Daily Roshni News

میں کون ہوں؟۔۔ تحریر۔۔۔ممتاز مفتی۔۔۔قسط نمبر3

میں کون ہوں؟

تحریر۔۔۔ممتاز مفتی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ میں کون ہوں؟۔۔ تحریر۔۔۔ممتاز مفتی) کر میری طرف بھاگتا ہے“۔ میری چیخ نکل جاتی ہے۔ ساتھ ہی بجلی کڑکتی ہے ، ایک دھماکا ہوتا ہے اور پھر مٹی ہی مٹی، دھول ہی دھول اور میں جاگ پڑتی ہوں“۔ وہ خاموش ہو گئی۔ دیر تک ہم دونوں خاموش بیٹھے رہے۔

شادی سے پہلے بھی تم میرا نام جانتی تھیں کیا ؟” میں نے پو چھا۔

ہاں“ وہ بولی۔

فاضل کون ہے….؟” میں نے پو چھا۔

” مجھے نہیں پتہ ” وہ بولی۔

شاید تمہارا کوئی عزیز یا بچپن کا ساتھی ہو”۔

میں نے کہا۔

“نہیں” وہ بولی ” یہ نام میں نے خواب کے علاوہ کبھی نہیں سنا”۔

” جب میں تمہیں پہلی مرتبہ ملا تھا اور تم نے میرا نام جانا تھا…. اس وقت …..”

ہاں۔ وہ میری بات کاٹ کر بولی ” مجھے پتہ تھا۔ ہی چاہتی تھیں کہ ہماری شادی ہو جائے لیکن میں نہ چاہتی تھی۔ اگر چہ دل ہی دل میں میں جانتی تھی کہ یہ شادی ہو کر رہے گی۔ پھر شادی کے بعد تم مجھے اتنے اچھے لگے ، اتنے اچھے کہ میرے دل میں یہ خوف کائنا بن کر لگ گیا کہ کہیں ہم ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں”۔ اس نے ایک نیکی لی اور رونے لگی۔ اسمارہ کا یہ خواب بے حد حیران کن تھا۔ اتنا حیران کن کہ میں سنانے میں رہ گیا۔ میر ا نفسیات کا سارا علم بھک سے اڑ گیا۔ اس کے ایک ہفتے بعد وہ حادثہ ہوا جس کی وجہ سے میں ہسپتال میں پڑا ہوں۔

اگر چہ اسمارہ کی مسلسل منتوں کی وجہ سے میں نے وعدہ کر لیا کہ میں ظہیر سے اس کے اس خواب کی بات بیان نہیں کروں گا پھر بھی میری خواہش تھی کہ اسمارہ کا نام لیے بغیر اس سے پوچھوں کہ کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ کوئی سالہا سال مسلسل ایک ہی خواب دیکھتا رہے۔ غالباً اسی غرض سے میں نے ظہیر کو کھانے پر مدعو کر لیا۔ ظہیر مان گیا، لیکن چند گھنٹوں کے بعد اس نے مجھے فون کیا، بولا: ” آج کا ڈنر کینسل کر دو افضل ” کیوں؟“ میں نے پو چھا۔

کہنے لگا میرے دو پرانے شاگرد آگئے ہیں۔ وہ میرے پاس ٹھہریں گے ، اس لیے مجبوری ہے”۔ میں نے کہا یہ تو کوئی بات نہیں، تم انہیں بھی ڈنر پر ساتھ لے آنا۔ یہ تو اور بھی اچھا ہے رونق ہو جائے گی۔

رات کے ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ظہیر اور اس کے دونوں مہمان ہمارے ہاں آگئے۔ نو بجے کے قریب ہم نے کھانا کھایا۔ پھر کافی کا دور چلا۔ اس روز اسمارہ کی طبیعت اچھی نہ تھی۔ اس لیے وہ شب بخیر کہہ کر رخصت ہو گئی اور ہم باتیں کرنے لگے۔ دیر تک ہم باتیں کرتے رہے۔ مختلف موضوعات پر، آخر میں خوابوں کی بات چل نکلی۔ عین اس وقت گھنٹی بھی۔ میں حیران ہوا کہ اس وقت کون آسکتا ہے۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا، کوئی باہر کھڑا بارش میں بھیگ رہا تھا۔ میں نے کہا ” آئیے. آئیے، اندر آجائیے۔

اندر داخل ہو کر اجنبی نے معذرت کی۔ بولا معاف کیجیے گا میں خواہ مخواہ محل ہو رہا ہوں۔ دراصل باہر کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ بجلی زوروں سے چمک رہی ہے۔ میں ایک صاحب کی تلاش میں جارہا تھا، تو بارش ہونے لگی۔ کمرے میں روشنی دیکھی، تو میں نے سوچا

شیلٹر کے لیے آپ سے درخواست کروں۔ آئے ، آئیے ، شوق سے آئے، آپ بالکل حارج نہیں ہو رہے، بیٹھے”۔ ظہیر نے کہا ” تشریف رکھیے”۔ میں نے فٹافٹ اجنبی کو ایک پیالی کافی کی پیش کی۔ وہ آرام سے بیٹھ کر کافی پینے لگا اور ہم پھر خوابوں پر خال آرائی کرنے لگے۔ کچھ دیر تک ظہیر خوابوں کے متعلق اپنا فلسفہ جھاڑ تا رہا۔

میں نے پو چھا ایک بات بتاؤ ظہیر … کیا کبھی تمہارے پاس کوئی ایسا پیٹینٹ آیا ہے جو سالہا سال سے ایک ہی خواب دیکھا رہا ہو … ؟

”ہاں“ ظہیر نے سرسری انداز میں کہا ایسے کیسز ہوتے ہیں۔ ایک ہی خواب دیکھتے رہنا کوئی خاص بات نہیں”۔

مال ہے صاحب ” اجنبی بولا ” آپ کمال کرتے

ہیں، آپ کہہ رہے ہیں کہ کوئی خاص بات نہیں، حالانکہ اس بات کی وجہ سے میری زندگی گزشتہ نو سال سے تباہ ہو رہی ہے “۔

اجنبی کی بات سن کر ہم حیران ہوئے۔ آپ کا مطلب ہے “ ظہیر نے کہا آپ نو سال

سے ایک ہی خواب دیکھ رہے ہیں“۔

” بالکل ” وہ بولا ” جناب والا میں نو سال سے ایک ہی خواب دیکھ رہا ہوں۔ بالکل وہی ایک خواب ، کوئی تفصیل نہیں بدلتی۔

نظیر یے“ ظہیر بولا۔ “آپ کا کیا

میں ایک بزنس مین ہوں“ اجنبی نے کہا ”میری

عمر تیس سال ہے اور میں اسی شہر میں رہتا ہوں“۔ آپ کی شادی ہو چکی ہے کیا ….؟” ظہیر نے پو چھا۔

“نہیں” اجنبی نے کہا ” میری شادی نہیں ہو سکتی“۔

کیوں ….؟

بس میری یہ فیلنگ ہے۔ چار ایک مرتبہ میری شادی کا فیصلہ ہو گیا تھا، سب کچھ ملے ہو گیا تھا لیکن ہر بار ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ عین وقت پر بات ٹوٹ گئی۔ اب مجھے یقین ہے میری شادی نہیں ہو سکتی چونکہ وہ پہلے ہی سے ملے ہو چکی ہے“۔

ارے کمرے میں بیٹھے ہوئے سبھی لوگ چوکے ۔ ” کیا آپ کے اس خواب کا شادی سے تعلق ہے ؟“ ظہیر نے پو چھا۔

ہاں اجنبی بولا ” میں محسوس کرتا ہوں کہ میری ہونے والی بیوی، کسی شہر میں کسی مکان میں میری

منظر ہے اور جب میں ….”

ذرا خبر ہے” ظہیر بولا

پہلے ہمیں وہ اپنا خواب تو سنائیے جو آپ گزشتہ نو سال سے مسلسل دیکھ رہے ہیں“۔

معاف کیجیے گا”۔ میں نے وضاحت کرنے کے مخیال سے کہا “یہ ظہیر صاحب یہاں کے مشہور سائیکاٹرسٹ ہیں، ممکن ہے یہ آپ کو کوئی اچھا مشورہ دے سکیں۔

میرا یہ خواب “۔ اجنبی نے کہا ” جو میں گزشتہ نو سال سے مسلسل دیکھتا آرہا ہوں، کبھی مہینے میں ایک بار، کبھی ہفتہ وار۔ یہ خواب بڑا ہی مختصر اور واضح ہوتا ہے”۔

” جی!” سب ہمہ تن گوش سننے لگے۔

دیکھتا ہوں کہ کوئی شہر ہے، بہت بڑا شہر ، وہاں

میں گھوم پھر رہا ہوں، یوں جیسے مجھے کسی کی تلاش ہو، گلیاں ہی گلیاں، بازار ہی بازار کھلے بازار ، بھیڑ ہی بھیڑ،۔۔۔جاری ہے

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مئی 2019

Loading