Daily Roshni News

نسلِ انسانی کہاں سے پھیلی؟

نسلِ انسانی کہاں سے پھیلی؟

(طوفانِ نوحؑ کے بعد انسانی تاریخ کا نیا آغاز)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی تاریخ کے قدیم ترین اور فیصلہ کن واقعات میں سے ایک واقعہ طوفانِ نوحؑ ہے، جس کا ذکر قرآنِ مجید، بائبل اور متعدد قدیم روایات میں ملتا ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق یہ عظیم طوفان ہزاروں سال قبل اُس وقت آیا جب قومِ نوحؑ سرکشی، شرک اور اخلاقی زوال کی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔

قرآنی بیانات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام نے تقریباً 950 سال اپنی قوم کو دعوتِ توحید دی (سورۃ العنکبوت: 14)، مگر بہت قلیل لوگ ایمان لائے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتی تیار کی گئی، اور طوفان آیا جس نے زمین کی کافر آبادی کو نیست و نابود کر دیا۔

طوفان کے بعد روئے زمین پر صرف حضرت نوحؑ اور اہلِ ایمان باقی بچے۔ چنانچہ اللہ عزّوجل نے انسانی نسل کا تسلسل اپنے نبی نوحؑ کی اولاد سے جاری فرمایا:

“وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ”

(سورۃ الصافات: 77)

“اور ہم نے ہی اُن کی نسل کو باقی رہنے والا بنایا۔”

نوحؑ کے بیٹے

تاریخی و تفسیری روایات (طبری، ابنِ کثیر وغیرہ) کے مطابق حضرت نوحؑ کے چار بیٹے تھے:

سام،حام،یافث، کنعان

ان میں سے تین سام، حام اور یافث ایمان لائے اور کشتی میں سوار ہوئے، جبکہ چوتھا بیٹا کنعان (جسے بعض روایات میں “یام” بھی کہا گیا) کفر پر قائم رہا اور طوفان میں غرق ہو گیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں نہایت عبرت انگیز انداز میں ملتا ہے (سورۃ ہود: 42–43)۔

اسی طرح زمین پر نئی انسانی آبادی کا آغاز انہی تین بیٹوں کی نسل سے ہوا، اور وقت کے ساتھ دنیا کے مختلف خطوں میں اقوام و تہذیبیں وجود میں آئیں۔

سام بن نوحؑ اقوامِ سامیہ کے جدّ امجد

سام کو اقوامِ سامیہ (Semitic Peoples) کا مورثِ اعلیٰ مانا جاتا ہے۔ مؤرخین و ماہرینِ انساب کے مطابق ان کی نسل سے:

عرب، بنو اسرائیل، آرامی ، آشوری و بابلی اقوام وغیرہ کا تعلق جوڑا جاتا ہے۔

قدیم روایات میں ذکر ملتا ہے کہ سام نے جنوبی عرب میں سکونت اختیار کی، اور بعض روایات کے مطابق اُن سے منسوب پہلی بستی “مدینۃ سام” کہلائی، جسے بعض مؤرخین موجودہ صنعاء (یمن) سے جوڑتے ہیں۔ یمن کی قدیم سامی تہذیبیں اسی نسبت سے اہم سمجھی جاتی ہیں۔

حام بن نوحؑ افریقی اقوام کا انتساب

حام کی نسل افریقی خطوں میں پھیلی۔ روایات میں مصرایم بن حام کا ذکر آتا ہے، جسے مصر میں آباد ہونے والا بتایا جاتا ہے۔ بعض مؤرخین قدیم مصری (فرعونی) تہذیب کی ابتدا اسی نسبت سے بیان کرتے ہیں۔

اسی طرح حام کی نسل سے منسوب اقوام میں شامل کیے جاتے ہیں:

اہلِ حبشہ (ایتھوپیا)، نوبہ، بربر / امازیغ، بعض سوڈانی و افریقی قبائل یہ انتساب زیادہ تر قدیم انسابی و روایتی مصادر پر مبنی ہے۔

یافث بن نوحؑ، شمالی و یورپی و ایشیائی اقوام

یافث کی نسل شمالی، وسطی اور مغربی علاقوں میں پھیلی۔ قدیم اسلامی و بائبلی روایات میں ان کی اولاد سے منسوب اقوام میں شامل کیے جاتے ہیں:

ترک،تاتار، منگول، بعض چینی اقوام سلاوی و یورپی اقوام۔اسی نسبت سے یافث کو بعض اوقات یوریشیائی اقوام کا جدّ امجد بھی کہا جاتا ہے۔

کنعان ،عبرت کا استعارہ

حضرت نوحؑ کا چوتھا بیٹا کنعان ایمان نہ لایا۔ جب طوفان آیا تو اُس نے پہاڑ پر پناہ لینے کی کوشش کی، مگر اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکا۔ یہ واقعہ ایمان و نسب کے فرق کو واضح کرتا ہے — کہ نجات ایمان سے ہے، نہ کہ خاندانی نسبت سے۔

طوفان کے بعد انسانی عہدِ ثانی

یوں طوفانِ نوحؑ کے بعد انسانیت کا دوسرا دور انہی تین بیٹوں — سام، حام اور یافث — کی نسل سے شروع ہوا۔ ابتدا میں لوگ توحید پر قائم تھے، پھر وقت کے ساتھ زمین میں پھیلاؤ ہوا، زبانیں جدا ہوئیں، اقوام بنیں، تہذیبیں ابھریں اور انسانی تاریخ نے نئے ادوار اختیار کیے۔

سبحان اللہ العظیم

اللہ کے اسمائے حُسنیٰ میں سے ایک نام یاد کریں:

یا خالقَ الخلق ، یا باسطَ الارض

Loading