موت کی ضیافت
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ قدرت جوت
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ موت کی ضیافت۔۔۔ تحریر ۔۔۔ قدرت جوت)
لیے کھانا نہیں لائے گا اور انہیں پہلے کی طرح گھر ہی میں کھانے کا انتظام کرنا ہو گا۔
پچھلے چار پانچ روز سے بالکل مختلف اور نفیس کھانوں کے عادی ہو چکے تھے۔ چنانچہ جب ان کے سامنے اُبلے ہوئے آلوؤں کا سالن آیا جو گلناز نے پکا یا تھا تو انہیں اپنی پرانی عادت لوٹانے میں بڑی دقت محسوس ہوئی۔ حقیقتاً وہ کھانے کے خواہش مند ہی نہ تھے مگر ایک پرانے سلسلے کے دوبارہ آغاز کے لیے وہ زہر مار کرنے لگے۔ اگلے تین چار روز بھی بھوک نے انہیں نہیں ستایا اور وہ ابلے ہوئے آلو کھاتے رہے مگر جب آلوؤں کا ذخیرہ بھی مختم ہو گیا تو وہ گھر کے کونے کھدروں سے کھانے پینے کی چیزیں تلاش کر کے کھانے لگے۔ الماری میں تھوڑا سا شہد اور خشک کھجوریں پڑی تھیں۔ ایک دن انہیں کھا کر پیٹ بھرا۔ اگلے روز سوکھی روٹیاں بھگو کر ہای پیاز کے ساتھ کھائیں اور بالآخر وہ دن بھی آگیا جب گھر میں کھانے پینے کی کوئی چیز نہ رہی۔
جب سارے برتن، بوتلیں اور ٹوکریاں خالی ہو گئیں اس روز وہ پہلی بار بھوکے ہی سو گئے۔ اگلا دن بھی ایسا ہی تھا اور جب شام کے سائے بکھرنے لگے تو چھوٹے لڑکے نے چلانا شروع کیا:
”ماں …. میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے“۔ اس کی ماں نے کہا ذرا صبر کر میرے بچے! ذرا صبر ، کچھ نہ کچھ انتظام ضرور ہو گا“۔
وہ سب محسوس کر رہے تھے کہ ان کے شکم سکڑ کر کسی نوزائیدہ بچے کی مٹھی کے برابر ہو گئے ہیں۔ انہیں پیروں کے بل کھڑے ہونے میں بھی وقت محسوس ہورہی تھی۔ انہیں پشت کے بل لیٹے رہنے ہی میں آرام محسوس ہو رہا تھا۔ یوں ان پر
خواب کی کیفیت طاری ہو جاتی۔
انہوں نے اپنے سامنے سبزے سے لدے ہوئے کھیت دیکھے۔ ان کے کان ایک کھو کھلی آواز کی بازگشت بھی سن رہے تھے۔ انہیں یہ بھی محسوس ہوا کہ ان کی آوازیں بتدریج مدھم اور کمزور ہوتی جارہی ہیں۔
اگلے روز گلناز نے نقاہت ہی کے عالم میں
خواب دیکھا کہ اسے سفید حویلی میں کپڑوں کی دھلائی کی غرض سے بلایا گیا ہے۔ ہاں … یہ وہی گلناز تھی جس کو پانی سے نفرت ہو گئی تھی۔ مگراب وہ خود ہی دھلائی کے کام کی خواہش مند تھی۔ اس کے کان یہ سننے کے منتظر تھے کہ “گلناز … آکر ہمارے کپڑے دھو جاؤ“۔
دوسری طرف گلی کے لوگوں کا خیال تھا کہ گلناز کو ابھی سے کام پر لگا دینا زیادتی ہے۔ وہ کہتے بے چاری ابھی تو غم سے نڈھال پڑی ہے۔ بھلا اس سے ڈھلائی کا کام کیوں کر ہو سکے گا“۔ چنانچہ ان میں سے کسی نے بھی گلناز کو دھلائی کے لیے نہیں بلوایا۔
اس صبح کہنے کے کسی ایک فرد نے بھی اٹھنے کی کوشش نہیں کی کیونکہ ان کی بند آنکھیں خوراک کو اپنے سامنے دیکھ رہی تھیں۔ چھوٹا لڑکا وقفوں وقفوں سے اپنی نحیف آواز میں کہے جا رہا تھا “ میں روٹی کو دیکھ رہا ہوں …. دیکھو… ماں دیکھو… روٹی …. کتنی گرم ہے یہ، اور کتنی لائم … اور اس کے خالی ہاتھ یوں حرکت کرتے جیسے روٹی اس کے پاس موجود ہو۔
چھوٹے لڑکے کے برعکس بڑا بھائی مٹھائیاں دیکھ رہا تھا۔ وہ کتنا احمق تھا کہ طشتوں میں آنے والی مٹھائیوں میں سے اس نے کچھ بھی نہ بچائی تھیں۔ وہ اپنا حصہ فوراً ہی کھا جاتا تھا۔ اگر صرف ایک بار پھر اسے مٹھائیاں دی جاتیں تو وہ انہیں بڑی آہستگی اور سلیقے سے کھانا مگر اب وقت گزر چکا تھا۔ اب کوئی بھی ان کے ہاں مٹھائی اور کھانوں سے بھرا ہوا مشت نہیں بھیجے گا جسے وہ سلیقے سے کھائے۔ گلناز بستر پر لیٹی اپنے بچوں کی سرگوشیاں سن ہی تھی جو وہ خواب کی حالت میں کر رہے تھے۔ اس نے اپنے لب سختی سے بھینچ رکھے تھے تا کہ اس کی چیچنیں گھٹ کر رہ جائیں۔ اس کے بند پوٹوں سے آنسوؤں کی دھاریں پھوٹ رہی تھیں جو کنپٹیوں سے ہوتی ہوئی گردن تک چلی گئی تھیں۔ اس گھر سے باہر زندگی معمول کے مطابق چل رہی تھی۔ وہ صرف اپنی قوت سماعت کے بل پر یہ سب کچھ محسوس کر رہی تھی جو گلی میں ہو رہا تھا کیونکہ یہاں اس کی زندگی کے کئی برس گزرے
رہی تھے اور وہ گلی کے سب لوگوں کی عادت و اطوار لوں کی عادت و اطوار سے واقف تھی۔
ایک دروازہ بند ہوا۔ ساتھ والے گھر کا بچہ نیوت اسکول جارہا تھا۔ اور یہ اس کی عادت تھی کہ وہ جاتے ہوئے دروازے کو زور سے بند کرتا تھا۔ اگر جیوت کے بجائے سلیمان ہوتا تو وہ بڑی آہستگی سے دروازہ بند کرتا۔ گلناز نے سوچا دونوں بھائی ایک دوسرے سے کس قدر مختلف ہیں۔ پھر اس کے کانوں نے قدموں کی ایک مانوس چاپ سنی۔ یہ صالح کی بوڑھی ماں تھی جو بڑی آہستگی سے قدم اٹھاتی تھی۔ وہ ہر روز اسی وقت خریداری کے لیے گھر سے باہر نکلتی تھی۔ گلناز کو قدموں کی ایک اور چاپ سنائی دی۔ یہ تحسین آفندی تھا۔ جو حجام کا کام کرتا تھا اور گلی کے آخر میں سرخ مکان میں رہتا تھا۔ وہ ہمیشہ ہر صبح اس وقت بڑی گلی میں اپنی دکان کھولنے کے لیے گھر سے نکلتا ہے۔ پھر اس نے حسن بے کو جاتے سنا، جو اور میں آغا ، بیو پاری کا پوتا ہے۔ وہ بہت جلد اس کھلی کو خیر باد کہہ دے گا جب اس کو ایک تعلیم یافتہ لڑکی مل جائے گی جس سے وہ شادی کرلے گا۔ پھر اسکول ماسٹر نوری حنیم گزرا۔ اس کے بعد جفت ساز فیض اللہ آفندی، پھر جمیل ہے جو ٹیکس جمع کرتا ہے اور پھر گلناز کے کانوں میں روٹی والے اور اس کے گھوڑے کے قدموں کی آواز نے رس گھولا۔
روٹی والا ہر صبح اسی وقت وہاں سے گزرتا تھا اور ان کے پڑوس میں رکھے بے کے ہاں روٹیاں دے کر آگے بڑھ جاتا تھا۔ اس کے گھوڑے کی پشت پر دونوں طرف روٹیوں سے بھرے ہوئے ٹوکرے لدے ہوتے اور ٹوکرے کے ایک دوسرے سے ٹکرانے کی آواز بہت دور سے بھی سنائی دینے لگتی تھی۔
بڑے بھائی کو جوں ہی روٹی والے کی آمد کا احساس ہوا اس نے پہلے آنکھیں کھول کر اپنی ماں۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ فروری 2026
![]()

