مہارے ردِعمل
تمہاری اندرونی چوٹوں کی پہچان ہوتے ہیں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اگر تم لوگوں کا حد سے زیادہ شکریہ ادا کرتے ہو
تو اس کی وجہ اکثر وہ حالات ہوتے ہیں
جو بچپن میں بار بار پیش آئے
جہاں تمہیں ذلیل کیا گیا
یا تمہاری قدر کم کی گئی
ایسی صورت میں
انسان اپنی ذات کی اہمیت کھو بیٹھتا ہے
اور جب کوئی بغیر مطلب کے
اچھا سلوک کرے
تو وہ حیران ہو جاتا ہے
کیونکہ وہ عزت کا عادی نہیں ہوتا
اگر تم شکر ادا نہیں کرتے
یا دوسروں کی محنت کو کم تر سمجھتے ہو
اور کسی کا احسان ماننا مشکل لگتا ہے
تو اس کی وجہ اکثر
طنز
ذلت
یا وہ لوگ ہوتے ہیں
جنہوں نے اپنے احسان جتا کر
تمہیں شرمندہ کیا
کبھی یہ رویہ
ماں باپ سے بھی سیکھ لیا جاتا ہے
جب بچہ انہیں دوسروں کو حقیر سمجھتے دیکھتا ہے
اگر تم تحفے قبول نہیں کرتے
تعریف سن کر گھبرا جاتے ہو
اور اکثر کہتے ہو
مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی
میں نے کوئی خاص کام نہیں کیا
یہ سب میرا فرض تھا
تو یہ احساس
اپنی ذات کو کم تر سمجھنے
اور خود سے محبت کی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے
اگر تم معمولی غلطی پر بھی
بار بار معذرت کرتے رہتے ہو
اور دل میں مسلسل قصوروار ہونے کا احساس رہتا ہے
تو اس کی وجہ
بچپن میں مستقل ڈانٹ
یا بلاوجہ الزام ہو سکتا ہے
جہاں تمہیں ہر مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا
اگر تمہیں اپنی بچپن کی
زیادہ تر یادیں یاد نہیں
تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے
کہ وہ دور
تمہارے لیے حد سے زیادہ تکلیف دہ تھا
اس لیے ذہن نے
تمہیں بچانے کے لیے
ان یادوں کو دھندلا دیا
اگر تم کسی سے مدد مانگنے سے کتراتے ہو
اور یہ ماننا مشکل لگتا ہے
کہ تمہیں سہارا چاہیے
تو اس کی وجہ اکثر
بچپن میں وقت سے پہلے
بھاری ذمہ داریاں اٹھانا
اور کسی مضبوط سہارے کا نہ ہونا ہوتا ہے
آخر میں
یہ سب تمہاری اصل شخصیت نہیں
یہ صرف زخموں کی تہیں ہیں
اپنے اوپر جمی ہوئی گرد کو جھاڑو
تاکہ تمہارا اصل جوہر
دوبارہ چمک سکے
#UrduQuotes #Mubakhsh1980
![]()

