موسی پیدا ہوئے فرعون کا لشکر ایک دن گھر میں آگیا۔۔ موسی کی والدہ کوحکم ہوا کہ تندور میں جہاں آگ جل رہی ہے موسی کو ڈال کر وہاں چھپادیں۔۔۔ ایسا ہی کیا۔۔۔ لشکر نے پورے گھر میں ڈھونڈا کوئی بچہ نا ملا جلتا ہوا تندور دیکھا تو وہاں نہیں گئے کہ آگ میں بچہ کیسے ہوگا۔۔ لشکر گیا۔۔ موسی تندور سے برآمد ہوئے اس حال میں کہ بلکل محفوظ۔۔
اب اگلی بات۔۔ موسی فرعون کے گھر پہنچ گئے۔۔ فرعون کو شک ہوا کہ موسی کوئی خاص بچہ ہے۔۔ آگ لگائی موسی کو چھوڑ دیا کہ اگر خاص بچہ ہوا تو آگ کی سمجھ رکھتا ہوگا توآگ کی طرف نہیں جائے گا۔۔ اللہ نے حکم دیا موسی آگ کی طرف جاو ۔۔۔ آگ میں ہاتھ ڈالا ہاتھ جل گیا۔۔ فرعون کو یقین ہوگیا کہ یہ خاص بچہ نہیں۔۔ اللہ نے موسی کو اس طرح محفوظ رکھا۔۔۔
کہنا صرف اتنا تھا کہ اُس کی حکمت ہے کبھی آگ سے محفوظ رکھے تو کبھی آگ سے جلا کر بھی محفوظ رکھے۔ وہ بہتر جانتا ہے۔۔۔ تو زندگی میں یہ مت سوچیں کہ ایسا کیوں ہوا یہ سوچیں کہ ایسا کیا ہونے والا تھا جس سے بچانے کے لیے زندگی میں ایسا کیا گیا۔۔ وہ خالق ہے۔۔ وہ جانتا ہے کہ کب کیا کرنا ہے اور ہم مخلوق، جلد باز۔۔
![]()

