Daily Roshni News

مچھر کی قرآنی مثال اور جدید سائنس کا حیران کن انکشاف

مچھر کی قرآنی مثال اور جدید سائنس کا حیران کن انکشاف

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک ایسا معجزہ جو عقل کو جھکا اور ایمان کو تازہ کر دیتا ہے۔اکثر ہم مچھر کو ایک حقیر، معمولی اور محض تکلیف دہ کیڑا سمجھتے ہیں۔ ایک ایسی مخلوق جسے دیکھتے ہی مار دینے کا دل چاہتا ہے۔ مگر ذرا ٹھہریے! اگر یہی ننھا سا مچھر قرآنِ مجید میں اللہ رب العزت کی طرف سے بطورِ مثال پیش کیا جائے تو؟

اور اگر چودہ سو سال بعد جدید سائنس اس مخلوق پر تحقیق کر کے اسی مثال کے سامنے سر جھکا دے تو؟

یقین جانیے، یہ محض ایک کیڑا نہیں بلکہ اللہ کی قدرت، علم اور حکمت کا چلتا پھرتا معجزہ ہے۔

قرآنِ مجید کوئی عام کتاب نہیں، یہ صرف عبادات یا احکامات تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسی کتاب ہے جو انسان کو سوچنے، غور کرنے اور کائنات میں پھیلی اللہ کی نشانیوں پر تدبر کی دعوت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بیان کرنے کے لیے کبھی پہاڑوں، ستاروں اور آسمانوں کی مثال دی، تو کبھی مکھی، مکڑی اور مچھر جیسے بظاہر حقیر جاندار کو منتخب فرمایا۔

قرآنی پس منظر: مچھر کی مثال کیوں؟

جب قرآن میں چھوٹی مخلوقات کی مثالیں آئیں تو کفار اور منافقین نے اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ جیسی عظیم ہستی کا کلام ایسی معمولی چیزوں کے ذکر سے بلند ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک یہ مثالیں شانِ ربوبیت کے خلاف تھیں۔

اسی اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ میں نہایت فیصلہ کن آیت نازل فرمائی:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا﴾

(البقرہ: 26)

ترجمہ:

“یقیناً اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی مثال بیان کرے، خواہ وہ مچھر کی ہو یا اس سے بھی اوپر کی۔”

یہ آیت دراصل انسان کے تکبر پر ایک کاری ضرب ہے۔ اللہ واضح فرما دیتا ہے کہ مخلوق کی بڑائی یا حقارت انسان کے معیار سے نہیں بلکہ خالق کی حکمت سے جڑی ہوتی ہے۔ جو چیز انسان کو معمولی نظر آتی ہے، وہ اللہ کے علم میں حیرتوں کا خزانہ ہو سکتی ہے۔

مچھر: جدید سائنس کی نظر میں ایک شاہکار

آج جب جدید سائنس نے مچھر پر تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ معمولی کیڑا نہیں بلکہ ایک نہایت پیچیدہ اور منظم نظام کا حامل جاندار ہے۔

پیچیدہ جسمانی نظام

چند ملی گرام وزن رکھنے والے مچھر کے اندر:

اعصابی نظام

ہاضمے کا نظام

دورانِ خون کا نظام

تولیدی نظام

سب کچھ انتہائی توازن اور درستگی کے ساتھ کام کر رہا ہوتا ہے۔ اتنے چھوٹے جسم میں اتنا بڑا نظام صرف اتفاق نہیں، بلکہ ایک عظیم خالق کی منصوبہ بندی کا ثبوت ہے۔

حرارت اور سانس پہچاننے کی صلاحیت

مچھر اندھیرے میں بھی انسان کو ڈھونڈ لیتا ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ:

یہ جسم کی حرارت محسوس کرتا ہے

سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو دور سے پہچان لیتا ہے

گویا اللہ نے اس ننھی مخلوق کو ایسے سینسر عطا کیے ہیں جو آج کے جدید آلات سے کم نہیں۔

کاٹنے کا حیران کن نظام

مچھر کا ڈنک کوئی سادہ سوئی نہیں بلکہ ایک مکمل سرجیکل ٹول کٹ ہے۔

یہ بیک وقت:

جلد کو چیرتا ہے

درد کو وقتی طور پر ختم کرتا ہے

خون کو جمنے سے روکتا ہے

اور خاموشی سے خون حاصل کر لیتا ہے

یہ سب کچھ چند لمحوں میں، بغیر کسی شور یا احساس کے انجام پاتا ہے۔

“فَمَا فَوْقَهَا” — ایک سائنسی اشارہ

اس آیت کا سب سے حیرت انگیز حصہ الفاظ ہیں: “فَمَا فَوْقَهَا”

یعنی مچھر یا اس سے بھی اوپر۔

عربی زبان میں اس کے دو مفہوم بنتے ہیں، اور جدید سائنس نے دونوں کو درست ثابت کر دیا۔

  1. مچھر سے بھی چھوٹی دنیا

آج ہم جانتے ہیں کہ ملیریا، ڈینگی اور دیگر بیماریاں دراصل ان جراثیم کی وجہ سے ہیں جو مچھر کے اندر رہتے ہیں۔

یہ جراثیم مچھر سے ہزاروں گنا چھوٹے ہوتے ہیں، مگر اسی کے اندر اپنی زندگی مکمل کرتے ہیں۔

چودہ سو سال پہلے، بغیر مائیکروسکوپ کے، قرآن کا اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا حیرت انگیز سائنسی معجزہ ہے۔

  1. مچھر کے اوپر موجود مخلوق

الیکٹران مائیکروسکوپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ مچھر کے جسم کے اوپر بھی مزید ننھی مخلوقات رہتی ہیں، جو اسی پر پلتی ہیں۔

یوں ایک مخلوق کے اوپر دوسری، اور اس کے اندر تیسری دنیا موجود ہے۔

یہ سب دیکھ کر انسان بے اختیار پکار اٹھتا ہے:

یہ کلام انسان کا نہیں، ربِ کائنات کا ہے۔

نتیجہ: ایمان کو جگانے والی مثال

مچھر کی قرآنی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

اللہ کی تخلیق میں کوئی چیز بے مقصد نہیں

حقیر سمجھی جانے والی مخلوق بھی عظیم حکمت رکھتی ہے

قرآن صرف ہدایت کی کتاب نہیں، بلکہ غور و فکر کی دعوت ہے

اہلِ ایمان کے لیے یہ نشانیاں یقین میں اضافے کا باعث بنتی ہیں، جبکہ انکار کرنے والوں کے لیے محض اعتراض کا موضوع رہتی ہیں، جیسا کہ اللہ نے خود فرمایا:

﴿يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ﴾

آئیے عہد کریں

ہم قرآن کو صرف پڑھیں گے نہیں، سمجھیں گے

ہم اللہ کی نشانیوں پر غور کریں گے

اور اپنی نسلوں کو بھی یہ شعور دیں گے

کیونکہ مچھر جیسی مثال بھی اگر ایمان جگا دے

تو یہ قرآن کے زندہ معجزہ ہونے کے لیے کافی ہے۔ 🌙✨

۔

Loading