ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دلی کے پرانے قلعے کی فضاؤں میں جنوری 1556 کی ایک خنک اور پرسکون شام اتر رہی تھی۔ شہنشاہ ہمایوں، جو پندرہ سال کی طویل دربدری اور بے پناہ خون خرابے کے بعد بالآخر اپنا کھویا ہوا تخت واپس حاصل کر چکا تھا، قلعے کے اندر واقع اپنی دو منزلہ لائبریری ‘شیر منڈل’ کی چھت پر موجود تھا۔ ہمایوں کو علم نجوم (Astrology) اور کتابوں سے بے حد لگاؤ تھا۔ وہ چھت پر کھڑا آسمان پر ابھرتے ہوئے سیارہ زہرہ (Venus) کا مشاہدہ کر رہا تھا اور اپنے امراء کو اگلے دن دربار میں دیے جانے والے احکامات لکھوا رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی کے تمام طوفان اب تھم چکے ہیں، لیکن اسے خبر نہیں تھی کہ موت کا فرشتہ اس کے بالکل پیچھے، ان ہی پتھر کی سیڑھیوں پر کھڑا اس کی سانسیں گن رہا ہے۔
جیسے ہی سورج غروب ہوا اور شام کے سائے گہرے ہوئے، ہمایوں نے نیچے اترنے کے لیے شیر منڈل کی تنگ، پھسلن بھری اور انتہائی ڈھلوان سیڑھیوں پر قدم رکھا۔ ابھی اس نے دوسری یا تیسری سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ قریبی مسجد سے مؤذن کی بلند اور گونجتی ہوئی آواز میں مغرب کی اذان شروع ہو گئی۔ ہمایوں، جو مذہبی طور پر انتہائی عقیدت مند تھا، اس نے اذان کے احترام میں وہیں سیڑھیوں پر بیٹھنے کا ارادہ کیا۔ اس نے اپنا دایاں پاؤں موڑ کر بیٹھنے کی کوشش کی، لیکن سردی سے بچنے کے لیے اس نے جو لمبا اور بھاری شاہی جبہ پہن رکھا تھا، اس کا پلو اس کے پاؤں میں بری طرح الجھ گیا۔ سیڑھیاں انتہائی خطرناک تھیں، ہمایوں کا توازن بگڑا، اور اس سے پہلے کہ اس کے محافظ آگے بڑھ کر اسے تھامتے، ہندوستان کا شہنشاہ سر کے بل ان پتھریلی سیڑھیوں پر سے قلابازیاں کھاتا ہوا سیدھا نیچے آ گرا۔
دلی کے قلعے میں ایک قیامت خیز ہنگامہ برپا ہو گیا۔ ہمایوں کے سر کے پچھلے حصے پر انتہائی گہرا اور جان لیوا زخم آیا تھا اور اس کے دائیں کان سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔ شہنشاہ کو فوراً اٹھا کر شاہی خوابگاہ میں لایا گیا۔ طبیبوں نے اپنی تمام تر جڑی بوٹیاں اور علم آزما لیا، لیکن وہ زخم اتنا گہرا تھا کہ ہمایوں کوش میں نہ آ سکا۔ تین دن تک وہ اسی بے ہوشی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا، اور بالآخر 26 جنوری 1556 کو، وہ بادشاہ جس نے اپنی پوری زندگی گرتے پڑتے اور ٹھوکریں کھاتے گزاری تھی، زندگی کی آخری ٹھوکر کھا کر ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سو گیا۔ ایک مشہور برطانوی تاریخ دان سٹینلے لین پول (Stanley Lane-Poole) نے ہمایوں کی زندگی اور موت پر تاریخ کا سب سے جامع اور مشہور جملہ لکھا ہے:
*”اس نے ساری زندگی ٹھوکریں کھا کر گزاری، اور بالآخر ایک ٹھوکر کھا کر ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔”*
لیکن ہمایوں کی موت کے ساتھ ہی دلی کے محل میں ایک ایسا ہولناک بحران پیدا ہو گیا جس نے مغل سلطنت کو ایک بار پھر تباہی کے کنارے لا کھڑا کیا۔ ہمایوں کا اکلوتا وارث، 13 سالہ شہزادہ اکبر، اس وقت دلی سے سینکڑوں میل دور پنجاب کے علاقے کلانور میں اپنے اتالیق بیرم خان کے ساتھ افغان باغیوں کو کچلنے کی مہم پر تھا۔ ہمایوں کے وفادار امراء، جن میں ترک ایڈمرل سیدی علی رئیس اور ترغی بیگ شامل تھے، انہوں نے ایک انتہائی خوفناک حقیقت کا اندازہ لگایا۔ اگر ہمایوں کی موت کی خبر قلعے سے باہر نکل گئی، تو فوج میں فوری طور پر بغاوت ہو جائے گی، اور شیر شاہ سوری کے بچے کھچے افغان جرنیل اور خاص طور پر ہیمو بقال نامی ایک طاقتور ہندو جنگجو، دلی پر فوراً حملہ کر دیں گے اور مغل سلطنت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔
ان امراء نے مل کر ایک ایسا حیرت انگیز اور ماسٹر مائنڈ منصوبہ بنایا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ شہنشاہ کی موت کو ایک گہرا راز رکھا جائے گا۔ محل کے تمام دروازے بند کر دیے گئے اور اعلان کیا گیا کہ شہنشاہ کی طبیعت اب تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔ لیکن فوج اور عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت تھی۔ محل میں ایک شخص تھا جس کا نام ‘ملا بے کسی’ تھا، جس کا قد کاٹھ، چہرہ اور ڈیل ڈول بالکل ہمایوں جیسا تھا۔ امراء نے ملا بے کسی کو ہمایوں کا شاہی لباس پہنایا، اس کے چہرے کو کچھ اس طرح چھپایا گیا، اور اسے محل کے اس جھروکے (بالکنی) میں کھڑا کر دیا جہاں سے بادشاہ روزانہ عوام اور فوج کو اپنا دیدار کرواتا تھا۔ دور سے کھڑے سپاہیوں اور عوام نے جب شاہی لباس میں اس ہم شکل کو دیکھا تو وہ مطمئن ہو گئے کہ ان کا بادشاہ سلامت ہے۔ یہ سنسنی خیز اور خطرناک ڈرامہ ایک دو دن نہیں، بلکہ پورے **17 دن** تک دلی کے قلعے میں چلتا رہا!
اس دوران، امراء کا ایک انتہائی تیز رفتار اور خفیہ قاصد پنجاب کی طرف روانہ کیا گیا تاکہ وہ بیرم خان اور شہزادہ اکبر کو یہ دلخراش خبر دے سکے۔ جب یہ قاصد کلانور کے مقام پر بیرم خان کے کیمپ میں پہنچا اور اس نے ہمایوں کی موت کی خبر سنائی، تو کیمپ میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ 13 سالہ اکبر اپنے باپ کی موت کی خبر سن کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ لیکن تجربہ کار اور شاطر جرنیل بیرم خان جانتا تھا کہ یہ رونے کا نہیں، بلکہ فوراً حرکت میں آنے کا وقت ہے۔ اگر تخت کو ایک دن کے لیے بھی خالی چھوڑ دیا گیا تو افغان دلی پر قبضہ کر لیں گے۔
بیرم خان نے اسی وقت، پنجاب کے اسی گمنام قصبے کلانور کے ایک باغ میں، مستریوں کو بلایا اور اینٹوں کا ایک کچا اور چھوٹا سا چبوترہ (تخت) بنوایا۔ 14 فروری 1556 کی دوپہر کو، بیرم خان نے 13 سالہ جلال الدین محمد اکبر کو اس کچے چبوترے پر بٹھایا اور اسے ہندوستان کے شہنشاہ کا تاج پہنا دیا۔ وہیں میدان میں قران کی تلاوت کی گئی، اکبر کے نام کا خطبہ پڑھا گیا اور مغل سلطنت کے تیسرے اور تاریخ کے سب سے عظیم شہنشاہ کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا۔
ہمایوں کی دربدری، اس کی ناکامیاں، اس کی معافیاں اور اس کی موت—یہ سب ایک ایسے کینوس کی تیاری تھی جس پر ایک 13 سالہ لڑکے نے آنے والے پچاس سالوں تک ہندوستان کی تاریخ کی سب سے شاندار، طاقتور اور سنہری تصویر بنانی تھی۔ ہمایوں، جو زندگی کے ہر قدم پر گرا، وہ دراصل اپنے بیٹے کو کھڑا کرنے کے لیے قربان ہو رہا تھا۔ اور اسی کے ساتھ مغل تاریخ کے **”دوسرے سلطان: شہنشاہ ہمایوں”** کی طوفانوں سے بھری داستان اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ سیریز کو آگے بڑھایا جائے اور تیسرے سلطان پر اسی طرح اپیسوڈ اپلوڈ ہوں
نوٹ: اگر آپ کو یہ تاریخ پسند آربی ہے تو پوسٹ کو لازمی لائک شئیر کریں اور پیج کو بھی فالو کرلیں تاکہ آپکی سپورٹ سے میرا حوصلہ برقرار رہے اور میں اس طرح کی تاریخ مسلسل
شئیر کرتا رہوں شکریہ
#risengraphics #mughalbaadshah #kinghumayun #mughalempire #mughalhistory #IslamicEmpire #lastepisode
![]()

