موسلادھاربارش…..
کتاب : تذکرہ قلندر بابا اولیاء
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضور قلندر بابا اولیاء کا معمول تھا کہ ہفتے کے روز شام کے وقت وہ اپنے گھر جاتے تھےاور اتوار کی شام واپس تشریف لے آتے تھے….. ایک مرتبہ اتوار کے روز مغرب سے کچھ پہلے بارش ہو گئی… میں نے یہ سوچ کر کہ بارش بہت تیز ہے اور حضور بابا جی تشریف نہیں لائیں گے، گھر کے دروازے بند کر دیئے اور سونے کے لئے لیٹ گیا…. کچھ دیر بعد میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ
حضور بابا جی ؒ تخت پر بیٹھے ہوئے ہیں ….. میں نے سمجھا کہ انتظار کرتے کرتے میں سو گیا تھا، اس لئے شاید خواب دیکھ رہا ہوں .. لیکن جب میں چارپائی پر اٹھ کر بیٹھا تو بابا جی ؒ نے مجھے آواز دی……. میں حیرت زدہ ہو کر نہایت تیزی کے ساتھ اور گھبراہٹ کے عالم میں چارپائی سے اٹھا اور بابا صاحب کے قریب جا کر پوچھا…… ” اتنی تیز بارش میں آپ کیسے تشریف لائے؟”
بابا جی مسکرائے اور فرمایا…..
…..” بس ، مّیں آ گیا…….. ” میں نے
بابا صاحب کی شیروانی اٹھائی
تاکہ اس کو کھونٹی پر لٹکا دوں تو یہ دیکھ کر
مزید حیران ہوا کہ شیروانی کے اوپر پانی کی ایک بوند بھی نہیں تھی….. میں نے پھر عرض کیا……”
آپ اس طوفانی بارش میں
لارنس روڈ سے ناظم آباد تشریف لے آئے اور آپ کی شیروانی بھیگی تک نہیں ؟ “
بابا صاحب نے تبسم فرمایا اور کہا…..
” خواجہ صاحب! ٹائم اسپیس محض مفروضہ ہے…… یہ بات ابھی آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گی…”
کتاب : تذکرہ قلندر بابا اولیاء
![]()

