ملک کے بالائی اور میدانی علاقوں میں تیز آندھی کے ساتھ ہونے والی موسلا دھار بارش نے جہاں گرمی اور حبس کا زور توڑ دیا ہے، وہاں کئی مقامات پر شدید تباہی بھی مچائی ہے۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں آسمانی بجلی گرنے، چھتیں اور دیواریں منہدم ہونے کے باعث افسوسناک حادثات پیش آئے ہیں، جن میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد لوگ زخمی ہو گئے ہیں۔ ندی نالوں میں طغیانی آنے سے سڑکیں تالاب بن گئیں اور کئی مقامات پر مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں آسمانی بجلی اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ باڑہ ذکا خیل اور لوئر چترال کے علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے اور کلاؤڈ برسٹ یعنی یکایک بہت زیادہ بارش ہونے کی وجہ سے دو بچے جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے، جبکہ 27 مکانات، دو مسجدوں، دو دکانوں اور ایک پل کو بھی نقصان پہنچا۔
اسی طرح دیر بالا کے علاقے واڑی درہ میں ایک مدرسے پر آسمانی بجلی گرنے سے 22 طالبات زخمی ہو گئیں جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔
ہری پور کے دریائے دوڑ میں تیز پانی کا ریلا آنے سے ایک چھ سالہ معصوم بچہ بہہ گیا، جبکہ مردان کے علاقے دربوکلے میں تیز طوفان کی وجہ سے دیوار گرنے سے دو لڑکے زخمی ہوئے۔
سوات، شانگلہ اور باجوڑ میں بھی ندی نالوں میں اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ہے اور کئی اہم راستے بند ہو گئے ہیں۔ مری میں اپر جھیکاگلی روڈ پر ایک بڑا درخت گرنے سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں اور بدترین ٹریفک جام دیکھنے کو ملا۔
دوسری طرف پنجاب کے شہر اٹک میں طوفانی بارش نے شدید تباہی مچائی، جہاں چھتیں اور دیواریں گرنے کے مختلف واقعات میں تین افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہو گئے۔
ریسکیو اہلکاروں نے اس حادثے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ چھت اور دیوار کے ملبے تلے دب کر دم توڑنے والوں میں زوجہ عبادت، علی رضا اور عبد الہادی شامل ہیں، جبکہ زخمی ہونے والے تمام افراد کو ملبے سے نکال کر فوری طور پر ڈسٹرکٹ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں بشمول گلبرگ، جوہر ٹاؤن، ڈیفنس اور ماڈل ٹاؤن میں تیز برسات ہوئی، جس کے بعد کئی علاقوں میں بجلی کے فیڈرز ٹرپ کر جانے سے اندھیرا چھا گیا۔
شرقپور شریف، کامونکی، پھالیہ، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین میں بھی نشیبی علاقے پانی میں ڈوب گئے، جبکہ حافظ آباد کے علاقے علی ٹاؤن پنڈی بھٹیاں میں بجلی کی تاریں ٹوٹنے سے چنگاریاں نکلتی رہیں۔
محکمہ موسمیات کے ماہرین نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف علاقوں میں چھ جولائی تک گرج چمک کے ساتھ برسات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، جس کے تحت بلوچستان کے شمال میں چار جولائی تک اور سندھ کے بالائی اضلاع میں تین اور چار جولائی کو بادل برسیں گے۔
![]()
