ندائے معرفت
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) آن شاه دو عالم عربی محمدﷺ است
دونوں جہاں کے بادشاہ حضور عربی ﷺ ہیں
مقصود بود آدم عربی محمد ﷺ است
آدم کی پیدائش کا مقصد حضور عربی ﷺ ہیں
صد شکر آں خدائے کہ پشت و پناه خلق
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مخلوق کی پشت و پناہ
شاہنشا ہے مکرم عربی محمد ﷺ است
عزت والے شاہنشاہ حضور عربی ﷺ ہیں
مارا چہ غم بود کہ چنین سایه بر سر است
کیوں غم کروں ، میرے سر پر تو آپ کا سایہ ہے
بختم مدد نمود کہ از آتش شدم
میری مدد کریں میں عشق کی آگ میں ختم ہو چکا ہوں
مطلوب و جان جانم ، عربی محمد است
میری دل و جان کے مطلوب حضور عربی ﷺ ہیں
ختم رسل چراغ ره دین و نور حق
انبیا کے خاتم، دین کے چراغ ، حق کا نور
آن رحمت دو عالم عربی محمد ﷺاست
دونوں جہان کے لئے رحمت حضور عربی ﷺ ہیں
آن سرور خلاق و آں رہمنائے دیں
آپ مخلوق کے سردار اور دین حق کے رہنما ہیں
آن صدر و بدر عالم عربی محمد ﷺ است
مشل بدر کامل، عالم کے صدر حضور عربی ﷺ ہیں
آن کعبہ معارف و آن قبلہ یقین
آپ اسرار در موز الہیٰ اور حق الیقین کا کعبہ و قبلہ ہیں
آن شاه دین پناهم عربی محمد ﷺ است
دین کی پناہ گاہ آپ حضور عربی ﷺ ہیں
کن پیروی راہ دے اربایدت نجات
جہان والو ! آپ ﷺ کی اتباع کرو کہ نجات ملے
شاہنشا ہے معظم عربی محمد ﷺ است
عزت والے بادشاہ حضور ﷺ ہیں
عثماں چو شد غلام نبی و چہار یار
عثمان جب نبیﷺ اور چار یاروں کا غلام ہو گیا
امیدش از مکارم عربی محمد ﷺ است
کرم کی امید اب حضور عربی ﷺ ہیں
اللہ کی تجلی کی کوئی حد نہیں، وہ پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہے۔ میں نے اس کی تجلی خاص اور عام سب میں دیکھی۔ ایک ایسا گہرا معنی مجھے پر واضح ہوا جو عقل و فہم میں نہیں سما سکتا۔ ہر حرف اور ہر گویائی کے معنی مجھ پر واضح ہوئے ہیں۔ وہی اول ہے، وہی آخر ، وہی ظاہر ہے اور باطن ہوا۔ وہی زبر (اونچا اور بالا) وہی زیر زمین کی تہوں کے نیچے )۔ میں نے سب جگہ اس کے مظہر دیکھے ہیں۔ اس کیفیت پر ہزار شکر جو مجھ مسکین بندے کو نصیب ہوئی، کہ میں نے اپنے اپنے دوست کو ظاہر اور پوشیدہ طور پر دیکھا ہے۔)
حضرت لعل سٹی شہباز قلندر کے کئی اشعار میں حضور نبی کریمﷺ سے روحانی تعلق اور نسبت بھی نمایاں ہے۔
بے محمد در حق بار نیست
ہے روا از کبریا دیدار نیست
در دو عالم بے تمثل صورتے
اے پدر دیدار آن دیدار نیست
وسیله محمدﷺ نام کے بغیر بارگاہ حق میں رسائی ممکن نہیں، خدا کے دیدار کے علاوہ کوئی اور دیدار زیبا نہیں ہے۔ دونوں عالم میں بے شمار صورتیں ہیں ،
حضرت لعل شہباز قلندر کی غزلوں کو مشہور دانش در رئیس امروہی مرحوم نے اردو میں ترجمہ کیا۔ ایک غزل کا ترجمہ پیش خدمت ہے۔
رسیدم من به دریایی که موجش آدمی خوار است
نہ کشتی اندر آن دریا، نه ملاحی؛ عجب کار است
شریعت کشتی باشد، طریقت بادبان او
حقیقت لنگری باشد که راه فقر دشوار است
چو آبش جمله خون دیدم بترسیدم ازین دریا
بہ دل گفتم چرا ترسی گذر باید که ناچار است
ندا از حق چنین آمد: مگر ترسی زبان خود؟
بان مشتاقان درن دریا نگونسار است
ایا عثمان مروندی سخن با پرده داری گو
نیابی در جهان یاری که این جا پر ز اغیار است
میں تو اس دریا کا ما نجھی ہوں کہ مردم خوار ہے
اور وہ دریا ہے ہے کشتی عجب اسرار ہے ہے
شریعت اس کی کشتی اور طریقت بادباں
ہےحقیقت اس کا لنگر اپنا بیڑہ پار ہے
مثل آتش جملہ خوں دیکھا تو دنیا سے ڈرا
پر گزرتا ہے ضروری آدمی لاچار ہے
حضرت حق سے صدا آئی کہ کیوں ڈرتا ہے تو
جان شاقاں اسی دریا میں آتش بار ہے
بات اے عثمان مروندی فقط یاروں سے کر
یار دنیا میں کہاں ہیں مجمع اغیار ہے
لیکن اے سننے والے ان کے دیدار جیسا کسی کا دیدار نہیں ہے۔)
حضرت لعل شہباز قلندر کے کلام کا نمایاں رنگ عشق حقیقی ہے:
جان ما از سر گذشته عشق او بر سر گرفت
فار غم از هر دو عالم چون که دلبر در گرفت
( ہماری جان نے ازل سے اس کے عشق کو قبول کیا ہے، اس لیے میں دونوں جہانوں میں ہر غم سے آزاد ہوں، کیوں کہ ہم نے اپنے محبوب کو پالیا ہے۔)
مرد آن ہم اندر ایں رہ کے بگردد مرد عشق
مرد عاشق آن بود لا خوف یک را در گرفت
( جو مر و جواں ہوتا ہے وہی اس راہ حق میں مرد عاشق ہو جاتا ہے اور پھر جو عاشق ہو جاتا ہے وہ صرف ایک ہی کا ہو کر ہر طرح کے خوف و خطر سے آزاد ہوجاتا ہے۔)
نجانے آپ نے علم کا کتنا بڑا ذخیرہ چھوڑا ہو گا جو آج پس پر وہ چلا گیا ہے۔ اب عام طور پر آپ کو ایک مست و مجذوب کی حیثیت سے متعارف کرایا جاتا ہے۔ یوں آپ کے علوم وافکار جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کی زندگی میں مشعل راہ کا کام کر سکتے تھے، کہیں چھپ کر رہ گئے ہیں۔ حضرت لعل شہباز قلندر کی ذات بابرکات کے بہت سے گوشے آج بھی تاریخ کے گمشدہ اوراق میں ہیں۔
حضرت لعل شہباز قلندر نے 18 شعبان سن
673 ہجری مطابق 1275 عیسوی وفات پائی۔ سیہون شریف میں ہر سال شہباز قلندر کے عرس میں لاکھوں زائرین شرکت کرتے ہیں۔
توقع ہے کہ مستقبل قریب میں شہباز قلندر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے علم و فضل سے بھر پور استفادے اور معاشرے میں امن و استحکام کے لیے صوفیانہ تعلیمات سے مدد لینے کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ فروری 2026
![]()

