نظم مرزا غالبؔ از علامہ اقبال
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بند نمبر 4۔لُطفِ گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیّل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہم نشیں
مشکل الفاظ:لُطفِ گویائی: بولنے کی چاشنی یا خوبصورتی، فصیح و بلیغ شاعری۔ہمسَری: برابری۔فکرِ کامل : کامل سوچ، پُختہ سوچ ،ہم نشِیں ساتھی، دوست، ساتھ بیٹھنے والا۔
تشریح:بولنے کی چاشنی (شاعری) میں تیری برابری ممکن نہیں جب تک کہ تخیّل اور فکر دونوں ساتھ نہ ہوں۔
تبصرہ:
یہاں اقبال نے غالب کا اندازِ فکر اور فن کی سطح پر جو لطف اور مزہ غالب کی شاعری پیدا کرتی ہے، اُس کو غالب کے تخیل اور فکر کی مدح سے جوڑ دیا ہے۔ یعنی جب تک کہ کوئی شاعر تیرے تخیّل کی بلندی پر نہیں پہنچتا، تب تک اُس کے لیے ایسا کلام تخلیق کرنا ممکن نہیں جو تیری برابری کا ہو۔
تخیّل کی بلندی پر پہنچنے کا راستہ بھی اقبال نے بتا دیا اور وہ ہے، فکر کا مکمل ہونا۔ یہاں فکر اور تخیّل فلسفیانہ اصطلاح کے طور پر آئے ہیں، جن کا ذکر پہلے شعر کے تبصرے میں کیا گیا ہے۔
ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں
آہ! اے نظّارہ آموزِ نگاہِ نکتہ بیں
مشکل الفاظ:
نظّارہ آموز: نظارہ دیکھنے والا، دیکھنے کا طریقہ بتانے والا۔
نگاہِ نُکتہ بیں: باریک بینی سے دیکھنے والی آنکھ، بھید تلاش کرنے والی نظر، مراد ہے غالب۔
تشریح:
ہائے کہ اب ہندوستان کی سر زمیں بنجر ہو گئی ہے۔ آہ اے نظارہ دیکھنے والی باریک بیں دانشمند کی آنکھ (مراد شاعر، مرزا غالب)
تبصرہ:
وہ دلّی کی خاک جس نے ماضی میں غالب جیسے بڑے ناموں کو پیدا کیا، جب اقبال غالب کے فکر و فن کی طرف دیکھتے ہیں تو لا محالہ اُن کی نظر سرزمینِ ہندوستان کے حال کی طرف جاتی ہے، جو اب ویسے شعرا اور مفکّر پیدا نہیں کر رہی۔
؎ نہ اُٹھّا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گِلِ ایراں، وہی تبریز ہے ساقی
(حوالہ: بالِ جبریل)
بڑے لوگوں کی یاد میں اکثر ایسا خیال پیدا ہوتا ہے۔ اقبال کے ہاں ماضی کے چمکتے ستاروں کو دیکھنے کا مقصد اور اُس کا حال کے ساتھ تقابل کرنا، آہ و زاری نہیں بلکہ حیاتِ نو کی تلاش ہے۔ یہی حیاتِ نو، شمع و پروانے کی صورت میں اگلے شعر میں آئے گی۔
گیسوئے اُردو ابھی منّت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائیِ دل سوزیِ پروانہ ہے
مشکل الفاظ:
گیسوئے اُردو : گیسو یعنی بال، گیسوئے اُردو سے مراد ہے اُردو زبان کی زُلفیں۔
منّت پذیر: زیرِ احسان۔
شانہ: کندھا، کنگھا۔
سودائی: دیوانہ، عاشق، مشتاق۔
دِل سوزی: ہمدردی، دِل جلانا، محنت و کاوِش۔
تشریح:
اردو کے بال ابھی کنگھے کے محتاج ہیں۔ یہ وہ شمع ہے جسے پروانے کا عشق اور ہمدردی درکار ہے۔
تبصرہ:
اِس شعر میں اقبال نے دو خوبصورت استعاروں کا استعمال کیا ہے۔ زبانِ اردو ابھی مکمل طور پر اپنے کمال کو نہیں پہنچی، ابھی اُس کو اور سجنے سنورنے کی ضرورت ہے۔
لفظ شانہ کے عام فہم معنی ہیں کندھا، مگر یہاں یہ کنگھے کے معنوں میں آیا ہے۔ یہ شانہ اردو زبان میں لکھنے والوں کی طرف اشارہ ہے۔ کسی بھی زبان میں لکھا گیا ادب اُس کو بہتر سے بہتر بناتا ہے۔
اردو وہ شمع ہے جو ایسے پروانوں کی منتظر ہے جو عشق، دیوانگی اور ہمدردی میں اس کی طرف کھِچے چلے آئیں۔
یہاں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ زبان صرف وہی زندہ رہ سکتی ہے (اور ترقی کر سکتی ہے) جس کے بولنے والے ہوں اور جس میں ادب لکھا جائے۔ جس قدر زبان کا استعمال بڑھے گا، اور جتنا بہتر اور جتنا متنوع ادب، اس میں پیدا کیا جائے گا، اس قدر اس کا مقام بلند تر ہوتا جائے گا۔ اس کے برعکس اگر زبان کی طرف پروانے نہ کھِچے چلے جائیں (تعلیمی و معاشی کشش نہ ہونے کی بنا پر) تو وہ مرنے لگتی ہے، ایسا ہی کچھ اردو زبان کے ساتھ کیا گیا ہے۔
غالب کے لیے لکھی جانے والی تعریفی نظم میں، ہندوستان کی سرزمین سے پیدا کردہ لوگوں کے ذکر کے ساتھ اردو کا ذکر، اقبال کا غالب کی شخصیت کو مکمل خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔
یہ شعر اُن خدمات کا اعتراف کرتا ہے جو غالب نے اردو زبان کے لیے سر انجام دیں۔ اس زبان میں اعلیٰ درجے کی شاعری کے علاوہ زبان میں جِدّت لانے کا کارنامہ بھی غالب کے سر جاتا ہے۔ اِس کا اندازہ غالب کے خطوط میں استعمال کردہ زبان، اور اُس دور میں لکھی باقی تصانیف کے تقابل سے با آسانی کیا جاسکتا ہے۔
جاری ہے۔
#اردوشاعری #night #allamaiqbal #علامہ_اقبال #IqbalKaPaigham #iqbalbooks #کلیات_اقبال #IqbalSpirit #RumiOfTheEast #allamaiqbalpoetry
![]()

