Daily Roshni News

نیلا درخت

نیلا درخت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کشمیر کی ایک خاموش وادی میں ایک ایسا درخت موجود تھا جس کے بارے میں عجیب کہانیاں مشہور تھیں۔ وہ درخت عام درختوں جیسا نہیں تھا۔ اس کے پتے ہلکے نیلے رنگ کے تھے، اور رات کے وقت وہ مدھم روشنی دینے لگتا تھا۔

لوگ اسے “نیلا درخت” کہتے تھے۔

کہا جاتا تھا کہ جو شخص اس درخت کے نیچے بیٹھ کر دل سے کوئی سوال کرے، اسے اس کا جواب ضرور ملتا ہے۔

مگر ایک شرط تھی۔

درخت صرف اُن لوگوں کو جواب دیتا تھا جو واقعی سچ سننے کی ہمت رکھتے ہوں۔

چوبیس سالہ ریحان ایک نوجوان موسیقار تھا۔ چند سال پہلے اس کی دھنیں لوگوں میں بہت مقبول ہوئی تھیں، مگر اب وہ اپنی زندگی کے مشکل دور سے گزر رہا تھا۔ اس کے گانے لوگوں کو پہلے جیسے پسند نہیں آتے تھے، اور آہستہ آہستہ اس کا اعتماد ختم ہورہا تھا۔

وہ ہر وقت ایک ہی سوال سوچتا رہتا:

“کیا میرا خواب ختم ہوگیا ہے؟”

ایک دن وہ سب کچھ چھوڑ کر کشمیر چلا گیا۔

وہ تنہائی چاہتا تھا۔

ایک شام وہ پہاڑی راستوں پر چلتے چلتے ایک پرانے جنگل تک پہنچ گیا۔ وہاں کی فضا عجیب حد تک پرسکون تھی۔ ٹھنڈی ہوا درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر مدھم سرگوشیاں پیدا کر رہی تھی۔

اسی دوران اسے دور نیلی روشنی دکھائی دی۔

وہ آہستہ آہستہ اُس طرف بڑھا۔

اور پھر اس نے اسے دیکھا۔

ایک بہت بڑا درخت…

جس کے نیلے پتے چاندنی میں چمک رہے تھے۔

ریحان چند لمحے حیرت سے اسے دیکھتا رہا۔

“تو یہ واقعی موجود ہے…”

اسی وقت ایک آواز سنائی دی۔

“ہر کہانی جھوٹ نہیں ہوتی۔”

ریحان نے مڑ کر دیکھا۔

ایک لڑکی درخت کے قریب کھڑی تھی۔ اس نے گہرے نیلے رنگ کی شال اوڑھ رکھی تھی اور اس کی آنکھیں عجیب حد تک روشن تھیں۔

“تم کون ہو؟” ریحان نے پوچھا۔

لڑکی مسکرائی۔

“میرا نام زویا ہے۔”

“تم یہاں رہتی ہو؟”

“شاید۔”

“شاید؟”

زویا ہلکا سا ہنس دی۔

“کچھ لوگ جگہوں سے جڑے ہوتے ہیں، گھروں سے نہیں۔”

ریحان اس کی بات پوری طرح نہ سمجھ سکا۔

“یہ واقعی سوالوں کے جواب دیتا ہے؟” اس نے درخت کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

زویا نے خاموشی سے سر ہلایا۔

“مگر جواب ہمیشہ ویسے نہیں ہوتے جیسے انسان چاہتا ہے۔”

ہوا میں نیلے پتوں کی خوشبو پھیل گئی۔

ریحان درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔

اس نے آنکھیں بند کیں۔

“کیا میں دوبارہ وہی موسیقار بن سکوں گا جو پہلے تھا؟”

چند لمحوں تک خاموشی رہی۔

پھر اچانک درخت کے پتے ہلکے سے چمکنے لگے۔

ہوا میں مدھم سی دھن ابھری۔

اور ریحان کے ذہن میں ایک جملہ گونجا:

“جو انسان صرف کامیابی کے لیے گاتا ہے، وہ ایک دن خاموش ہوجاتا ہے۔”

ریحان نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔

اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔

“یہ… یہ کیا تھا؟”

زویا پرسکون کھڑی تھی۔

“درخت نے تمہیں جواب دے دیا۔”

“مگر میں سمجھا نہیں…”

“تم موسیقی سے محبت کرتے تھے… پھر تم لوگوں کی پسند کے پیچھے بھاگنے لگے۔”

ریحان خاموش ہوگیا۔

کیونکہ یہ سچ تھا۔

وہ پہلے دل سے گاتا تھا، مگر شہرت ملنے کے بعد وہ ہر وقت یہی سوچتا رہتا کہ لوگ کیا پسند کریں گے۔

اسی خوف نے اس کی موسیقی کو بدل دیا تھا۔

اگلے کئی دن ریحان اُس جنگل میں جاتا رہا۔

ہر بار وہ زویا کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتا، اور نیلے درخت کے نیچے نئی دھنیں بناتا۔

آہستہ آہستہ اسے محسوس ہونے لگا کہ اس کے اندر کی بےچینی ختم ہورہی ہے۔

ایک رات اس نے زویا سے پوچھا:

“تم ہمیشہ یہاں کیوں رہتی ہو؟”

زویا کچھ دیر خاموش رہی۔

پھر بولی:

“کیونکہ میں بھی کبھی ایک سوال لے کر یہاں آئی تھی۔”

“کون سا سوال؟”

زویا نے درخت کی طرف دیکھا۔

“میں جاننا چاہتی تھی کہ لوگ کیوں بدل جاتے ہیں۔”

“پھر؟”

“درخت نے کہا…

وقت ہر انسان سے کچھ نہ کچھ چھین لیتا ہے، مگر اصل لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنا دل نہیں بدلتے۔”

ریحان نے پہلی بار اس کی آواز میں اداسی محسوس کی۔

“اور تم؟ تم بدل گئیں؟”

زویا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:

“شاید بہت پہلے۔”

اُسی رات ریحان کو گاؤں کے ایک بوڑھے شخص سے نیلے درخت کے بارے میں مزید باتیں معلوم ہوئیں۔

بوڑھے نے کہا:

“کئی سال پہلے ایک لڑکی جنگل میں گم ہوگئی تھی۔ لوگ کہتے ہیں وہ اب بھی نیلے درخت کے پاس نظر آتی ہے۔”

ریحان کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔

“اس کا نام کیا تھا؟”

بوڑھے نے جواب دیا:

“زویا۔”

ریحان پوری رات سو نہ سکا۔

اگلے دن وہ فوراً جنگل پہنچا۔

زویا ہمیشہ کی طرح وہاں موجود تھی۔

“تم حقیقت میں کون ہو؟” ریحان نے دھیمی آواز میں پوچھا۔

زویا کی آنکھوں میں خاموش اداسی اتر آئی۔

“میں نے سوچا تھا تم خود سمجھ جاؤ گے۔”

“تم… زندہ نہیں ہو؟”

ہوا اچانک ٹھنڈی ہوگئی۔

نیلے پتے آہستہ آہستہ گرنے لگے۔

“میں کئی سال پہلے یہاں راستہ بھٹک گئی تھی۔ پھر شاید میرا ایک حصہ ہمیشہ کے لیے اسی درخت کے ساتھ رہ گیا۔”

ریحان کے دل میں خوف کے بجائے درد پیدا ہوا۔

“تم یہاں کیوں رکی ہو؟”

زویا نے آسمان کی طرف دیکھا۔

“کیونکہ میرا سوال ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔”

“اب ہوا؟”

زویا نے پہلی بار سکون سے مسکرایا۔

“شاید… کیونکہ تم نے مجھے یاد رکھا۔”

اسی لمحے نیلا درخت پہلے سے زیادہ روشن ہوگیا۔

روشنی پورے جنگل میں پھیلنے لگی۔

زویا کا وجود آہستہ آہستہ دھندلانے لگا۔

ریحان بےاختیار آگے بڑھا۔

“زویا!”

وہ مسکرائی۔

“اپنی موسیقی کبھی مت چھوڑنا۔

کچھ آوازیں انسان کے جانے کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں۔”

“مت جاؤ…”

“میں کہیں نہیں جا رہی…

میں ہر اُس دھن میں رہوں گی جو تم دل سے بناؤ گے۔”

اگلے ہی لمحے وہ روشنی میں تحلیل ہوگئی۔

جنگل دوبارہ خاموش ہوگیا۔

صرف نیلے پتے ہوا میں آہستہ آہستہ گر رہے تھے۔

کئی مہینوں بعد ریحان نے اپنا نیا البم ریلیز کیا۔

اس البم کا نام تھا:

“نیلا درخت”

لوگ کہتے تھے اُس کی دھنوں میں عجیب سکون ہے، جیسے کسی خاموش جنگل کی آواز ہو۔

اور ہر بار جب ریحان کشمیر واپس جاتا، وہ نیلے درخت کے نیچے بیٹھ کر ایک نئی دھن ضرور بجاتا۔

کیونکہ اب اسے معلوم ہوچکا تھا…

اصل موسیقی انسان کے دل سے پیدا ہوتی ہے، دنیا کی آوازوں سے نہیں۔

Loading