Daily Roshni News

مہاجر قوم ‘

مہاجر قوم ‘

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)14-15 اگست 1947 — برطانوی ہند تقسیم ہوا۔ راتوں رات لاکھوں مسلمان یوپی، بہار، دہلی، سی پی، بمبئی اور حیدرآباد دکن سے اپنا سب کچھ چھوڑ کر نئے ملک پاکستان کی طرف روانہ ہوئے۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ منزل کہاں ہے، بس ایک عقیدہ تھا کہ نیا وطن ملے گا۔

ٹرینیں، قافلے، پیدل سفر — راستے ہولناک تھے۔ لٹے پٹے قافلے، جلتے گاؤں، خون سے رنگی پٹریاں۔ 24 ستمبر 1947 کو کاموکی کے مقام پر ایک ٹرین پر حملہ ہوا جس میں سینکڑوں مسافر مارے گئے — یہ صرف ایک واقعہ تھا، ایسے درجنوں سانحات پنجاب اور سرحدی علاقوں میں پیش آئے۔ مجموعی طور پر تقسیم کے دوران 2 لاکھ سے 20 لاکھ کے درمیان جانیں ضائع ہوئیں (مصدقہ گنتی کبھی نہیں ہو سکی)۔

جو بچ گئے، وہ کراچی، حیدرآباد سندھ، سکھر اور دیگر شہری علاقوں میں آ بسے۔ کراچی اس وقت ایک چھوٹا سا بندرگاہی شہر تھا — مہاجرین نے اسے اپنی محنت سے تجارتی اور تعلیمی مرکز بنا دیا۔ ابتدائی برسوں میں مہاجرین نے سرکاری ملازمتوں، تعلیم اور کاروبار میں نمایاں کردار ادا کیا کیونکہ یہ طبقہ نسبتاً پڑھا لکھا تھا۔

1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے بینکوں، صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو قومیایا (nationalise کیا) — یہی وہ ادارے تھے جہاں اردو بولنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد ملازم تھی۔ اس سے معاشی نقصان ہوا اور سیاسی شکایات نے جنم لیا۔ سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم نافذ ہوا جس سے مہاجرین کو محسوس ہوا کہ ان کی نمائندگی گھٹ رہی ہے۔

1978 میں آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) بنی، اور 18 مارچ 1984 کو الطاف حسین نے مہاجر قومی موومنٹ (MQM) کی بنیاد رکھی۔ یہ پہلی بار تھا کہ مہاجرین نے ایک الگ سیاسی شناخت کے طور پر منظم انداز میں اپنا حق مانگا۔

1997 میں پارٹی نے اپنا نام بدل کر “متحدہ قومی موومنٹ” رکھا تاکہ نسلی جماعت سے ہٹ کر وسیع تر بنیاد بنائی جا سکے۔

پارٹی نے کراچی اور حیدرآباد میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل کیا اور کئی بار وفاقی حکومت میں اتحادی رہی (1988-90، 1990-92، 2002-07، 2008-13)۔ لیکن ساتھ ہی 1990 کی دہائی میں کراچی خونریز نسلی و لسانی تشدد کا شکار رہا — ہزاروں جانیں گئیں، اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے حکومتی کارروائیوں پر بھی تنقید کی۔

1991 میں الطاف حسین لندن چلے گئے اور واپس نہیں آئے۔

2016 میں کراچی میں “نائن زیرو” (پارٹی ہیڈکوارٹر) پر چھاپے پڑے، اس کے بعد پارٹی کئی دھڑوں میں بٹ گئی — MQM-پاکستان، MQM-لندن، PSP وغیرہ۔ داخلی اختلافات (خالد مقبول صدیقی بمقابلہ مصطفیٰ کمال) آج بھی جاری ہیں۔

12 اگست 2025 کو الطاف حسین نے 47 سال کی سیاست کے بعد باضابطہ طور پر MQM-لندن کو تحلیل کر دیا، اور کارکنوں کو کہا کہ وہ جس جماعت میں چاہیں شامل ہو جائیں۔ انہوں نے اپنے خاندان پر جبر، کارکنوں کی مسلسل مشکلات، اور مہاجرین کے حقوق حاصل نہ کر پانے کا حوالہ دیا۔

2024 کے عام انتخابات میں MQM-پاکستان نے کراچی ڈویژن میں سب سے زیادہ ووٹ (28.2%) حاصل کیے اور 22 میں سے 15 نشستیں جیتیں

موجودہ نمایاں چہرے: سید مصطفیٰ کمال (وفاقی وزیر صحت، 2025 سے)، فرحان چشتی (رکن قومی اسمبلی)

تاہم پارٹی اندرونی اختلافات کا شکار ہے اور بہت سے سابق رہنما دیگر جماعتوں (PPP، PMLN) میں جا چکے ہیں

کوٹہ سسٹم – سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں شہری سندھ (مہاجر اکثریتی علاقوں) کو دیہی سندھ کے مقابلے کم حصہ ملنے کی شکایت

شہری مسائل – کراچی میں بنیادی سہولیات (پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی) کا فقدان، بلدیاتی اختیارات کی کمی

سیاسی نمائندگی کا خلا – واحد مضبوط آواز (MQM) کا داخلی انتشار

شناختی بحران – نئی نسل خود کو “مہاجر” سے زیادہ “کراچی والا” یا “پاکستانی” سمجھتی ہیں-

حالانکہ مہاجر ایک عزت وقار اور سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ ودلم  ہے –

ویسے پاکستان تو 1947 میں آزاد ہوا اور یہاں بہت سی قومیں ہجرت کرکے آئی لیکن سچ یہی ہے کہ سب سے پڑھا لکھا  ، ہنر مند اور با شعور طبقہ مہاجریں کراچی کو ہی سمجھا جاتا ہے کیونکہ خصوصا کراچی کو آباد انہوں نے ہی کیا ورنہ کراچی تو 47 کی دہائی سے پہلے ایک چھوٹی سی بندرگاہ تھی بس بد قسمتی ہمارے پاکستان کے حکمرانوں کی رہی جنہوں نے اس قوم کو صحیع استعمال نہیں کیا –

 اللہ پاک اس قوم کی اور ہمارے پورے پاکستان کی ہر قوم کی حفاظت فرمائے اور جو ہمیں آپس میں لڑوانے کے لئے شرپسند لوگ ہیں ان کو اللہ پاک تباہ و برباد کرے آمین –

اللہ حافظ

Loading