ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک فقیر نے کسی کا ہاتھ پکڑا اور اسکی مُٹھی عجوہ کھجوروں سے بھر دی، فرمایا کھاؤ….. اور ساتھ بِٹھا کے فرمانے لگے…..
بتاؤ *تو “حیات” کِس کو کہتے ہیں..؟*
اس نے کہا زندگی کو..؟
تو اسکے سر پر ہلکی سی چپت لگا کر فرمانے لگے نہیں نکمے “حیات” تو وہ ھوتی ھے جِسے کبھی موت نہیں آتی…..
*دیکھو نہ اللّٰه تعالی کا ایک ایک لفظ ہیرے یاقوت و مرجان سے زیادہ پیارا اور قیمتی اور نصیحتوں سے بھرپور ھے…* ✨
اللّٰــــــہ نے یہ نہیں کہا کہ اِسلام مکمل ضابطہ زندگی ھے بلکہ یوں کہا کہ *مکمل ضابطہ “حیات” ھے*
اور حیاتی تو مرنے کے بعد شروع ھو گی جِسے کبھی موت نہیں آئے گی…
پھر گلاس میں اسکے لیئے زم زم ڈالتے ھُوئے فرمانے لگے :
“`میرے بیٹے اللّٰــــــہ نے زندگی دی ھے “حیات” کو سنوارنے کے لیئے نہ کہ بگاڑنے کے لیئے تو یہ زندگی بھی بھلا کوئی “حیات” ھے جِسکو موت آ جائے گی… اصل تو وہ “حیات” ھے جِسکو کبھی زوال نہیں کبھی موت نہیں….`
💎 *تو زندگی ایسے گزارو کہ “حیات” سنور جائے…* ✨
اور اسنے زندگی میں تب پہلی بار سمجھا کہ:
*اسلام مکمل ضابطہ “حیات” ھے کا اصل مطلب کیا ھے…!!
![]()

