میں تم سے ناراض نہیں ہوں
تحریر : روبینہ یاسمین
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ میں تم سے ناراض نہیں ہوں۔۔۔۔ تحریر : روبینہ یاسمین )یہ جملہ سننے میں جتنا آسان لگتا ہے، حقیقت میں اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔
ایک شخص اپنی بیوی پر معمولی سی بات پر چیخ پڑا۔
کبھی بچوں پر غصہ نکالا۔
کبھی دوستوں سے تعلق توڑ لیا۔
کبھی ہر وقت لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا رہا۔
اور کبھی خاموشی کو اپنی عادت بنا لیا۔
سب نے یہی کہا،
“اس کا مزاج بہت خراب ہے۔”
لیکن کسی نے یہ نہیں پوچھا
تمہارے دل میں آخر کون سا زخم ہے جو ابھی تک نہیں بھرا؟
سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ آج بھی اپنے حال میں نہیں جی رہے۔
ہم اپنے بچپن کے ادھورے احساسات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
جس بچے کو کبھی یہ احساس دلایا گیا کہ وہ کافی نہیں،
وہ بڑا ہو کر ہر ایک کو خوش کرنے میں اپنی پوری زندگی لگا دیتا ہے۔
جسے بار بار نظر انداز کیا گیا،
وہ ہر رشتے میں صرف ایک ہی سوال پوچھتا ہے
کیا تم مجھے چھوڑ تو نہیں دو گے؟
جسے اپنی بات کہنے کی اجازت نہ ملی،
وہ بڑا ہو کر بھی “نہیں” کہنا نہیں سیکھ پاتا۔
اور جسے محبت شرطوں پر ملی،
وہ پوری زندگی محبت خریدنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ مسئلہ ہمارے شریکِ حیات میں ہے۔
دوستوں میں ہے۔
قسمت میں ہے۔
حالانکہ اکثر مسئلہ وہاں ہوتا ہے.
جہاں ہماری عمر صرف پانچ یا چھ سال تھی۔
ہر غصے کے پیچھے ایک خوف ہوتا ہے۔
ہر ضد کے پیچھے ایک ادھورا درد ہوتا ہے۔
ہر خاموشی کے پیچھے ایک نہ سنا گیا دل ہوتا ہے
اگر آپ واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو بدلنے کی کوشش چھوڑ دیں۔
ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیں
“آخر میرے اندر کون سا بچہ آج بھی رو رہا ہے؟”
شاید اسی سوال کا جواب آپ کی زندگی، آپ کے سکون اور آپ کے ہر رشتے کو بدل دے۔
کیونکہ
جو زخم نظر نہیں آتے، وہی انسان کو سب سے زیادہ تکلیف دیتے ہیں۔
ہماری زندگی، رشتے، رویے اور تکلیفوں کی جڑ اکثر بچپن کے ان زخموں میں ہوتی ہے جنہیں ہم کبھی بھرنے نہیں دیتے۔
Rubina Yasmeen
![]()

