پر ریاستی نظام کو نہیں چلایا جائے گا، ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم پر ایسے برے حالات آئے تو پوری قوم نے مل کر اپنی قربانیوں کے ذریعے ان سے نجات حاصل کی اور سماج کے خوشحال طبقوں اور اداروں نے اپنی مراعات کی قربانی دی۔اس لیے آج اشد ضرورت ہے کہ تمام غیر پیداواری اخراجات کو ختم کیا جائے۔ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی کنٹونمنٹس کا خاتمہ کیا جائے ۔ جائیدادوں پر دوسرے ممالک کی طرح مارکیٹ ویلیو کی بنیاد پر ٹیکس نافذ کیا جائے۔ ایران،افغانستان اور ہندوستان سے تعلقات کو خوشگوار بنا کر عسکری بجٹ میں کمی کی جائے۔ اس لیے جب تک پاکستان کو مراعات یافتہ طبقات اور مافیاز کے چنگل سے آزاد کراکے عوامی فلاحی ریاست کا قیام ظہور پذیر نہیں ہوتا، اس وقت تک نناوے فیصد عوام کی معاشی زبوں حالی کے رجحان کو روکنے کا کوئی امکان موجود نہیں۔ ان تمام معاشی مشکلات کے باوجود اگر ہم اپنی تر جیحات کو درست کر لیں اور اپنے وسائل کو خصوصاً سماجی اور سرکاری شعبے میں بہترین طریقے سے استعمال میں لے آئیں تو ہم ایک نئے دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے ۔

Loading