Daily Roshni News

ناکامی کے خوف میں جیتے طلبہ اور والدین کے نام ایک پیغام

ناکامی کے خوف میں جیتے طلبہ اور والدین کے نام ایک پیغام

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آج میں آپ سے نہ استاد بن کر بات کر رہا ہوں، نہ کسی فلسفیانہ منبر سے۔

آج میں آپ سے ایک بڑے بھائی، ایک درد رکھنے والے انسان اور ایک ایسے شخص کی حیثیت سے مخاطب ہوں جو خود کئی بار گرا، بری طرح گرا،اور پھر آہستہ آہستہ سنبھلنا سیکھا۔

آپ کی طرح مجھے بھی ہر روز جو خبریں سننے کو مل رہی ہیں،

وہ صرف افسوسناک نہیں، خوفناک ہیں۔

ہمارے نوجوان، ہمارے بچے، صرف اس لیے زندگی چھوڑ رہے ہیں کہ انہیں یہ یقین دلایا گیا کہ وہ “فیل” ہو گئے ہیں۔

میں آج آپ کو ایک بہت سادہ لیکن بہت بڑی حقیقت بتانے آیا ہوں:

یہ مایوسی ایک دھوکا ہے۔

اور یہ دھوکا جان لیوا ہو سکتا ہے۔

سب سے بڑا شچ تو یہ ہے ہر بندہ ہر چیز میں اچھا نہیں ہو سکتا۔

یہ فطرت کا اصول ہے۔

یہ زندگی کا قانون ہے۔

یہ اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی حقیقت ہے۔

ڈگری کو ڈگری سمجھوزندگی اور موت کا مسئلہ مت بنا لو۔

تعلیم حاصل کرو

شعور کے لیے

آگاہی کے لیے

سوچنے، سمجھنے اور خود کو پہچاننے کے لیے

اور ہاں،

جتنی محنت کر سکتے ہو، ضرور کرو۔

لیکن اگر نتیجہ تمہاری توقع کے مطابق نہ آئے،

تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم ناکام انسان ہو۔

یہ بھی اپنے ذہن میں بٹھا لو زندگی سیدھی لکیر نہیں، ایک سفر ہے اورکالج اور یونیورسٹی کوئی آخری منزل نہیں، یہ صرف ایک سفر کا حصہ ہیں۔

اس سفر میں:

کہیں راستہ ہموار ہوتا ہے

کہیں پتھریلا

کہیں ٹھوکر لگتی ہے

کہیں رفتار تیز ہو جاتی ہے

یہ سب زندگی کا حصہ ہے،

زندگی کا خاتمہ نہیں۔

اور اگر تم کہیں ناکام ہو بھی رہے ہو تو ممکن ہے مسئلہ تم نہیں، تمہاری ترجیحات ہوں.

ذرا رُک کر خود سے ایمانداری سے پوچھو:

کیا میں واقعی اس فیلڈ کے لیے بنا ہوں؟

یا میں صرف اس لیے یہاں ہوں کہ سب یہی کر رہے ہیں؟

کیا میں اپنی صلاحیت کے مطابق راستہ چن رہا ہوں؟

“جو سب کر رہے ہیں، وہی میں بھی کروں”

اس سوچ کے چنگل سے باہر نکلو۔

کامیابی اکثر ہجوم میں نہیں،اپنے راستے بنانے والوں کو ملتی ہے۔

تمھاری زندگی میں مسئلے ہوں گے اور یہ مسئلے شور سے حل نہیں ہوتے۔

مسئلے سوچنے سے حل ہوتے ہیں۔

وقت نکالو

خود کے ساتھ بیٹھو

مسئلے کو تسلیم کرو

اور حل پر غور کرو

اور اگر اکیلے حل نہ نکلے تو…

کسی سے مدد مانگو

دوست، کزن، استاد، یا کوئی سمجھدار انسان۔

یاد رکھو:

مدد مانگنا کمزوری نہیں، سمجھداری ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اپنی ذہن کی خوراک درست کرو.

جو تم پڑھتے ہو،

جو تم دیکھتے ہو،

جن لوگوں میں تم اٹھتے بیٹھتے ہو، یہ سب تمہیں بنا بھی رہے ہیں اور بگاڑ بھی رہے ہیں۔

کچھ اچھا پڑھو

کچھ مثبت سیکھو

ایسی کتابیں، ایسی باتیں

جو تمہیں بہتر انسان بنائیں

ممکن ہے تم ایسے لوگوں میں ہو

جن کے ساتھ تمہیں نہیں ہونا چاہیے۔

ماحول انسان کو چپ چاپ توڑ دیتا ہے،

اور اکثر ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا۔

اگر ایک فیلڈ میں کامیاب نہیں ہورہے توکوشش کرو اس فیلڈ میں جاؤ. جس میں تم واقعی پرفارم کر سکتے ہو۔

اگر تم رٹے میں اچھے نہیں ہو

تو شاید تم تخلیق میں اچھے ہو۔

اگر نمبرز تمہارا مسئلہ ہیں

تو شاید انسانوں کو سمجھنا تمہاری طاقت ہے۔

مچھلی کو درخت پر چڑھنے کو کہو گے

تو وہ ناکام ہی کہلائے گی۔

لیکن پانی میں دیکھو،وہی مچھلی بادشاہ ہوتی ہے۔

آج دنیا تمہاری انگلی کی جنبش پر ہے۔

علم، اسکلز، سیکھنے کے مواقع — سب کچھ۔

سوال یہ نہیں کہ موبائل برا ہے،سوال یہ ہے کہ تم اسے کس لیے استعمال کر رہے ہو؟

یہی موبائل تمہیں اٹھا بھی سکتا ہے

اور یہی تمہیں اندر سے خالی بھی کر سکتا ہے۔

یہ بات دل میں بٹھا لو:

روزی کا وعدہ خدا نے کیا ہے،

ہماری ذمہ داری صرف کوشش کرنا ہے

راستے بدل سکتے ہیں،

منزلیں بدل سکتی ہیں،

لیکن اللہ کسی محنت کرنے والے کو ضائع نہیں کرتا۔

اور ایک پیغام والدین کے نام بھی کہ:

بچے کے ڈکٹیٹر مت بنیں،

اس کے ساتھی بنیں۔

بچے کی مدد کریں

اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ رزلٹ سے زیادہ قیمتی ہے

اس سے کھل کر بات کریں

ڈانٹ سے نہیں، خوف سے نہیں

یاد رکھیں:

بچے پر دباؤ آپ اور اس کے درمیان فاصلہ بڑھا دیتا ہے۔

اور یہ فاصلہ خطرناک ہوتا ہے۔

اس فاصلے کو کم کریں ورنہ بچہ خاموشی میں گم ہو جاتا ہے.

بچے کو یہ ضرور سکھائیں کہ:

وہ کامیاب بھی ہوگا

اور ناکام بھی ہوگا

ناکامی کوئی جرم نہیں

ناکامی کا سامنا کرنا بھی ایک ہنر ہے

اسے یہ یقین دیں: “اگر تم گر بھی گئے

تو ہم تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔”

اور آخر میں ایک بات،

بہت ذاتی بات…

میں جو یہ سب کہہ رہا ہوں، میں شاید تم سے زیادہ بار ناکام ہوا ہوں۔

بری طرح ناکام ہوا ہوں۔

لیکن جب رُک کر غور کیا

تو سمجھ آیا

کہ مسئلہ دنیا نہیں تھی،

مجھے خود کو بہتر کرنے کی ضرورت تھی۔

تب میں نے:

پڑھنا شروع کیا

سیکھنا شروع کیا

بہتر لوگوں میں بیٹھنا شروع کیا

اور آہستہ آہستہ راستہ بنتا گیا۔

میرے بچو،

تمہاری ناکامی

تمہاری پوری کہانی نہیں۔

یہ صرف ایک باب ہے۔

ابھی:

کئی باب باقی ہیں

کئی راستے کھلنے باقی ہیں

کئی صلاحیتیں جاگنی باقی ہیں

خود پر یقین رکھو

اپنے اللہ پر یقین رکھو

تم فیل نہیں ہوئے،

تم صرف سیکھ رہے ہو۔

اٹھو.

سانس لو۔

اور دوبارہ کوشش کرو۔

یہی زندگی ہے۔

اور یہی اصل کامیابی ہے۔

اگر آپ کو میرا یہ پیغام دل کو لگا ہو تو اسے ضرور شیئر کریں، شاید یہ کسی والدین اور کسی بچے کی پریشانی کم کر دے۔

توصیف اکرم نیازی

Loading