Daily Roshni News

نیا قانون۔۔۔ تحریر۔۔۔سعادت حسن منٹو۔۔۔قسط نمبر2

نیا قانون

تحریر۔۔۔سعادت حسن منٹو

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ نیا قانون۔۔۔ تحریر۔۔۔سعادت حسن منٹو) دریافت کریں گے۔‘‘ ان مارواڑیوں کی بات چیت استاد منگو کے دل میں ناقابلِ بیان خوشی پیدا کر رہی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو ہمیشہ گالیاں دیتا تھا۔ اور چابک سے بہت بری طرح پیٹا کرتا تھا۔ مگر اس روز وہ بار بار پیچھے مڑ کر مارواڑیوں کی طرف دیکھتا۔ اور اپنی بڑھی ہوئی مونچھوں کے بال ایک انگلی سے بڑی صفائی کے ساتھ اونچے کرکے گھوڑے کی پیٹھ پر باگیں ڈھیلی کرتے ہوئے بڑے پیار سے کہتا، ’’چل بیٹا۔۔۔ ذرا ہوا سے باتیں کرکے دکھا دے۔‘‘

مارواڑیوں کو ان کے ٹھکانے پہنچا کر اس نے انارکلی میں دینو حلوائی کی دکان پر آدھ سیر دہی کی لسّی پی کر ایک بڑی ڈکار لی۔اور مونچھوں کو منہ میں دبا کر ان کو چوستے ہوئے ایسے ہی بلند آواز میں کہا، ’’ہت تیری ایسی تیسی۔‘‘

شام کو جب وہ اڈے کو لوٹا تو خلافِ معمول اسے وہاں اپنی جان پہچان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب و غریب طوفان برپا ہو گیا۔ آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا۔۔۔ بہت بڑی خبر، اور اس خبر کو اپنے اندر سے نکالنے کے لیے وہ سخت مجبور ہو رہا تھا لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔

آدھ گھنٹے تک وہ چابک بغل میں دبائے اسٹیشن کے اڈے کی آہنی چھت کے نیچے بیقراری کی حالت میں ٹہلتا رہا۔ اس کے دماغ میں بڑے اچھے اچھے خیالات آ رہے تھے۔ نئے قانون کے نفاذ کی خبر نے اس کو ایک نئی دنیا میں لاکر کھڑا کر دیا تھا۔ وہ اس نئے قانون کے متعلق جو پہلی اپریل کو ہندستان میں نافذ ہونے والا تھا اپنے دماغ کی تمام بتیاں روشن کرکے غورو فکر کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں مارواڑی کا یہ اندیشہ ’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘ بار بار گونج رہا تھا۔ اور اس کے تمام جسم میں مسّرت کی ایک لہر دوڑا رہا تھا۔ کئی بار اپنی گھنی مونچھوں کے اندر ہنس کر اس نے مارواڑیوں کو گالی دی۔۔۔ ’’غریبوں کی کھٹیا میں گُھسے ہوئے کھٹمل۔۔۔ نیا قانون ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہو گا۔‘‘

وہ بے حد مسرور تھا، خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک پہنچتی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں۔۔۔ سفید چوہوں (وہ ان کو اسی نام سے یاد کیا کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی بلوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔

جب نتھو گنجا، پگڑی بغل میں دبائے، اڈے میں داخل ہوا تو استاد منگو بڑھ کر اس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا، ’’لا ہاتھ ادھر۔۔۔ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے۔۔۔ تیری اس گنجی کھوپری پر بال اگ آئیں۔‘‘ اور یہ کہہ کر منگو نے بڑےمزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں۔ دورانِ گفتگو میں اس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مار کر کہا، ’’تو دیکھتا رہ، کیا بنتا ہے، یہ روس والا بادشاہ کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا۔‘‘

استاد منگو موجودہ سوویت نظام کی اشتراکی سرگرمیوں کے متعلق بہت کچھ سن چکا تھا۔ اور اسے وہاں کے نئے قانون اور دوسری نئی چیزیں بہت پسند تھیں۔ اسی لیے اس نے روس والے بادشاہ ’’کو انڈیا ایکٹ‘‘ یعنی جدید آئین کے ساتھ ملا دیا۔ اور پہلی اپریل کو پرانے نظام میں جو نئی تبدیلیاں ہونے والی تھیں۔ وہ انھیں ’’روس والے بادشاہ‘‘ کے اثر کا نتیجہ سمجھتا تھا۔

کچھ عرصے سے پشاور اور دیگر شہروں میں سرخ پوشوں کی تحریک جا رہی تھی۔ منگو نے اس تحریک کو اپنے دماغ میں ’روس والے بادشاہ‘ اور پھر نئے قانون کے ساتھ خلط ملط کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ جب کبھی وہ کسی سے سنتاکہ فلاں شہر میں بم ساز پکڑے گئے ہیں۔ یا فلاں جگہ اتنے آدمیوں پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔ تو ان تمام واقعات کو نئے قانون کا پیش خیمہ سمجھتا اور دل ہی دل میں خوش ہوتا۔

ایک روز اس کے تانگے میں دو بیرسٹر بیٹھے نئے آئین پر بڑے زور سے تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا ان میں سے ایک، دوسرے سے کہہ رہا تھا، ’’جدید آئین کا دوسرا حصّہ فیڈریشن ہے جو میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آسکا۔ فیڈریشن دنیا کی تاریخ میں آج تک نہ سنی نہ دیکھی گئی۔ سیاسی نظریہ سے بھی یہ فیڈریشن بالکل غلط ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ کوئی فیڈریشن ہے ہی نہیں!‘‘

ان بیرسٹروں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس میں بیشتر الفاظ انگریزی کے تھے۔ اس لیے استاد منگو صرف اوپر کے جملے ہی کو کسی قدر سمجھا اور اس نے کہا، ’’یہ لوگ ہندوستان میں نئے قانون کی آمد کو برا سمجھتے ہیں۔ اور نہیں چاہتے کہ ان کا وطن آزاد ہو۔‘‘ چنانچہ اس خیال کے زیر اثر اس نے کئی مرتبہ ان دو بیرسٹروں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھ کر کہا، ’’ٹو ڈی بچے!‘‘

جب کبھی وہ کسی کو دبی زبان میں ’’ٹوڈی بچہ‘‘ کہتا تو دل میں یہ محسوس کرکے بڑا خوش ہوتا کہ اس نے اس نام کو صحیح جگہ استعمال کیا ہے اور یہ کہ وہ شریف آدمی اور ’’ٹوڈی بچے‘‘ کی تمیز کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

اس واقعے کے تیسرے روز وہ گورنمنٹ کالج کے تین طلبا کو اپنے تانگے میں بٹھا کر مزنگ جا رہا تھا کہ اس نے ان تین لڑکوں کو آپس میں یہ باتیں کرتے سنا، ’’نئے آئین نے میری امیدیں بڑھا دی ہیں اگر۔۔۔ صاحب اسمبلی کے ممبر ہو گئے۔ تو کسی سرکاری دفتر میں ملازمت ضرور مل جائے گی۔‘‘

ویسے بھی بہت سی جگہیں اور نکلیں گی۔ شاید اسی گڑبڑ میں ہمارے ہاتھ بھی کچھ آ جائے۔‘‘

ہاں ہاں کیوں نہیں۔‘‘

وہ بے کار گریجویٹ جو مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ان میں کچھ تو کمی ہو گی۔‘‘

اس گفتگو نے استاد منگو کے دل میں جدید آئین کی اہمیت اور بھی بڑھا دی۔ وہ اس کو ایسی ’چیز‘ سمجھنے لگا جو بہت چمکتی ہو۔ ’نیا قانون۔۔۔!‘ وہ دن میں کئی بار سوچتا، یعنی کوئی ’نئی چیز!‘ اور ہر بار اس کی نظروں کے سامنے اپنے گھوڑے کا وہ ساز آ جاتا۔ جو اس نے دو برس ہوئے چودھری خدا بخش سے اچھی طرح ٹھونک بجا کر خریدا تھا۔ اس ساز پر جب وہ نیا تھا۔ جگہ جگہ لوہے کی نِکل چڑھی ہوئی کیلیں چمکتی تھیں اور جہاں جہاں پیتل کا کام تھا وہ تو سونے کی طرح دمکتا تھا۔ اس لحاظ سے بھی ’نئے قانون‘ کا درخشاں و تاباں ہونا ضروری تھا۔

پہلی اپریل تک استاد منگو نے جدید آئین کے خلاف اور اس کے حق میں بہت کچھ سنا۔ مگر اس کے متعلق جو تصور وہ اپنے ذہن میں قائم کر چکا تھا۔ بدل نہ سکا۔ وہ سمجھتا تھا کہ   پہلی اپریل کو نئے قانون کے آتے ہی سب معاملہ صاف ہو جائے گا۔ اور اس کو یقین تھا کہ۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ

Loading