Daily Roshni News

نیا سال اور گریگورین کلینڈر کی حقیقت

نیا سال اور گریگورین کلینڈر کی حقیقت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آج دنیا کے زیادہ تر ممالک، جن میں بڑی تعداد مسلم ممالک کی بھی ہے، جس کیلنڈر کو استعمال کر رہے ہیں وہ گریگورین کیلنڈر کہلاتا ہے۔ یہ کیلنڈر 1582ء میں پاپ گریگوری سیزدہم کے حکم پر رائج کیا گیا۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کا مقصد وقت اور تاریخ کا درست حساب رکھنا تھا، مگر حقیقت میں اس کی بنیادی وجہ مسیحی تہوار ایسٹر کی درست تاریخ طے کرنا تھی۔

 یورپ میں چرچ کے پادری اکثر غلط حساب لگا بیٹھتے تھے اور ایسٹر مختلف دنوں میں منایا جانے لگا تھا، جس نے کلیسا کو شدید الجھن میں ڈال دیا۔ اسی مسئلے کے حل کے لیے نئے کیلنڈر کی ضرورت محسوس کی گئی۔

یہ کیلنڈر بناتے وقت وقت کے فطری بہاؤ کے ساتھ خاصی چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ سال کو بارہ مہینوں میں تقسیم تو کیا گیا، مگر نہ دنوں کی تعداد یکساں رکھی گئی اور نہ ہی مہینوں کے نام کسی واضح ترتیب کے مطابق ہیں۔ مثال کے طور پر مارچ کا نام رومن دیوتا مارس کے نام پر رکھا گیا جو جنگ کا دیوتا تھا، کیونکہ یورپ کے بادشاہ سردیوں کے خاتمے کے بعد اسی مہینے جنگی مہمات شروع کیا کرتے تھے۔ یوں کیلنڈر میں ایک مہینہ براہِ راست جنگ اور خونریزی کی علامت بن گیا۔

اسی طرح جولائی اور اگست کے نام رومن سلطنت کے دو حکمرانوں، جولیس سیزر اور آگسٹس سیزر، کے نام پر رکھے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کے درمیان سیاسی رقابت اور ذاتی بغض بھی پایا جاتا تھا۔ جب جولائی کو 31 دن دیے گئے تو جولیس سیزر کے حامی خوش ہو گئے، مگر آگسٹس کے چاہنے والوں کو یہ بات ناگوار گزری کہ اس کے نام والے مہینے میں دن کم کیوں ہوں۔ چنانچہ فروری سے ایک دن کم کر کے اگست کو دے دیا گیا، اور فروری ہمیشہ کے لیے 28 دن کا مظلوم مہینہ بن گیا۔ یوں وقت بھی بادشاہوں کی انا اور سیاست کا غلام بنا دیا گیا۔

اس کیلنڈر کی ایک اور عجیب بات مہینوں کے نام اور ان کے عددی معنی کا تضاد ہے۔ لاطینی زبان میں سیپٹم کا مطلب سات ہے، مگر ستمبر یہاں نواں مہینہ ہے۔ آکٹا آٹھ کے لیے آتا ہے، لیکن اکتوبر دسواں مہینہ ہے۔ اسی طرح نومبر (نو) گیارہواں اور دسمبر (دس) بارہواں مہینہ بن چکے ہیں۔ یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ ابتدا میں سال مارچ سے شروع ہوتا تھا، بعد میں جنوری اور فروری کو آگے شامل کر دیا گیا مگر نام تبدیل نہیں کیے گئے۔

سب سے حیران کن واقعہ یہ ہے کہ جب اس کیلنڈر کو نافذ کیا گیا تو 4 اکتوبر 1582ء کے بعد سیدھا 15 اکتوبر کا اعلان کر دیا گیا۔ یعنی دس دن محض کاغذی فیصلے سے غائب کر دیے گئے۔ لوگ سوئے تو چار تاریخ تھی اور جاگے تو پندرہ تاریخ ہو چکی تھی۔ یہ سب صرف حساب کو آسان بنانے اور کلیسا کی سہولت کے لیے کیا گیا۔

یوں قدرتی نظامِ وقت، جو سورج اور چاند کی حرکات سے جڑا ہوا تھا، اس سے ہٹ کر ایک مصنوعی کیلنڈر کو دنیا پر مسلط کر دیا گیا۔ یکم جنوری سے نہ سورج کا کوئی خاص چکر مکمل ہوتا ہے، نہ چاند کا، بس انسان نے مان لیا کہ یہی نیا سال ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم فطرت کے کیلنڈر کے بجائے ایک انسانی، سیاسی اور مذہبی مصلحتوں پر مبنی نظامِ وقت کے اندر زندگی گزارنے لگے۔

اگر آپ بھی علم، تاریخ، سائنس، اور انسانیت سے محبت رکھتے ہیں تو ایسی مزید پوسٹس کے لیے پیج کو فالو اور پوسٹ کو شیئر کرنا مت بھولیے۔ شکریہ۔

ULM  اردو

#gregorioncalendar #newyear2026

Loading