مملوک، اصل میں ترک نسل کے غلام سپاہی تھے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)مملوک، اصل میں ترک نسل کے غلام سپاہی تھے جو مصر اور شام میں اقتدار میں آئے، مملوک سلطنت (1250-1517) کے دور میں موجود رہی انہیں منگولوں اور صلیبیوں دونوں پر ان کی فتوحات کے لیے سب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے
عین جالوت کی جنگ (1260): مملوکوں نے، سلطان قطوز اور بیبرس کی قیادت میں، منگولوں کے ایک لشکر کو کچل دیا جس کی قیادت منگول جرنیل کتبوگا کر رہا تھا یہ اس دور میں منگولوں کو پہلی اہم شکست ہوئی اور اسلامی دنیا میں ان کے مغرب کی طرف پھیلاؤ کو روک دیا گیا
صلیبیوں کی بے دخلی: بیبرس اور بعد میں مملوک حکمرانوں کے تحت، شام و فلسطین میں صلیبی ریاستوں کو منظم طریقے سے ختم کر دیا گیا تھا، جس کا آخری مضبوط گڑھ، عکہ تھا جسے 1291ء میں صلیبیوں سے خالی کروایا گیا یوں دو صدیوں سے جاری صلیبی جنگوں کا مکمل خاتمہ ہو گیا اور ارض مقدسہ سے آخری صلیبی سپاہی بھی بحری جہازوں پر سوار اپنے وطنوں کو لوٹ گئے
مملوک سلطنت ایک طاقتور سلطنت کے طور پر لمبے عرصے تک قائم رہی حتی کہ سن 1517ء میں عثمانیوں کی مصر، فلسطین، شام اور حجاز میں مملوکوں پر فتح کی صورت میں مملوکوں کی سلطنت ختم ہو گئی اور ان تمام علاقوں پر عثمانی ترکوں کی گرفت مضبوط ہو گئی
اگرچہ مملوکوں کی اشرافیہ ترکوں سے بھری ہوئی تھیں، لیکن حکمران طبقہ ثقافتی طور پر عرب بن گیا، جس نے انہیں ترک فوجی روایت اور عرب فوجی روایت کا ایک منفرد امتزاج بنا دیا تھا ۔
![]()

