Daily Roshni News

مکہ مکرمہ کی مرکزیت اور سائنسی افسانے۔۔۔ مؤلف: طارق اقبال سوہدروی

مکہ مکرمہ کی مرکزیت اور سائنسی افسانے

(انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے دعوؤں کا ایک تنقیدی، دینی اور سائنسی جائزہ)

مؤلف: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ مکہ مکرمہ کی مرکزیت اور سائنسی افسانے۔۔۔ مؤلف: طارق اقبال سوہدروی)آج کل سوشل میڈیا، یوٹیوب، واٹس ایپ اور مختلف ویب سائٹس پر مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ کے بارے میں ایسے بے شمار مضامین اور ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جدید سائنس نے کعبہ کی مرکزیت، اس کی خاص توانائی، اس کے “کائناتی راز” اور اس کی جغرافیائی حیثیت کو مکمل طور پر ثابت کر دیا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مکہ زمین کا حقیقی مرکز ہے، بعض کے مطابق یہ پہلا خشکی کا ٹکڑا تھا، بعض اسے مقناطیسی طاقت کا عالمی مرکز قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ خلا سے نکلتی ہوئی نورانی شعاعوں اور ناسا کے خفیہ انکشافات کی کہانیاں سناتے ہیں۔

ان پوسٹس کو شیئر کرنے والے اکثر مسلمان اخلاص، محبتِ کعبہ اور جذبۂ ایمانی کے تحت ایسا کرتے ہیں۔ ان کا مقصد اسلام کی عظمت بیان کرنا ہوتا ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب صحیح دینی عقائد کے ساتھ غیر ثابت شدہ سائنسی نظریات، کمزور روایات، اور انٹرنیٹ کے افسانے اس طرح ملا دیے جاتے ہیں کہ عام آدمی کے لیے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب کوئی پڑھے لکھے طبقے کا فرد ان دعوؤں کی تحقیق کرتا ہے اور انہیں غلط پاتا ہے، تو وہ اصل دین کے بارے میں بھی شکوک میں مبتلا ہونے لگتا ہے۔

یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ خانہ کعبہ کی عظمت کسی سائنسی سرٹیفکیٹ، ناسا کی رپورٹ یا کسی وائرل ویڈیو کی محتاج نہیں۔ ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی دلیل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فرمان ہے۔ قرآنِ مجید واضح طور پر اعلان کرتا ہے:

﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ﴾

“بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور جہان والوں کے لیے ہدایت ہے۔”

(سورۂ آل عمران: 96)

یہ ایک قطعی قرآنی حقیقت ہے۔ خانہ کعبہ اللہ کا پہلا گھر، مسلمانوں کا قبلہ، اور روحانی مرکز ہے۔ اس کی عظمت کسی جدید سائنسی تجربے سے نہ بڑھی ہے اور نہ کم ہو سکتی ہے۔ اگر پوری دنیا کی لیبارٹریاں ختم ہو جائیں تب بھی کعبہ کی حرمت اور مرکزیت باقی رہے گی، کیونکہ یہ اللہ کے حکم سے مقدس ہے۔

اب آئیے ان مشہور دعوؤں کا ایک علمی اور متوازن جائزہ لیتے ہیں۔

سب سے پہلے وہ دعویٰ جسے بہت زیادہ پھیلایا جاتا ہے کہ “مکہ زمین کا پہلا خشکی کا ٹکڑا تھا اور یہیں سے پوری زمین پھیلائی گئی”۔ اس حوالے سے بعض آثار اور روایات نقل کی جاتی ہیں، خصوصاً حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت کہ کعبہ پانی پر جھاگ کی مانند تھا اور اسی کے نیچے سے زمین پھیلائی گئی۔ لیکن یہاں ایک اہم علمی نکتہ یہ ہے کہ یہ روایت “صحیح مرفوع حدیث” نہیں بلکہ موقوف آثار میں شمار ہوتی ہے۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک ان میں اسرائیلی روایات کا اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے علمی دیانتداری کا تقاضا یہ ہے کہ اسے قطعی عقیدہ یا ثابت شدہ سائنسی حقیقت بنا کر پیش نہ کیا جائے۔ ہاں، ایک روحانی یا تاریخی احتمال کے طور پر اس پر گفتگو کی جا سکتی ہے، مگر یقین کے درجے میں نہیں۔

اسی طرح ایک بہت مشہور دعویٰ یہ ہے کہ “سائنس نے ثابت کر دیا کہ مکہ زمین کا جغرافیائی مرکز ہے”۔ اس کے لیے اکثر مصری محقق ڈاکٹر حسین کمال الدین کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ بعض عرب محققین، جیسے ڈاکٹر زغلول النجار، نے بھی مکہ کی مرکزیت کے حق میں مختلف mathematical models اور geographic analyses پیش کیے ہیں۔ ان کے لیکچرز اور ویڈیوز آج بھی یوٹیوب اور عرب دنیا میں موجود ہیں۔

یہاں انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان تحقیقات کا ذکر کیا جائے، کیونکہ یہ محض عوامی افسانے نہیں بلکہ بعض مسلم محققین کی سنجیدہ کاوشیں ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ان نظریات کو عالمی سائنسی consensus حاصل نہیں۔ زمین ایک پیچیدہ کروی ساخت رکھتی ہے، اور “زمین کا مرکز” نکالنے کے کئی مختلف ریاضیاتی طریقے موجود ہیں۔ مختلف methods مختلف نتائج دیتے ہیں۔ بعض تحقیقات میں یہ مرکز ترکی کے قریب ظاہر ہوا، بعض میں مصر کے قریب، جبکہ بعض models میں مکہ مکرمہ کو مرکز قرار دیا گیا۔ لہٰذا زیادہ درست بات یہ ہے کہ بعض مسلم محققین نے مکہ کی مرکزیت کے حق میں علمی دلائل پیش کیے ہیں، لیکن اسے قطعی اور universally accepted سائنسی حقیقت کہنا درست نہیں ہوگا۔

پھر ایک انتہائی مشہور افسانہ “نیل آرمسٹرانگ” والا ہے۔ برسوں سے یہ کہانی پھیلائی جا رہی ہے کہ جب وہ چاند پر گیا تو اس نے اذان سنی، یا مکہ سے نورانی شعاع نکلتی دیکھی، پھر اسلام قبول کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نیل آرمسٹرانگ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ ناسا کے تمام مشنز کا مکمل ریکارڈ موجود ہے اور کہیں بھی ایسی کسی بات کا ذکر نہیں۔ یہ ایک مکمل من گھڑت انٹرنیٹ افسانہ ہے جسے جذباتی انداز میں مسلمانوں میں پھیلایا گیا۔

اسی طرح بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ “کعبہ پر compass کام نہیں کرتا کیونکہ وہاں magnetic field صفر ہے”۔ یہ دعویٰ بھی سائنسی طور پر غلط ہے۔ مکہ مکرمہ میں زمین کا magnetic field عام دنیا کی طرح موجود ہے اور compass وہاں بالکل صحیح کام کرتا ہے۔ زمین کے اصل magnetic poles شمالی کینیڈا اور جنوبی انٹارکٹیکا کے قریب واقع ہیں، نہ کہ مکہ مکرمہ میں۔

ایک اور مقبول دعویٰ یہ ہے کہ “کائنات کی ہر چیز anti-clockwise گھومتی ہے، اسی لیے طواف بھی anti-clockwise ہوتا ہے”۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے سیارے، کہکشائیں اور systems واقعی اس سمت میں حرکت کرتے ہیں، لیکن سائنس یہ نہیں کہتی کہ “ہر چیز” اسی سمت میں گھومتی ہے۔

مثال کے طور پر:

– سیارہ زہرہ (Venus) اپنے محور پر clockwise گھومتا ہے، یعنی باقی اکثر سیاروں کے الٹ سمت میں۔

– یورینس (Uranus) تقریباً اپنی سائیڈ پر گھومتا ہے اور اس کی rotational orientation منفرد ہے۔

– نیپچون کا چاند Triton اپنے سیارے کے گرد retrograde orbit میں حرکت کرتا ہے۔

– جنوبی نصف کرے میں کئی سمندری طوفان clockwise گردش کرتے ہیں۔

لہٰذا یہ کہنا درست ہوگا کہ طواف کی direction اور کائنات کی بعض حرکات میں ایک خوبصورت symbolic harmony ضرور محسوس ہوتی ہے، لیکن اسے مکمل universal scientific law کہنا مبالغہ ہوگا۔

اب آتے ہیں اس دعوے کی طرف جو اکثر لوگوں کو بہت متاثر کرتا ہے، یعنی “مکہ کی سیاہ چٹانیں دنیا کی قدیم ترین چٹانیں ہیں”۔ بعض پوسٹس میں کہا جاتا ہے کہ جدید geology نے ثابت کر دیا ہے کہ مکہ کے basalt rocks زمین کی سب سے پرانی چٹانیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعویٰ جدید علمِ ارضیات کے خلاف ہے۔

دنیا کی قدیم ترین معلوم چٹانیں کینیڈا کے Acasta Gneiss Complex اور آسٹریلیا کے Jack Hills میں دریافت ہوئی ہیں جن کی عمر تقریباً 4 ارب سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔ جبکہ جزیرہ نمائے عرب کی geological structure ان کے مقابلے میں کہیں نئی سمجھی جاتی ہے۔ مکہ کے volcanic basalt formations اپنی نوعیت میں اہم اور منفرد ضرور ہیں، لیکن انہیں دنیا کی سب سے قدیم چٹانیں کہنا سائنسی طور پر درست نہیں۔

یہاں ایک بہت اہم اصول سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر جذباتی بات حقیقت نہیں ہوتی، اور ہر وائرل پوسٹ تحقیق نہیں ہوتی۔ بعض اوقات مسلمان نیک نیتی سے ایسی چیزیں پھیلا دیتے ہیں جو بعد میں غلط ثابت ہو جاتی ہیں، اور پھر مخالفین اسلام انہی کمزور دعوؤں کو بنیاد بنا کر پورے دین پر اعتراض شروع کر دیتے ہیں۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام اور سائنس میں تضاد ہے۔ نہیں۔ قرآن بار بار انسان کو کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ لیکن ہمیں “ثابت شدہ حقیقت” اور “جذباتی افسانے” میں فرق کرنا ہوگا۔ اسلام سچائی کا دین ہے، اس لیے ہمیں جذبات کے بجائے علمی دیانتداری کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔

ہمارا ایمان خانہ کعبہ کی عظمت پر اس لیے نہیں کہ کسی سائنسدان نے کوئی تجربہ کیا، بلکہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنا گھر قرار دیا، اسے قبلہ بنایا، اور اسے روحانی مرکز بنایا۔ اگر کل دنیا کی تمام لیبارٹریاں بھی ختم ہو جائیں، تب بھی کعبہ کی عظمت قائم رہے گی۔

لہٰذا متوازن راستہ یہی ہے:

– جو بات قرآن و صحیح حدیث سے ثابت ہو اسے مضبوطی سے تھامیں،

– جو سائنسی حقیقت واقعی ثابت ہو اسے قبول کریں،

– اور جو چیز محض افسانہ، کمزور روایت یا جذباتی exaggeration ہو اسے دین کے نام پر پھیلانے سے گریز کریں۔

کیونکہ اسلام سچائی کا دین ہے، اور سچائی کو جھوٹ کے سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

واللہ اعلم بالصواب۔

حوالہ جات (References):

[1] قرآن مجید، سورۂ آل عمران، آیت: 96۔

[2] ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، تفسیر سورۂ البقرہ و سورۂ النازعات۔

[3] امام طبری، جامع البیان، آثارِ ابن عباسؓ متعلقہ “دحو الارض”۔

[4] Woods, A. J. & Frayne, F. R. (2003), The Geographical Center of All the Land on Earth.

[5] NASA Apollo Mission Archives — Neil Armstrong historical records.

[6] United States Geological Survey (USGS) — Earth’s Magnetic Field Data.

[7] Geological Society Reports on Acasta Gneiss Complex (Canada) and Jack Hills Zircons (Australia).

[8] Encyclopaedia Britannica — Arabian Shield Geology and Basaltic Formations.

[9] Dr. Hussein Kamel El-Din — Researches on Makkah’s Geographical Centrality.

[10] Dr. Zaghloul El-Naggar — Lectures on Islamic Geology and Sacred Geography.

#مکہ_مکرمہ #خانہ_کعبہ #قرآن_اور_سائنس #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #اسلامی_تحقیق #علمی_دیانت #اسلام_اور_سائنس #دینی_اصلاح #Kaaba #Makkah #QuranAndScience #IslamicResearch

Loading