نظر بد کی اقسام ، نقصانات نشانیاں اور بچاؤ کے طریقے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )نظر بد انسانی تاریخ کے قدیم ترین روحانی تصورات میں سے ایک ہے، جس کا ذکر مختلف تہذیبوں، مذاہب اور معاشروں میں ملتا ہے۔ اسلام میں بھی نظر بد کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، تاہم اس کے ساتھ توازن، توکل اور اللہ پر کامل بھروسہ کی تعلیم دی گئی ہے۔ عام طور پر نظر بد اس وقت اثر انداز سمجھی جاتی ہے جب کوئی شخص حسد، جلن، حیرت یا حد سے زیادہ تعریف کے ساتھ کسی کو دیکھے اور اللہ کا نام نہ لے۔ روحانی نقطۂ نظر سے بعض اہلِ علم اور روحانی معالجین یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس عمل کے ساتھ غیر مرئی اثرات جڑ سکتے ہیں، جو متاثرہ شخص کی جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی حالت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
بعض علماء نظر بد کو دو بنیادی اقسام میں بیان کرتے ہیں۔
ایک وہ نظر جو محبت یا تعریف کے جذبے سے لگتی ہے، جب کوئی شخص کسی نعمت کو دیکھ کر “ماشاء اللہ” نہ کہے۔
دوسری وہ نظر جو حسد، جلن یا منفی نیت سے ہو، جسے زیادہ نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ روحانی تشریحات کے مطابق نظر بد کے اثرات مختلف سطحوں پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔ ہلکی سطح پر انسان سر درد، تھکن، سستی، بھولنے کی عادت یا چھوٹے چھوٹے نقصانات کا سامنا کر سکتا ہے۔ جبکہ گہری سطح پر اثرات انسان کے مال، رشتوں، خوبصورتی، صحت، کامیابی اور بعض اوقات ایمان تک پر اثر انداز ہونے کی صورت میں بیان کیے جاتے ہیں۔
کچھ لوگ اپنی زندگی میں اچانک بیماری، اسقاط حمل، شادی میں تاخیر، کاروباری نقصان، گھریلو جھگڑے یا اچانک خود اعتمادی میں کمی محسوس کرتے ہیں۔ بعض روحانی معالجین شدید صورت میں جنات کے اثر کا بھی ذکر کرتے ہیں، اگرچہ اس بارے میں محتاط رہنا ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہر مسئلے کو روحانی وجہ سے جوڑ دینا درست نہیں۔
روحانی اصطلاحات میں نظر بد کی مزید اقسام بھی بیان کی جاتی ہیں، جیسے عین الحسد جو حسد اور بری نیت سے ہوتی ہے، عین العجب جو حد سے زیادہ تعریف سے پیدا ہوتی ہے، اور عین النفس جو انسان کے اپنے اندر اپنی نعمتوں پر فخر یا خود پسندی سے پیدا ہو سکتی ہے جب وہ اللہ کا شکر ادا نہ کرے۔
نظر بد کے اثرات صرف جسم تک محدود نہیں سمجھے جاتے بلکہ روحانی اور جذباتی سطح پر بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ بعض افراد عبادت میں دل نہ لگنے، بے چینی، خوف، ڈپریشن یا زندگی میں مسلسل رکاوٹیں محسوس کرنے کی شکایت کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو لگتا ہے جیسے ان کی زندگی کسی جگہ رک گئی ہو اور آگے نہیں بڑھ رہی۔
اسلام میں اس سے بچاؤ کے واضح اور سادہ طریقے بتائے گئے ہیں۔ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کا پڑھنا، آیت الکرسی کی تلاوت، صبح و شام کے اذکار، سونے سے پہلے دم کرنا اور رقیہ کرنا مؤثر روحانی حفاظت کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔ صحیح بخاری میں نبی کریم ﷺ نے نظر بد کے لیے رقیہ کی اجازت اور ترغیب دی ہے، جو اس کی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے مگر ساتھ ہی اللہ پر مکمل بھروسہ کی تعلیم بھی دیتا ہے۔
بعض روحانی معالجین نظر بد کو علامتی طور پر “روحانی تیر” سے تشبیہ دیتے ہیں، لیکن اسلامی عقیدہ واضح کرتا ہے کہ کوئی بھی اثر اللہ کی تقدیر سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے علاج کا اصل مرکز قرآن، دعا، ذکر اور اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ توہمات یا غیر مستند طریقوں پر انحصار کرنا۔
روحانی اصطلاحات میں بعض لوگ نظر بد کو “گرم” اور “ٹھنڈی” نظر کے طور پر بھی بیان کرتے ہیں،
گرم نظر بد کو شدید حسد یا دشمنی سے جوڑا جاتا ہے، جس میں اچانک بخار، جسم میں جلن، نقصان، غصہ اور بے چینی جیسی علامات بیان کی جاتی ہیں۔
جبکہ ٹھنڈی نظر بد کو آہستہ اثر کرنے والی کیفیت کہا جاتا ہے، جس میں دائمی تھکن، اداسی، بھولنا اور زندگی میں مسلسل رکاوٹیں محسوس ہونا شامل کیا جاتا ہے۔
آخرکار خلاصہ یہی ہے کہ نظر بد کو نہ مکمل طور پر نظر انداز کرنا درست ہے اور نہ اس میں مبالغہ کرنا چاہیے۔ ایک مومن کے لیے سب سے مضبوط حفاظت اللہ کا کلام، دعا، ذکر اور اللہ پر کامل توکل ہے۔ نعمتوں پر شکر ادا کرنا، ماشاء اللہ کہنا اور سادہ زندگی اختیار کرنا بھی روحانی تحفظ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
تحریر و تحقیق مجنوں
![]()

