*”وادیِ کیلاش — رنگ، رسم، اور راز کی سرزمین”*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شمالی پاکستان کی سنگلاخ پہاڑیوں کے درمیان، جہاں ہوائیں برف سے گالوں کو چومتی ہیں اور آسمان اتنا قریب محسوس ہوتا ہے کہ ہاتھ بڑھاؤ تو نیلا رنگ چھو لو، وہاں ایک جادوئی وادی بسی ہے — وادیِ کیلاش۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں وقت سست چلتا ہے، پہاڑ کہانیاں سناتے ہیں، اور انسان صدیوں پرانی تہذیب کے سائے میں زندگی گزارتے ہیں۔
چترال کے جنوب مغرب میں تین چھوٹی مگر پراسرار وادیاں ہیں — بمبوریت، بریر اور رمبور۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں کیلاش قوم رہتی ہے۔ ان کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں، مگر ان کی تہذیب اتنی قدیم ہے کہ اس کے چرچے یونانی دیومالاؤں سے لے کر بدھ مت کی تاریخوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کیلاش کے لوگ سکندرِ اعظم کے فوجیوں کی اولاد ہیں۔ جب وہ ہندوستان کی مہم کے دوران یہاں سے گزرا، تو اس کے چند سپاہی انہی پہاڑوں میں رہ گئے — اور ان کی نسلوں نے اس وادی میں ایک نئی زندگی جنم دی۔ چاہے یہ روایت محض داستان ہی کیوں نہ ہو، مگر ان کے چہرے، نیلی آنکھیں اور سنہری بال دیکھ کر دل ماننے لگتا ہے کہ شاید اس میں کچھ سچ ضرور ہے۔
*کیلاش کی صبح*
کیلاش میں صبح ایک خاص منظر پیش کرتی ہے۔
جب سورج کی پہلی کرن برف پوش چوٹیوں سے اتر کر لکڑی کے گھروں کی چھتوں پر پڑتی ہے تو پورا گاؤں سنہری روشنی میں نہا جاتا ہے۔ عورتیں روایتی سیاہ کپڑے پہنے، جن پر رنگین دھاگوں سے پھول کڑھے ہوتے ہیں، دریا کے کنارے پانی بھرنے آتی ہیں۔ ان کے سر پر موتیوں اور شیشوں سے سجی پگڑیاں چمکتی ہیں۔ مرد لکڑی کے اوزار سنبھالے مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اور بچے پہاڑوں کی ڈھلانوں پر بھاگتے ہیں — جیسے خود ہوا ان کے پیچھے دوڑ رہی ہو۔
ان کے گھروں کی دیواریں پتھروں اور لکڑی سے بنی ہوتی ہیں، چھتیں نیچی اور کھڑکیاں چھوٹی۔ مگر ان گھروں کے اندر زندگی کا رنگ بھرپور ہے — قہقہے، گیت، اور لوک داستانیں جو آج بھی لوگوں پر عجب سا سحر طاری کر دیتی ہیں۔
کیلاش کے لوگ فطرت کے پجاری ہیں۔ ان کا مذہب قدیم دیوی دیوتاؤں پر مبنی ہے، جن میں سب سے اہم دیوتا بالومین ہے — جو فصلوں، بارش اور خوشحالی کا دیوتا مانا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک ہر پہاڑ، ہر درخت، اور ہر چشمہ ایک روح رکھتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پہاڑوں کی چوٹیاں خدا کے قریب ہیں، اور اسی لیے وہ مقدس ہیں۔
ان کا ایمان فطرت کے ساتھ توازن پر ہے۔ اگر بارش زیادہ ہو جائے تو وہ دعا نہیں، بلکہ دیوتا کے نام پر جشن مناتے ہیں تاکہ وہ ناراض نہ ہو۔ اگر سردی سخت ہو جائے تو آگ کے گرد بیٹھ کر کہانیاں سناتے ہیں تاکہ خوف کم ہو۔
ان کے مذہب میں خوشی عبادت ہے — اور غم ایک عارضی سایہ۔
کیلاش کے لوگ تین بڑے تہوار مناتے ہیں: چلم جوش، اوچل اور چاؤمس۔
ان تینوں میں زندگی کے مختلف رنگ جھلکتے ہیں۔
*چلم جوش — بہار کا استقبال*
مئی کے مہینے میں جب برف پگھلتی ہے اور پہاڑوں سے پھول جھانکنے لگتے ہیں، کیلاش کے لوگ بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ لڑکیاں نئے کپڑے پہنتی ہیں، بالوں میں پھول سجاتی ہیں، اور ڈھول کی تھاپ پر رقص شروع ہوتا ہے۔
یہ جشن رنگوں، محبت اور خوشبوؤں کا ہوتا ہے۔ جوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، بعض اوقات اسی موقع پر شادیاں طے ہو جاتی ہیں۔
ان کا یقین ہے کہ جو دل اس دن مسکرایا نہیں، وہ پورے سال خوشی سے محروم رہتا ہے۔
*اوچل — فصل کا جشن*
اگست میں جب کھیتوں میں اناج لہراتا ہے تو کیلاش کے لوگ زمین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وہ دودھ، مکھن، اور اناج قربان کرتے ہیں تاکہ دیوتا ان پر مہربان رہیں۔ گاؤں کے ہر گھر سے لوگ جمع ہو کر رقص کرتے ہیں، گیت گاتے ہیں، اور ایک دوسرے کو خوشی کی دعائیں دیتے ہیں۔
یہ ان کا تہوارِ شکرگزاری ہے، جہاں انسان، فطرت، اور دیوتا ایک ساتھ خوشی مناتے ہیں۔
*چاؤمس — سردیوں کا مقدس جشن*
دسمبر میں جب برف زمین کو سفید چادر اوڑھا دیتی ہے، تب چاؤمس کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ ان کا سب سے مقدس تہوار ہے۔
بارہ راتوں تک گاؤں کے مرد و زن آگ کے گرد بیٹھ کر گاتے ہیں، ناچتے ہیں، اور دیوتا کو نذرانے پیش کرتے ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ ان راتوں میں آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ کم ہو جاتا ہے، اور روحیں انسانوں کے قریب آ جاتی ہیں۔
چاؤمس وہ لمحہ ہے جب پورا گاؤں ایک دل کی طرح دھڑکتا ہے۔
[عورت کی عزت، محبت کی آزادی]
کیلاش کی عورت معاشرتی طور پر آزاد ہے۔ وہ اپنے لباس، شادی اور رائے کے بارے میں خود فیصلہ کرتی ہے۔ اگر وہ کسی سے محبت کر بیٹھے، تو اسے چھپانے کی ضرورت نہیں — وہ اپنی پسند کے مرد کے ساتھ بھاگ جاتی ہے، اور اگلے دن گاؤں کے لوگ اس جوڑے کی شادی کی خوشی میں جشن مناتے ہیں۔
یہ وہ معاشرہ ہے جہاں محبت گناہ نہیں، عبادت ہے۔
کیلاش کے لوگ موت کو بھی مسکراہٹ کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔
جب کوئی مر جائے تو وہ غم نہیں بلکہ جشن مناتے ہیں۔ ان کے نزدیک موت روح کی آزادی ہے۔ مردے کے کپڑے خوبصورت کیے جاتے ہیں، اس کے گرد رقص ہوتا ہے، گیت گائے جاتے ہیں، اور دوست و احباب اسے یاد کرتے ہوئے قہقہے لگاتے ہیں۔
یہ وہ قوم ہے جو غم کو خوشی میں بدلنے کا ہنر جانتی ہے۔
[زبان اور گیتوں کا جادو]
ان کی زبان کیلاشہ کہلاتی ہے — ایک نایاب بولی جو سنسکرت کے قدیم اثرات رکھتی ہے۔
ان کے گیت فطرت، محبت اور دیوتاؤں کے تذکرے سے بھرپور ہوتے ہیں۔
ایک مشہور گیت میں ایک لڑکی اپنے محبوب سے کہتی ہے:
“پہاڑوں کے پار نہ جا،
کہ وہاں سردی ہے،
میرے دل کی آگ تیرے لیے جلتی ہے۔”
کیلاش کی تہذیب صدیوں سے قائم ہے، مگر اب جدید دنیا اس کی خاموش سرزمین پر اپنے قدم رکھ چکی ہے۔
سڑکیں بن رہی ہیں، سیاح آ رہے ہیں، اور آہستہ آہستہ ان کے رسم و رواج میں تبدیلی آ رہی ہے۔
مگر ان کے دل اب بھی انہی دیوتاؤں کے سامنے جھکتے ہیں، وہی ڈھول بجاتے ہیں، وہی گیت گاتے ہیں جو ان کے آباء و اجداد گاتے تھے۔
وہ جانتے ہیں کہ اگر ان کی شناخت مٹ گئی تو ان کے پہاڑ بھی خاموش ہو جائیں گے۔
کیلاش کی وادی صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں — یہ زندگی کا ایک فلسفہ ہے۔
یہ سکھاتی ہے کہ انسان اور فطرت ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں، کہ خوشی عبادت ہے، اور کہ وقت کے گزرنے کے باوجود اگر انسان اپنے اندر کے رنگ محفوظ رکھے تو وہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
جب شام کے وقت کیلاش کی وادی پر سنہری روشنی بکھرتی ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے پہاڑ خود دعا کر رہے ہوں —
کہ یہ قوم، جو خوشی کو ایمان اور فطرت کو خدا مانتی ہے، ہمیشہ مسکراتی رہے۔
مستند حوالہ جات:
-
Pakistan’s Kalash: The Last Pagans of the Hindu Kush — National Geographic, 2018
-
The Kalasha: Their Culture and Traditions — Journal of Asian Studies, Vol. 74, 2019
-
UNESCO Intangible Heritage Report on the Kalash Valley, 2021
دلچسپ و عجیب تاریخ
![]()

