موت کی ضیافت
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ قدرت جوت
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ موت کی ضیافت۔۔۔ تحریر ۔۔۔ قدرت جوت) ترکی زبان کے ادیب قدرت جووت کے قلم سے ایک شاہکار کہانی جنوری کی آمد سے ہوا کا رنگ بدل گیا ۔ گدلے آسمان کے نیچے دنیا ویران نظر آنے لگی۔ لوگ اب صرف کام کاج کی غرض سے باہر نکلتے۔ اس لیے راستے عام طور سے ویران اور خالی نظر آتے۔ اب کوئی نہ تو شاہ بلوط کے سائے میں بیٹھتانہ ہی مسجد کے برآمدے میں۔ ہر وہ جگہ جہاں گرمیوں میں ٹھنڈک اور فرحت کا احساس ہوتا تھا اب وہاں کوئی نہ آتا تھا۔ حتی کہ بچے بھی گھروں میں دبکے رہتے اور ان کے کھیل کے میدان ویران ہو چکے تھے۔ صرف چشموں پر ویرانی نے اپنے پر پوری طرح نہیں پھیلائے تھے۔ قریب قریب ہر روز کوئی نہ کوئی پانی بھرنے کے لیے وہاں ضرور جاتا تھا۔
اس دو پہر جب ایک لڑکا پانی بھرنے کے لیے ایک چشمے پر گیا تو فورا ہی بھاگتا ہوا واپس آگیا اور پھر اس نے گلی میں سب سے پہلے دکھائی دینے والے آدمی کو بتایا: ” دروسن آغا مر چکا ہے“۔
در وین آغا….. محلے کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھی۔ وہ لگ بھگ پچاس کے لیٹے میں تھا۔
اس کا جسم مضبوط اور توانا تھا اور چہرے پر گول مقطع کالی داڑھی تھی۔ وہ بہشتی تھا۔ گلی میں اس کا ایک چھوٹا سا گھر تھا جہاں اس کی بیوی اور دو بچے بھی رہتے تھے۔ ان کی گزر اوقات بڑی مشکل سے ہورہی تھی۔ دروسن آغا کا کل سرمایہ پانی کے دو
کنستر اور ایک بہنگی تھی۔ ہر صبح وہ کندھے پر بہنگی جماہتا، دونوں سروں سے کنستر انکا تا اور پھر گلی میں اس آواز کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کر دیتا …. ” پانی …. کیا کسی کو پانی کی ضرورت ہے ؟“ اس کی دھیمی نمر واضح آواز …. دھندلی صبح کے سکوت میں گلی کے آخری گھر تک پہنچ جاتی تھی۔ وہ جنہیں پانی کی ضرورت ہوتی اسے آواز دے کر بلاتے : “دروسن آغا ایک پھیرا“ یا ”دو پھیرے“…. یا تین پھیرے“۔
ایک پھیرے سے مراد پانی کے دو کنستر تھے۔ دروسن آغا سے چشمے سے پانی لینے کے لیے محلے سے ذرا دور پہاڑی پر چڑھ جاتا۔ دونوں کنستر بھر کے نیچے پہنچانا اور یوں اس کا سارادن مختلف گھروں اور پہاڑی کے اوپر اپنے والے چشموں کے درمیان آتے جاتے کٹ جاتا تھا۔ اسے ہر ایک پھیرے کا معاوضہ تین قرش مالتا تھا۔ یوں جیسے سوئی سے
کنواں کھودا جاتا ہے وہ اپنے اور بیوی بچوں کے لیے رزق پیدا کر تا تھا۔
اگر اس کا گھرانہ صرف اسی کمائی پر انحصار کرتا تو چاروں کا پیٹ بھرنا مشکل تھا۔ خوش قسمتی سے دروسن آغا کی بیوی گلناز کو ہفتے میں تین چار روز دھلائی کا کام مل جاتا تھا۔ اس طرح جو اضافی آمدن ہوتی وہ ان کے اخراجات کو متوازن بنادیتی تھی۔ گلناز بڑی شوہر پرست عورت تھی۔ بعض اوقات وہ اپنے شوہر کی آمدنی میں چند قرش کے اضافے کے لیے چھوٹے چھوٹے دھو کے بھی کیا کرتی۔ وہ لوگوں کے کپڑے کم سے کم پانی میں دھوتی اور اس طرح در و سن آغا کو چند مزید پھیروں کے عوض چند قرش مل جاتے تھے۔ گلناز کی اس بے ایمانی سے اس کی معصومیت اور شوہر کے لیے اس کی دل سوزی کا اظہار ہوتا تھا۔
اب اچانک یہ سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ دروسن آغا کی موت کا سبب بھی جلد ہی معلوم
ہو گیا۔ ہوا یہ کہ جب وہ پانی سے بھرا ہوا دوسرا کنتر بہنگی سے انکار ہا تھا تو اچانک رات کی جمی ہوئی برف پر سے اس کا پاؤں پھلا۔ وہ سر کے بل ایک نوک دار پتھر سے ٹکرایا۔ اس کی کھوپڑی کھل گئی اور وہ اسی وقت مر گیا۔
جب گلناز نے اپنے شوہر کی موت کی خبر سنی تو ئن ہو کر رہ گئی۔ اس کے معصوم ذہن نے سوچا کیا یہ میری ان بے ایمانیوں کا صلہ ہے جو میں نے اپنے شوہر کی بھلائی کے لیے کی تھیں ؟ مگر نہیں یقینا یہ ایک حادثہ تھا۔ کوئی بھی شخص میرے شوہر کی طرح پاؤں چلنے سے مر سکتا ہے۔
عام حالات میں جب کسی گھر کا سر براہ مرتا ہے تو اپنے پیچھے اتنا تر کہ ضرور چھوڑ جاتا ہے جس سے اس کے بیوی بچے کچھ مدت تک گزر اوقات کر سکیں۔ جب دروسن آغا مر اتو اس کا ترکہ صرف ایک بینگی اور دو کنستروں پر مشتمل تھا۔ گلناز کی پریشانی کی بڑی وجہ یہی چیز تھی۔
اب مجھے کیا کرنا چاہیے ؟“ گلناز اسی سوال کا جواب چاہتی تھی۔ مگر بہت کچھ سوچنے کے باوجود وہ کوئی فیصلہ نہ کر سکی کہ اب اسے اپنا اور اپنے دو معصوم بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کون سا کام کرنا ہو گا۔ وہ بچوں کو گھر میں تنہا بھی نہیں چھوڑ سکتی تھی اور گھر میں رہ کر وہ ہفتے میں تین چار روز کی دھلائی کے کام سے بھی اتنے پیسے حاصل نہیں کر سکتی تھی جو تین پیٹ بھر سکیں۔
دھلائی کے ساتھ ہی اسے پانی کا خیال آیا جسے دروسن آغا کی زندگی میں وہ بے محابا استعمال میں لاتی تھی۔ مگر اب ایک دم ایسا انقلاب آچکا تھا جس کے نتیجے میں اسے بھی عام لوگوں کی طرح پانی خرید ناپڑے گا۔ پھر اس احساس کے ساتھ کہ اس کے شوہر کی موت کا سبب پانی تھا، اس نے پہلی بار اپنے دل میں پانی کے لیے شدید نفرت محسوس کی۔ اس کا بس چلتا تو نہ کبھی وہ پانی کو دیکھتی نہ ہی استعمال میں لاتی مگر ….
جب کوئی مرتا ہے تو اس کے گھر والوں کو کھانے پینے کا ہوش ہی نہیں رہتا۔ وہ اس بارے میں بھول ہی جاتے ہیں اور یہ بھول چھتیس سے اڑتالیس۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ فروری 2026
![]()

