میں کمیونسٹ ہوں
کتاب۔۔۔ مارکس اور مشرق (سبط حسن)
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )”مارکسزم کے خلاف یہودی اور عیسائی مذہبی انتہا پسندوں نے کفر کے فتوے صادر کیے تھے اور خصوصاً افغان جہاد میں امریکی سامراج کی جنگ میں عروج پر پہنچ گئے تھے “
کارل مارکس نے جب اپنا مضمون مسلہ یہود پر ایک سوال لکھا اور بین الاقوامی یہودی سرمایہ دارانہ نیٹ ورک کا انکشاف کیا تو یہودیوں نے اسے بے دین کہنا شروع کر دیا۔
اسی طرح جب مارکس نے مسیحیت کی نئی روح کو استعماریت اور سامراجی رنگ میں دکھایا تو چرچ اس کا دشمن ہو گیا۔ مارکس نے جب سود کو بڑی استحصالی آفت قرار دیا تو سود کو اللّه اور اس کے رسول ص سے جنگ قرار دینے والوں نے اسے اسلام دشمن اور ملحد کے القابات سے نوازا۔
بعض بدطینت افراد یہ الزام لگاتے ہیں کمیونزم لازمی طور پر مذہب دشمن تحریک ہے۔ حالانکہ حقیقت امر یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں ہمارا رویہ حد درجہ روادارانہ اور فراخدلانہ ہے۔ ہر وہ شخص جو ہمارے اصولوں کو تسلیم کرتا ہے وہ ہماری پارٹی میں شریک ہو سکتا ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا ہندو، عیسائی ہو یا بدھ ،ناستک ہو یا آستک۔ دوسرے لفظوں میں ہم تمام مذاہب کو تسلیم کرتے ہیں اور لامذہبیت کو بھی مذہب ہی سمجھتے ہیں۔ ہمارے بعض مسلمان رہنما بےجا طور پر کمیونزم کو “اسلام مخالف” بنا کر پیش کرتے ہیں جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مثلا اسلام میں سرمایہ داری کی مخالفت تو کمیونسٹ تصورات سے بھی زیادہ شدت سے کی گئی ہے۔
مولاناحسرت موہانی
☭ 🚩☭
مضمون: میں کمیونسٹ ہوں
کتاب: مارکس اور مشرق (سبط حسن)
![]()

