Daily Roshni News

میراث کیا ہوتی ہے ؟؟؟

میراث کیا ہوتی ہے ؟؟؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل) “جس دن باپ کی وراثت بانٹی گئی، بڑے بھائی کے حصے میں شہر کی کوٹھی آئی، بہن کے آنچل میں نئی نویلی گاڑی کی چابیاں گریں… اور میرے حصے میں آئی وہ زنگ آلود، بدصورت سرخ الماری جس کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی ۔” 🙂🙃

میرا نام ناصر ہے، اور میرا تعلق گوجرانوالہ کے ایک ایسے محلے سے ہے جہاں رشتے دیواروں سے زیادہ مضبوط سمجھے جاتے تھے، مگر اسی محلے کی ایک دیوار نے مجھے زندگی کا سب سے کڑوا سبق سکھایا۔

میں وہ بیٹا تھا جسے گھر میں ‘نکھٹو’ سمجھا جاتا تھا کیونکہ میں نے اپنا کیریئر بنانے کے بجائے ابا کی تیمارداری کو چنا۔ جب ابا ہسپتال کے ٹھنڈے فرش اور سفید چادروں کے بیچ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے، تب تہتر راتیں میں نے پلاسٹک کی اسی سخت کرسی پر گزاری تھیں جہاں نیند آتی نہیں تھی، صرف تھکن ڈیرے ڈالتی تھی۔

بڑا بھائی عدنان ‘بزنس’ میں مصروف تھا، اور بہن اپنی سسرالی رنجشوں میں الجھی ہوئی تھی۔ ابا بول نہیں سکتے تھے، بس میرا ہاتھ تھام لیتے اور ان کی نظریں ہمیشہ دروازے پر جمی رہتیں—وہ ان کا انتظار کرتے تھے جو کبھی نہیں آئے۔

جب ابا چلے گئے، تو وہی دروازہ لوگوں سے بھر گیا۔ چالیسویں کی دیگیں ابھی ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھیں کہ ‘حصے بخرے’ شروع ہو گئے۔

امی کمرے کے بیچوں بیچ بیٹھی تھیں۔ ان کے سامنے وہ پرانا آہنی بکسہ کھلا تھا جس میں خاندان کی تقدیر کے فیصلے بند تھے۔

“عدنان بڑا ہے، گھر کی ذمہ داری اسی پر سجتی ہے،” امی نے دھیمی مگر حتمی آواز میں کہا۔

عدنان کے چہرے پر فاتحانہ چمک آئی۔ گھر اس کا ہو گیا۔ پھر بہن کی باری آئی، اسے گاڑی اور سونا دے دیا گیا۔

اور آخر میں، جب سب کچھ لٹ چکا تھا، امی نے میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں عجیب سی گھبراہٹ تھی، جیسے وہ مجھ سے نظریں چرانا چاہ رہی ہوں۔

“ناصر… تمہارے لیے وہ سرخ الماری ہے۔”

کمرے میں ایک زوردار قہقہہ گونجا۔ بہن نے طنزاً کہا، “یہ تو کباڑی بھی نہیں لے گا، ناصر بھائی! اس سے بہتر تھا آپ ابا کا وہ پرانا سائیکل ہی رکھ لیتے۔”

میں خاموش رہا۔ میں اٹھا اور اس الماری کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ وہ الماری جو برسوں سے ابا کے پرانے اوزاروں، زنگ آلود چابیوں اور ان ردی کاغذوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھی جنہیں سب ‘فضول’ کہتے تھے۔ میں نے جب الماری کو چھوا، تو امی کے چہرے پر خوف کی ایک لہر دوڑی۔ وہ غصہ نہیں تھا، وہ ایک راز کے کھلنے کا ڈر تھا۔

میں نے دو مزدور بلائے تاکہ الماری نیچے اتاری جا سکے۔ سیڑھیوں کے موڑ پر الماری کا توازن بگڑا، ایک اینٹ پھسلی اور الماری زوردار دھماکے سے دیوار سے ٹکرائی۔ پچھلا لکڑی کا پٹخہ اکھڑ گیا اور اس کے اندر سے ایک تیل لگا ہوا خاکی لفافہ فرش پر گرا۔

پورا صحن ساکت ہو گیا۔ امی کے منہ سے ایک سسکی نکلی۔ میں نے جھک کر وہ لفافہ اٹھایا، وہ کافی وزنی تھا۔ اس پر ابا کی وہی جانی پہچانی تھر تھراتی ہوئی تحریر تھی:

**”ناصر کے لیے—جو میرا بیٹا نہیں، میرا سایہ نکلا۔”**

اندر ایک خط تھا اور جائیداد کے وہ کاغذات جن کا علم کسی کو نہیں تھا۔ میں نے خط پڑھنا شروع کیا، میری آواز بھر آئی تھی:

“ناصر پُتر! میں جانتا تھا کہ میرے جانے کے بعد گھر کی دیواریں تمہارے لیے تنگ کر دی جائیں گی۔ عدنان اور تمہاری ماں نے مجھے مجبور کیا تھا کہ میں گھر عدنان کے نام کر دوں، ورنہ وہ میرا علاج نہیں کروائیں گے۔ میں نے تمہاری خاطر خاموشی اختیار کی، لیکن میں نے تمہارا حق نہیں مرنے دیا۔ یہ الماری صرف کباڑ نہیں تھی، یہ تمہارا قلعہ تھا۔”

لفافے میں شہر کے دوسرے کونے پر ایک چھوٹے سے پلاٹ کے کاغذات تھے اور ایک بینک اکاؤنٹ کی تفصیل، جس میں ابا نے اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی ‘ناصر احمد’ کے نام پر جمع کر رکھی تھی۔

عدنان نے جھپٹ کر کاغذ چھیننے کی کوشش کی۔ “یہ سب فراڈ ہے! ابا ہوش میں نہیں تھے۔”

میں نے پہلی بار بڑے بھائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، “ابا تب بھی ہوش میں تھے جب وہ ہسپتال میں اکیلے آپ کا راستہ تکتے تھے، اور وہ اب بھی ہوش میں ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا بیٹا پہچان لیا تھا۔”

امی صوفے پر ڈھیر ہو گئیں۔ “میں… میں تو بس سب کو جوڑ کر رکھنا چاہتی تھی،” وہ روتے ہوئے بولیں۔

میں نے الماری کا ٹوٹا ہوا پلہ واپس لگایا اور دھیمے لہجے میں کہا، “آپ نے گھر جوڑا، مگر رشتہ توڑ دیا۔”

آج میں اسی چھوٹے سے پلاٹ پر بنے اپنے مکان میں رہتا ہوں۔ وہ سرخ الماری اب گیراج میں نہیں، میرے بیڈروم میں سجی ہوئی ہے۔ میں نے اسے ٹھیک کروا کر روغن کروا لیا ہے، مگر اس کی وہ ایک ٹوٹی ہوئی ٹانگ اب بھی اینٹ پر ٹکی ہے۔

کیونکہ وہ اینٹ مجھے یاد دلاتی ہے کہ جب آپ کے اپنے آپ کو گرا دیں، تو کسی کا ‘یقین’ ہی آپ کو سہارا دیتا ہے۔

میراث وہ نہیں ہوتی جو وکیل کی فائلوں میں درج ہو، میراث تو وہ دعا ہے جو باپ آخری سانس میں اپنے مخلص بچے کے نام کر جاتا ہے۔

Loading