ملائکہ کا قرآنی تصور — عوامی “فرشتہ” نہیں بلکہ نظامِ الٰہی کے عاملین
ہالینڈ(ڈیلی رونی نیوز انٹرنیشنل )قرآن مجید میں ایک نہایت اہم لفظ بار بار آتا ہے: ملائکہ۔ عام مذہبی ذہن میں اس کا ترجمہ “فرشتے” کر کے ایک مخصوص تصور قائم کر دیا گیا ہے کہ ملائکہ کوئی پروں والی مخلوق ہیں جو آسمانوں میں رہتی ہے، کبھی انسانی شکل میں زمین پر اترتی ہے، اور انسانوں کے سامنے جسمانی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قرآن واقعی ملائکہ کو اسی تصور کے مطابق پیش کرتا ہے، یا پھر “ملائکہ” کا اصل قرآنی مفہوم اس سے کہیں زیادہ نظامی، عملی اور حقیقت پسندانہ ہے؟
قرآن کا بنیادی اسلوب یہ ہے کہ وہ ملائکہ کو کسی fairy یا mythical مخلوق کے طور پر بیان نہیں کرتا، بلکہ انہیں اللہ کے حکم کے تابع “عاملین” اور “کارندوں” کے طور پر پیش کرتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ ملائکہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم انہیں دیا جاتا ہے وہی بجا لاتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: “لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ” (التحریم 66:6) یعنی وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ یہاں ملائکہ کی اصل پہچان ان کی “اطاعت” اور “عمل داری” ہے، نہ کہ کوئی جسمانی یا خیالی مخلوقی شکل۔
قرآن میں ملائکہ کا تعلق براہ راست “تدبیرِ امر” سے جوڑا گیا ہے۔ یعنی وہ اللہ کے نظام میں امور کو منظم کرنے والے عاملین ہیں۔ سورۃ النازعات میں فرمایا گیا: “فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا” (النازعات 79:5) یعنی وہ جو امور کی تدبیر کرتے ہیں۔ یہ آیت ملائکہ کو انتظامی اور نظامی قوتوں کے طور پر پیش کرتی ہے۔ گویا ملائکہ اللہ کے حکم کے نفاذ کا ذریعہ ہیں، نہ کہ داستانوں میں بیان کی جانے والی خیالی مخلوق۔
اسی طرح وحی اور پیغام رسانی کے باب میں بھی قرآن کا بیان نہایت واضح اور نظامی ہے۔ اللہ فرماتا ہے: “يُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ” (النحل 16:2) یعنی اللہ اپنے حکم سے ملائکہ کو “روح” کے ساتھ نازل کرتا ہے۔ یہاں “روح” سے مراد پیغام اور ہدایت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کا آنا کوئی قصہ یا جسمانی پرواز نہیں بلکہ اللہ کے امر کے تحت ایک منظم ترسیلی نظام ہے۔ جیسے آج ایک پیغام سگنلز اور نظام کے ذریعے انسان تک پہنچتا ہے، اسی طرح وحی بھی اللہ کے امر کے تحت پہنچتی ہے۔
عربوں کے ذہن میں ملائکہ کا تصور بھی بگڑا ہوا تھا۔ وہ انہیں ایک الگ مخلوق سمجھ کر ان کے بارے میں خود ساختہ عقیدے گھڑتے تھے۔ قرآن نے اس تصور کی اصلاح کی اور فرمایا: “وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَٰنِ…” (الزخرف 43:19) یعنی انہوں نے ملائکہ کو رحمن کے بندے قرار دے کر ان کے بارے میں غلط تصورات بنا لیے۔ قرآن کا مقصد یہی ہے کہ ملائکہ کو خدائی مخلوق یا مستقل طاقت نہ سمجھا جائے بلکہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے نظام کے تابع عاملین ہیں۔
یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ قرآن میں کہیں یہ بیان موجود نہیں کہ جبرائیل یا کوئی ملَک سفید کپڑوں میں ایک خوبصورت انسان بن کر آیا، اچانک ظاہر ہوا اور پھر غائب ہو گیا۔ یہ تمام تفصیلات زیادہ تر روایات اور عوامی قصوں میں ملتی ہیں۔ قرآن کا بیان ہمیشہ اصولی اور نظامی ہے، وہ ملائکہ کو “روح”، “امر”، “تنزیل” اور “تدبیر” کے دائرے میں بیان کرتا ہے، نہ کہ قصہ گوئی کے انداز میں۔
بعض احادیث میں انسانی شکل میں جبرائیل کے آنے کا ذکر ملتا ہے، جیسے حدیثِ جبریل (صحیح مسلم) جس میں ایک اجنبی شخص آیا اور سوالات کیے، پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل تھے۔ لیکن یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ قرآن کا بیان نہیں بلکہ روایتی روایت کا دائرہ ہے۔ قرآن نے ملائکہ کی تعریف کو کبھی fairy یا جسمانی مخلوق کے طور پر قائم نہیں کیا بلکہ انہیں ہمیشہ اللہ کے نظام کے عاملین کے طور پر پیش کیا ہے۔
لہٰذا قرآن کی روشنی میں ملائکہ کی بہترین تعریف یہ بنتی ہے کہ ملائکہ اللہ کے نظامِ کائنات کے وہ عاملین اور قوتیں ہیں جو اللہ کے امر کو نافذ کرتی ہیں، تدبیر کرتی ہیں، وحی کی ترسیل کا ذریعہ بنتی ہیں، اور کبھی بھی اللہ کے حکم سے باہر نہیں جاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن انہیں “نظامی کارندے” کے طور پر پیش کرتا ہے، نہ کہ عوامی تصور کے مطابق پروں والی مخلوق کے طور پر۔
صدیوں کے دوران قصے، اسرائیلی روایات، عوامی وعظ اور تخیلاتی ذہنیت نے “ملائکہ” کو ایک mythological تصور بنا دیا، حالانکہ قرآن کا دین شعور، قانون، نظام اور عمل پر قائم ہے۔ ملائکہ کا درست قرآنی تصور بھی اسی شعوری اور نظامی حقیقت کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن ہمیں fantasy نہیں بلکہ حقیقت اور نظامِ الٰہی کی سمجھ دیتا ہے۔
![]()

