Daily Roshni News

ندائے معرفت۔۔۔قسط نمبر1

ندائے معرفت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان ہمیشہ سے حقیقت کی جستجو میں رہا ہے، انسان کی یہ جستجو کبھی عقل و فلسفہ کے راستے تو کبھی عشق و وجدان کے ذریعے کائنات کے رازوں تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عشق و معرفت کے کئی مسافروں نے نہ صرف خود حقیقت کو پایا بلکہ اپنی شاعری اور کلام ! کے ذریعے اپنی آگہی کو دوسروں تک بھی پہنچایا۔ رومی، عطار، سعدی اور خسرو کی وجد آفریں شاعری ہو ، سچل سرمست، شاہ عبد الطیف بھٹائی، شہباز قلندر اور یونس ایمرے کی بے خودی کے نعرے ہوں، حافظ ، جامی، سرمد اور خیام کے کلام رباعیات میں چھپی حقیقت ہو، یا بابا فرید ، بلھے شاہ، سلطان باہو ، رحمن بابا، شاہ حسین اور وارث شاہ جیسے صوفیوں کے بے ساختہ الفاظ ہوں، یہ سب محبت، اخلاص اور انسانیت کا ہی پیغام دیتے ہیں۔ یہ کلام راہ حق کے مسافروں کے لیے مشعل راہ بنے ہیں۔ ندائے معرفت “ کے اس سلسلے میں ہم ہر ماہ کسی صوفی کی حکمت سے معمور عارفانہ شاعری اور صوفیانہ کلام کوسمجھنے اور ان عارف بستیوں کے الفاظ کی تاثیر کو محسوس کرنے کی کوشش کریں گے۔

لعل شہباز قلندرؒ

یوم وصال 18 شعبان، بمطابق 7 فروری

 وادی مہران کی سرزمین صدیوں سے روحانیت اور تصوف کا مرکز رہی ہے۔ اس خطے نے انسانیت کو ایسے اولیائے عظام عطا کیے جنہوں نے اپنے علم اور عمل کے ذریعے قلوب کو منور کیا۔ ان سعید ہستیوں میں حضرت عثمان بن على مروندی المعروف لعل شہباز قلندر ؒ کی ہستی ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔

حضرت لعل شہباز قلندرؒ نے دعوت اور تبلیغ کے ذریعے وادی مہران میں دین اسلام کی روشنی پھیلائی۔ آپ نے اس محلے کے عوام میں علوم کے فروغ خصوصاً فارسی زبان کے لیے بھی نمایاں کوششیں کیں۔ حضرت لعل شہباز قلندر” عام تصورات کے بر عکس ہمہ وقت جذب کے عالم میں رہنے والی ہستی نہیں تھے۔ آپ اسلام کے مبلغ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شاعر، محقق ماہر لسانیات اور گرامر کے ماہر تھے ۔ سندھ میں علوم کے فروغ کے لیے آپ کی خدمات تاریخ کار وشن باب ہیں۔

لعل شہباز قلندر نے عوام کے لیے فارسی زبان میں تعلیم کو فروغ دیا، ایسے درسی نصاب تحریر کیے جو

حضرت  لعل شہباز قلندر کے عارفانہ کلام سے اقتباس

نمی دانم کہ آخر چوں دم دیدار می رقصم

 مگر نازم بہ هر صورت بہ پیش یار می رقصم

 تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم

 بہ هر طرز که می رقصانیم اے یار می رقصم

تو آں قاتل کہ از بهر تماشا خون می ریزی

 من آن بسمل کہ زیر خنجر خوں خوار می رقصم

بیا جاناں تماشا کن که در انبوه جانیازاں

 بہ این دستار رسوائی سر بازار می رقصم

 اگر چه قطره شبنم در پوید بر سر خارے

 منم آن قطر، شبنم بہ نوک خار می رقصم

 منم عثمان مروندی کہ یارے شیخ منصورم

 ملامت می کند خالقی و می رقصم

نہیں معلوم کیوں آخر دیم دیدار رقصاں ہوں

 مگر ہے ناز ہر صورت یہ پیش یار رقصاں ہوں

 تو ہو نغمہ سرا ہر دم میں ہر اک بار رقصاں ہوں

 تری خاطر میں ہر اک طر ز پر اے یار رقصاں ہوں

 تو وہ قاتل کہ جو بہر تماشا خون کرتا ہے

میں وہ بسمل کہ زیر خنجر خوں خوار رقصاں ہوں

مری جاں آ تماشا دیکھ جانبازوں کے مجمعے میں

 ردا رسوائی کی اوڑھے سر بازار رقصاں ہوں

 اگرچه قطرۂ شبنم نہیں رکتا ہے کانٹے پر میں

 وہ قطرہ ہوں شبنم کا یہ نوک خار رقصاں ہوں

 میں ہوں عثمان مروندی کہ ہے منصور سے یاری

 علامت خلق کرلے میں تو سوئے دار رقصاں ہوں

میر اگلے کئی سو برسوں تک سندھ کے مدارس میں پڑھائے جاتے رہے۔ جب تک اٹھاورمیں صدی میں انگریزوں نے فارسی کی جگہ انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا

درجہ نہ دے دیا۔

حضرت لعل شہباز قلندر کو شعر و سخن سے بھی بہت دلچسپی تھی۔ حضرت عثمان بن علی مروندی نے شاعری کی کتاب تصنیف کی، جو روحانی اسرار و رموز سے لبریز تھی۔ اس کتاب کا نام عشقیہ ہے۔ آپ کا دیوان آج بھی موجود ہے۔

حضرت لعل شہباز قلندر کے مجموعہ کلام میں معرفت الہی اور سرکار مدینہ کی مدح سرائی، عشق حقیقی کے والہانہ انداز اور عقیدت کا اظہار جابجا نظر آتا ہے۔ آپ کی شاعری میں روحانی وارفتگی، طریقت و تصوف کے اسرار در موز نمایاں ہوتے ہیں۔

حضرت لعل شہباز قلندر کے حمدیہ کلام میں وحدت کارنگ نمایاں ہے۔

حضرت لعل شہباز قلندر اپنے کلام میں عبدو معبود کے تعلق کی ترجمانی اتنے حسین پیرائے میں کرتے ہیں کہ پڑھنے اور سننے والوں کے قلوب میں گر از اور عشق و محبت کا جذبہ فروزاں ہونے لگتا ہے۔ تجلی را نہایت چون نباشد در همه عالم

 تجلی را میان ہر کسان و ناکسان دیدم

زہے معنی که اندر فہم ناید بیچ گہہ بر من

 زہے معنی بہر حرف و بهر نطق بیاں دیدم

 ھو الاول هو الآخر حوالظاہر حوالباطن

جہاں زیر و ہماں زیر و همه مظہر جمال دیدم

 ہزاراں شکر با این گشت لازم بر من مسکینی

که من آن دوست خود ہم آشکارا و نہاں دیدم

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ فروری 2026

Loading