“میں” کوئی لفظ نہیں، ایک پردہ ہے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ وہ باریک حجاب ہے جو بندے اور حقیقت کے درمیان حائل رہتا ہے۔ جب انسان کہتا ہے “میں نے کیا”، “میری رائے”، “میرا علم”، “میرا کمال” تو دراصل وہ اپنی مٹی کو آسمان سمجھ بیٹھتا ہے۔
انا کو مارنا تلوار سے ممکن نہیں، نہ ریاضت کے شور سے۔ یہ خاموشی میں پگھلتی ہے۔ جب بندہ اپنی کامیابی کو عطا سمجھے، اپنی ناکامی کو سبق سمجھے، اور اپنی حیثیت کو امانت سمجھے تو “میں” کمزور ہونے لگتی ہے۔
صوفیا کہتے ہیں:
جو اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے، وہ ابھی راستے میں ہے؛
جو اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا، وہ منزل کے قریب ہے۔
لیکن یاد رہے، “میں” کو مٹانا خود کو ذلیل کرنا نہیں۔
یہ اپنی ذات کو فنا کر کے حقیقت میں باقی ہونا ہے۔ جیسے قطرہ سمندر میں گرتا ہے تو ختم نہیں ہوتا، سمندر بن جاتا ہے۔
جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ:
علم اس کا نہیں، عطا ہے
اختیار اس کا نہیں، امانت ہے
زندگی اس کی نہیں، مہلت ہے
تب “میں” تحلیل ہو کر بندگی میں بدل جاتی ہے۔
اور بندگی ہی وہ مقام ہے جہاں انسان سب سے زیادہ باوقار ہوتا ہے۔
یہ 7 دن کا پروگرام اگر صرف پڑھ لیا جائے تو فائدہ محدود ہے،
لیکن اگر عمل کر لیا جائے تو زندگی بدل سکتی ہے۔
7 دن کا عملی پروگرام: “میں” سے “ہم” تک
ہم سب کے اندر ایک “میں” ہوتی ہے
کبھی تکبر کی صورت، کبھی ضد کی شکل، کبھی خاموش برتری کے احساس میں۔
آئیے اسے دبائیں نہیں، بلکہ پاک کریں۔
پہلا دن : شعور کی بیداری
آج اپنی گفتگو پر نظر رکھیں۔
کتنی بار “میں” کہا؟
رات کو لکھیں: میری انا کب ظاہر ہوئی؟
دوسرا دن : خاموشی کی مشق
کسی بحث میں آخری جملہ نہ کہیں۔
ہر اختلاف جیتنا ضروری نہیں ہوتا۔
تیسرا دن : خاموش خدمت
کسی کی مدد کریں، بغیر بتائے، بغیر کریڈٹ لیے۔
چوتھا دن : غلطی کا اعتراف
کسی ایک شخص سے معذرت کریں، چاہے چھوٹی بات ہی کیوں نہ ہو۔
پانچواں دن: شکرگزاری
10 نعمتیں لکھیں جو آپ کی محنت نہیں، عطا ہیں۔
چھٹا دن : 15 منٹ تنہائی
آنکھیں بند کریں اور دل میں کہیں:
“میں محتاج ہوں، وہی کافی ہے۔”
ساتواں اور آخری دن : “میں” کی جگہ “ہم”
آج گفتگو میں “ہم” استعمال کریں۔
مشورہ لیں، ساتھ چلیں، مل کر سوچیں۔
انا کو مارنا مقصد نہیں،
اسے سنوارنا مقصد ہے۔
عاجزی کمزوری نہیں،
بلکہ شعور کی پختگی ہے۔
اگر آپ بھی یہ 7 دن کا سفر شروع کر رہے ہیں تو کمنٹ میں لکھیں:
“میں سے ہم تک”
DrJavaid Afzal
![]()

