میری بہن کی موت کے بعد۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میری بہن کی موت کے بعد بہنوئی نے اپنی مکان مالکن کیساتھ ناجائز تعلق بنا لیاتھا۔ ایک دن میں ان کے گھر پیٹی سے رضائی نکال رہی تھی کہ اچانک رضائی سے کئی خط نکل کر فرش پر گر پڑے۔ میں نے ایک خط پڑھا تو اس میں انتے بے ہودہ الفاظ تھے کہ میرا جسم شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ایک روز میں کھانا بنا رہی تھی کہ دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو میرے شوہر حمید سامنے کھڑے تھے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ دروازے کی اوٹ میں ہو گیا۔ تب ہی میرے شوہر بولے ۔ آج دفتر سے جلدی آنا ہو گیا ۔ اچانک مہمان آگیا، کیا کھانا تیار ہے۔ جی تیار ہے تقریباً یہ کہہ کر میں باورچی خانے میں چلی گئی اور حمید دوست کو لے کر بیٹھک میں جا بیٹھے۔
انہوں نے کھانا کھا کر مہمان کو بیٹھک میں پڑی چار پائی پر آرام کرنے کو کہا اور مجھے اس دوست کے بارے میں بتایا که فیروز میرے بچپن کا دوست ہے آج کل برے حالات کا شکار ہی تو اب مرے پاس آیا ہے یہاں نہ تو اس کے رہنے کا ٹھکانہ ہے اور نہ ہی روزگار میں پریشان ہوں کہ اس کو کہاں ٹھہراؤں ؟ بیٹھک میں ٹھہرا لیجئے۔ میں نے شوہر کو پریشان دیکھ کر کہا۔ وہ بھی ایک طرح سے رضا مندی لینا چاہ رہے تھے کیونکہ مہمان کی کھانے کا انتظام تو مجھے ہی کرنا تھا۔ حمید پر سکون ہو گئے اور بولے کے میں نے اسے تسلی دے ہے کہ جب تک تمہارے روزگار کا بندوبست نہیں ہو جاتا تب تک کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ میرے پاس رہ جاؤ۔ رہنے کا ٹھکانہ روزگار سب اللہ کی مہربانی سے ہو جائے گا۔
حمید نے گھر کی بیٹھک فیروز کے لئے خالی کر دی اور میں صبح و شام کھانا پکا کر بھیجوانے لگی۔ دو ماہ یہ شخص ہمارے گھر مہمان رہا۔ کچھ اس کو بے فکری اور سکون میسر آیا تو دلجمعی سے نوکری کی تلاش شروع کر دی۔ حمید بھی اپنے جاننے والوں سے کہتے تھے کہ میرے دوست فیروز کو ملازمت کی ضرورت ہے، کوئی سلسلہ بنے تو مدد کرنا۔ آخر ان کی کوششیں رنگ لائیں اور فیروز کو ایک محکمے میں مناسب نوکری مل گئی ۔ مالی محتاجی دور ہو گئی تو وہ رہنے کا ٹھکانہ ڈھونڈ نے لگا۔ تبھی حمید نے اپنی مکان مالکن سے تذکرہ کیا۔ ہمارے برابر والا مکان خالی پڑا تھا۔
اس عورت نے یہ گھر فیروز کو مناسب کرایے پر دے دیا۔ یوں اب وہ ہمارا پڑوسی بن گیا۔ اس کے پڑوس میں خود مکان مالکن کی رہائش تھی ۔ سب کچھ تو ہو گیا، لیکن اب ایک مسئلہ اسے یہ در پیش تھا کہ اسے کھانا بنا کر دینے والا کوئی نہ تھا۔ میں بھی چاہتی تھی کہ وہ اپنا کوئی انتظام کر لے ۔ وہ بھی تکلف محسوس کرنے لگا تھا ۔ کہتا تھا کہ بھابھی نے بہت ہے تکلیف اٹھائی ہے مزید ان کو زحمت نہیں دینا ہے چاہتا۔ آخر حمید نے مشورہ دیا ۔ کہ فیروز میاں شادی کرلو ۔ کب تک کوئی تم کو کھانا کھلائے گا اور کب تک ہوٹل کا مضر صحت کھانا کھا پاؤ گے۔ اس پر وہ ہنس دیا، بولا ۔ حمید یار میرا کون ہے ، جو میری شادی کرائے گا۔ بھائی یہ تو – وہی بات ہوئی نہ نومن تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ انہی دنوں میری چھوٹی بہن علاج کی خاطرگاؤں سے ہمارے گھر آئی ہوئی تھی۔ وہ کچھ عرصہ سے بیمار رہتی تھی حمید نے مجھ سے ذکر کیا کہ تم کہو تو میں فیروز سے بات کروں؟ پہلے اپنی ماں سے صلاح لے لو۔ وہ مان جائیں تو روشن کی شادی فیروز سے ہو سکتی ہے۔ لیکن مجھے تو نہیں خبر کہ آپ کا دوست کیسا آدمی ہے؟ ارے بھئی، نہایت شریف آدمی ہے۔
ہم بچپن سے ساتھ کھیلے ہیں۔ آگے پیچھے کوئی نہیں۔ دو ماہ میں تم نے بھی اس کو جانچ پرکھ لیا ہوگا۔ کوئی بری عادت اس میں نہیں ۔ ٹھیک ہے میں امی اور بہن سے بات کرتی ہوں ، تم بعد میں دوست سے بات کرنا۔ میں نے ماں سے بات کی ، وہ بولیں ۔ کون ماں نہیں چاہتی کہ اس کی لڑکی وقت پر بیاہی نہ جائے ۔ تم کو پتا ہے کہ دو تین ماہ سے تمہاری بہن کچھ علیل رہنے لگی ہے، تبھی یہاں لائی ہوں ۔ پہلے یہ ٹھیک ہو جائے ۔ ہاں ماں علاج ہوگا تو ٹھیک ہو جائے گی۔ آپ نے آخر اسے بیاہنا تو ہے۔ پھر تم اور حمید خود سوچ سمجھ کر رشتہ طے کر لو۔ ہمارے مالی حالات کا بھی تم لوگوں کو علم ہے۔ اس کی آپ فکر نہ کریں ۔ آپ رضا مند ہیں تو میں حمید سے بات کر لیتی ہوں۔ یوں میں نے حمید سے اور انہوں نے فیروز سے اس کے رشتے کا تذکرہ کیا ۔ جواب میں فیروز چپ رہا۔ اس چپ کا کیا مطلب ہے یار میری سالی، دیکھی بھالی ہے۔
اپنے گھر کی لڑکی ہے۔ اگر تم شادی کرنا چاہتے ہو تو منڈی ہلا دو۔ تیرا گھر آباد ہو جائے گا اور کھانے پینے کی مشکلات سے بھی اے نجات مل جائے گی ۔ فیروز نے کہا۔ جو تم بہتر سمجھو، مجھے منظور ہے۔ اب تم ہی میرے بھائی بھی ہو اور دوست بھی ۔ بات – اتنی جلدی بن جائے گی مجھے گمان بھی نہ تھا کہ کل تک جو مہمان ہے تھا، اب ہمارے گھر کا ایک فرد بننے جا رہا تھا۔ فیروز نے حمید سے یہ بھی کہا تھا کہ میری مالی حالت تم سے پوشیدہ نہیں ہے، ابھی میری نوکری لگی ہے ۔ اس کی تم فکر مت کرو۔ وہ سب انتظام ہو جائے گا۔ تم رضا مند ہو تو پھر میں ساس اور سالی سے بات کر لیتا ہوں۔ یوں فیروز کی شادی میری بہن روشن سے ہو گئی۔ زیور کپڑا سب میں نے اپنی طرف سے بہن کو دیا کیونکہ فیروز کے پاس بری اور زیور کے لئے رقم نہ تھی۔ لڑکے کی طرف سے شادی کا خرچہ بھی ہم نے کیا۔ مجھے یقین تھا کہ روشن شادی کے بعد خوشی ملنے سے ٹھیک ہو جائے گی کیونکہ اس کی شادی کی عمر نکلی جارہی تھی اور میرے والدین کے مالی حالات درست نہ ہونے کے سبب کوئی اچھا رشتہ بھی نہیں مل رہا تھا۔ اس صورت حال میں اکثر لڑکیاں نا امید ہو کر بیمار پڑ جاتی ہیں اور ان کی بیماری کسی کے سمجھ میں نہیں آتی۔
ہوا بھی یہی کہ شادی کے بعد روشن کی رنگت سرخ ہونے لگی اور وہ تندرست دکھائی دینے لگی ۔ حمید نے بھی یہی سوچا تھا کہ ان کی ذراسی قربانی سے یعنی شادی کا خرچہ اٹھانے پر ان کے دوست کا گھر بس جائے گا اور سسرالی بھی خوش ہو جائیں کہ ان کی لڑکی کو اچھا برمل گیا ہے۔ دونوں کا گھر بن گیا۔ فیروز اور روشن خوش رہنے لگے اور اپنی دنیا میں مگن ہو گئے ۔ ہم بھی خوش تھے کہ چلو اچھا ہوا، یہ بیل منڈھے چڑھی۔ حمید سسرالیوں میں سرخرو تھے کہ روشن شادی کے بعد خوش تھی ۔ سال بعد اس نے بچی کو جنم دیا، جس کا نام اس نے حوریہ رکھا۔ وہ بہت پیاری صورت والی ، گول مٹول بھی تھی۔ ہمارے گھر کوئی بچہ نہ تھا۔ میں اسے گھر لے آتی ، گھنٹوں اپنے پاس رکھتی۔ مجھ کو اپنی بھانجی بہت پیاری لگتی تھی ۔ اب تو وہ ہمہ وقت میرے پاس ہی رہتی ۔ وہ مجھ سے اتنی مانوس گئی تھی کہ جب رات کو سو جاتی ، تب ماں اسے اٹھا کر لے جاتی۔ اب وہ دو سال کی ہو گئی تھی اور میری اتنی عادی ہو گئی تھی کہ ایک منٹ بھی میرے بغیر نہ رہتی ۔
خدا کی کرنی کہ میری بہن پھر سے بیمار رہنے لگی اور اس کی بیماری اتنی بڑھی کہ لاغر ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے کینسر تشخیص کیا اور وہ چھ ماہ بعد چل بسی۔ جوان موت پر ہر آنکھ اشک بار تھی لیکن فیروز کا تو گھر اجڑ گیا تھا اور خور یہ بے آسرا ہو گئی تبھی فیروز نے اسے مکمل طور پر میرے سپرد کر دیا کہ اب یہ آپ ہی کی بچی ہے، آپ نے اس کی پرورش کرنا ہے ۔ بہن کی وفات اور بھانجی کے بن ماں ہو جانے پر میں بہت رویا کرتی تھی۔
کیا اگلی قسط اپلوڈ کروں؟ کمنٹ پلیز)