ممنوعہ درخت: ازل سے ابد تک کا سفر
انسان کی کہانی جتنی پرانی ہے، ‘ممنوعہ درخت’ کا تصور بھی اتنا ہی قدیم ہے۔ یہ صرف ایک درخت یا پھل کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی جبلت، آزمائش اور انتخاب کی وہ داستان ہے جو روزِ اول سے چلی آ رہی ہے اور تا قیامت جاری رہے گی۔
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا کیا، تو انہیں جنت کی تمام نعمتوں سے نوازا۔ ہر شے کی اجازت تھی، سوائے ایک درخت کے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوا: “اور اس درخت کے قریب مت جانا”۔
یہ پابندی کسی بھوک یا پیاس کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ یہ اطاعت اور نافرمانی کا پہلا امتحان تھا۔ لیکن شیطان نے انسان کی سب سے بڑی کمزوری یعنی ‘ہمیشہ کی زندگی اور طاقت پانے کی خواہش’ کو ڈھال بنایا۔ انسان بہک گیا، خطاکار ہوا، اور پھر توبہ کے آنسوؤں سے دھل کر زمین پر اتار دیا گیا۔ یہیں سے ممنوعہ درخت کی کہانی آسمان سے زمین پر منتقل ہو گئی۔
آج کی دنیا میں بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ممنوعہ درخت کا قصہ ماضی کا حصہ تھا، لیکن سچ یہ ہے کہ آج ہماری دنیا ایسے ہزاروں ممنوعہ درختوں سے بھری پڑی ہے۔ آج کا انسان روزانہ کسی نہ کسی ایسے پھل کو چکھنے کی کوشش کرتا ہے جس سے اسے روکا گیا ہے۔جیسے کہ ناجائز منافع اور کرپشن کے دور کا سب سے بڑا ممنوعہ درخت ‘حرام مال’ ہے۔ جب انسان چند پیسوں کی خاطر رشوت، ملاوٹ یا دھوکہ دہی کا راستہ چنتا ہے، تو وہ اسی ممنوعہ پھل کو توڑ رہا ہوتا ہے۔
عصر حاضر میں حد سے بڑھتی ہوئی ہوس اور طاقت کے لیے اقتدار کی بھوک، دوسروں کو کچل کر آگے بڑھنے کی خواہش اور کمزوروں کا استحصال کرنا آج کا ممنوعہ پھل ہے۔
تاہم ڈیجیٹل گمراہی اور بے راہ روی کے نشے میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی اخلاقی حدود کو پار کرنا، کسی کی عزت اچھالنا، اور فحاشی کی طرف راغب ہونا جدید دور کا ممنوعہ درخت بن چکا ہے۔
مزید برآں انا اور تکبرمیں خود کو سب سے برتر سمجھنا اور دوسروں کو حقیر جاننا وہ شجرِ ممنوعہ ہے جو انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا دیتا ہے۔
نتیجتاً ممنوعہ درخت دراصل ایک سرحد کا نام ہے۔ یہ وہ لکیر ہے جو انسان کو جانور سے الگ کرتی ہے۔ جنت کا درخت ایک آزمائش تھا، اور دنیا کے یہ ممنوعہ درخت بھی آزمائش ہیں۔ سچا انسان وہی ہے جو اس پھل کی چمک دمک دیکھ کر بھی اپنے قدم روک لے، کیونکہ ممنوعہ پھل کا ذائقہ چند سیکنڈ کا ہوتا ہے، لیکن اس کا پچھتاوا اورگناہ نسلوں تک چلتا ہے۔اللہ تعالٰی ہم سب کو تمام ممنوعہ درخت اور پھل کی آزمائش سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
![]()

